مہکتی کتابیں:
نام کتاب: اشکوں سے بھرا دامن، زخموں سے بھرا سینہ
مرتب: مولانا بدرالحسن قاسمی، کویت
صفحات: 88
ناشر: دارالعلوم زکریا، مرادآباد، یوپی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج پہلی بار کسی کتاب کا تعارف یا تبصرہ لکھتے ہوئے محسوس ہورہا ہے کہ انگلیاں جواب دے رہی ہیں، ہمت ساتھ چھوڑ رہی ہے، آنکھیں قلم کو روک رہی ہیں اور دل فیصلہ نہیں کر پارہا کہ لکھوں یا نہ لکھوں۔ لکھوں بھی تو کیا لکھوں؟ لختِ جگر کے بچھڑ جانے کا المیہ؟ دل کے دو لخت ہوجانے کا سانحہ؟ نورِ نظر کے بے نور ہوجانے کا المیہ؟ رفیقۂ حیات کی مفارقت کا داغ؟ یا اس ماں کی جدائی جس کی آغوش میں دنیا کا سب سے بڑا سکون ملا تھا اور آخرکار اسی ماں کو قبر کی آغوش میں اتارنا پڑا؟
یہ کتاب انہی تین عظیم رشتوں کے گرد گردش کرتی ہے: بیٹا، ماں اور بیوی۔
پہلا صدمہ جوان بیٹے کی موت کا ہے۔ وہ بیٹا جسے بوڑھے والدین نے اپنے بڑھاپے کی لاٹھی سمجھا ہو، اچانک انہیں زندگی کے اس موڑ پر چھوڑ گیا جہاں سہارا سب سے زیادہ درکار تھا۔ سوچتا ہوں، ان بوڑھے ہاتھوں پر کیا گزری ہوگی جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کے سر پہ سہرا اور گلے میں ہار کی بجائے اس کو قبر میں اتارا ہوگا، مٹی ڈالی ہوگی اور پھر دل کی کس کیفیت کے ساتھ خالی ہاتھ واپس لوٹے ہوں گے!
کسی شاعر نے ایسے ہی ایک باپ کے دل کی ترجمانی کی ہے:
سورج سرِ مژگاں ہے، اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
تو جانبِ صحرائے عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
جو پھول سجانے تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے
یہ چند اشعار اس کتاب کے کئی صفحات کا خلاصہ معلوم ہوتے ہیں۔
پھر ماں کی جدائی کا درد ہے۔ ماں جس کے قدموں تلے جنت تلاش کرنے والا بیٹا، ایک دن اسی ماں کو جنت کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی اپنی دنیا ویران ہوجاتی ہے۔ بے شک ماں بچے کی جنت ہے؛ اسی لیے جب یہ جنت چھن جاتی ہے تو بھری پری دنیا بھی میلے میں رہ جانے والے اس بچے کی طرح لگتی ہے جس کا ہاتھ اچانک کسی اپنے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہو۔
کتاب کا تیسرا اور شاید سب سے زیادہ ذاتی باب رفیقۂ حیات کی جدائی کا ہے۔ وہ شریکِ سفر جس نے جوان بیٹے کی جدائی کا کرب بھی سہا، اپنی والدہ کی رخصتی کا غم بھی جھیلا، رنج کے ساتھ زندگی کا سفر بھی طے کیا اور آخرکار ’’فادخلي في عبادي وادخلي جنتي‘‘ کی صدا پر اپنے رب کی طرف روانہ ہوگئیں۔
یوں یہ کتاب محض کسی ایک شخص کے غم کی داستان نہیں؛ یہ انسانی رشتوں کی پوری کائنات کا ماتمی سفر ہے۔
88 صفحات کا یہ مختصر سا کتابچہ اپنے اندر ایسا وسیع سمندر لیے ہوئے ہے کہ ہر صفحہ قاری کو درد کی ایک نئی لہر سے ٹکرا دیتا ہے۔ ہر پیراگراف دل کو چھوتا ہے، ہر واقعہ آنکھ نم کرتا ہے اور ہر یاد انسان کو اپنے کسی بچھڑے ہوئے عزیز کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
مولانا بدرالحسن قاسمی مدظلہ کا قلم یہاں موتی نہیں لٹاتا؛ وہ قاری کو اشک و خون کے سمندر میں لے جاتا، گھماتا اور پھر کسی خاموش ساحل پر تنہا چھوڑ دیتا ہے۔
یہاں جذباتی تعلق بھی ہے، قلبی محبت بھی، روحانی وابستگی بھی اور فطری رشتوں کا وہ رنگ بھی جو کسی مصنوعی تحریر میں پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف لکھ نہیں رہے، اپنا دل کھول کر رکھ رہے ہیں ۔
اگر آپ ماں ہیں تو اسے پڑھئے؛ شاید آپ کو معلوم ہو کہ اولاد کے دل میں ماں کی جگہ کتنی گہری ہوتی ہے۔
اگر آپ شوہر ہیں تو ضرور پڑھئے؛ رفاقت، محبت اور مفارقت کا وہ آہنگ ملے گا جو زندگی کی مصروفیت میں اکثر سنائی نہیں دیتا۔
اور اگر آپ بیٹے ہیں تو اسے ضرور پڑھئے؛ شاید صبر علی المصیبت کا مفہوم دل پر اترے اور ’’إنما الصبر عند الصدمة الأولى‘‘ صرف حدیث نہ رہے بلکہ زندگی کا سبق بن جائے۔
مجھے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوا کہ بعض کتابوں پر تبصرہ قلم سے نہیں، آنکھوں سے لکھا جاتا ہے۔
’’اشکوں سے بھرا دامن، زخموں سے بھرا سینہ‘‘۔ نام ہی کتنا دردناک ہے! ایک ہی عنوان میں اشک ہیں، جو دکھ اور کرب کا استعارہ ہیں؛ دامن ہے، جو ان اشکوں کو سمیٹنے اور پونچھنے کا کنایہ ہے؛ زخم ہے، جو براہِ راست درد اور اذیت کی تصویر دکھاتا ہے؛ اور سینہ ہے، جو ان تمام آلام و مصائب کا امین اور مرکز ہے۔ گویا عنوان کے چار لفظ نہیں، درد کی ایک پوری داستان ہے؛ آنکھ سے بہنے والے آنسو سے لے کر سینے میں چھپے ہوئے زخم تک، غم کی ایک ایسی تصویر جو کتاب کھولنے سے پہلے ہی قاری کے دل پر دستک دے دیتی ہے۔
اسے پڑھتے ہوئے کئی جگہ دل چاہتا ہے کہ کتاب بند کردی جائے، اپنے دامن سے اپنی آنکھیں پونچھ لی جائیں اور آدمی کچھ دیر خاموش بیٹھا رہے؛ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ نہیں، ان یادوں کو دوبارہ پڑھنا چاہیے۔ شاید ہماری بے وفا یادداشت انہیں بھولنے لگے۔ شاید آنے والی نسل کو معلوم ہی نہ ہو کہ ہمارے درمیان کیسے لوگ رہتے تھے۔ شاید کسی نوجوان کو ان صفحات میں کسی ایسے بزرگ، ماں، باپ، بیٹے یا رفیقۂ حیات کا تعارف مل جائے جس کا نام اس نے پہلے کبھی نہ سنا ہو۔
اس اعتبار سے یہ کتاب صرف اشکوں کا دامن نہیں، یادوں کی امانت بھی ہے۔
کچھ یادیں لکھی نہیں جاتیں، صرف بھیگی ہوئی آنکھوں سے پڑھی جاتی ہیں اور کچھ آنسو صرف دامن نہیں بھگوتے، انسان کے اندر چھپی ہوئی محبت کو بھی زندہ و جاوید کردیتے ہیں۔
(تئیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری سہ شنبہ بعد الفجر)