غیرت کی قبر پر معاشرہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے ؟
✍🏻 محمد پالن پوری
کیا عجیب زمانہ ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کسی اجنبی ہاتھ کا سہارا لے کر راہِ فرار اختیار کر رہی ہے اور اس کا باپ اپنی ہی بیٹی کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بے حسی کی چادر اوڑھے تماشائی بنا کھڑا ہے، گھروں کے اندر وہ تربیت جو کبھی ماں کی آغوش کی خوشبو تھی وہ موبائل کی اسکرین میں دفن ہو گئی، باپ کی شفقت جو کبھی غیرت اور حفاظت کا قلعہ تھی وہ معاشی دوڑ میں گھل کر بے وزنی بن گئی اور اسی غفلت کے سائے میں نئی نسل اپنی پہچان گم کر کے غلط محبت، نادان رشتوں اور وقتی دلکشی کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ شادی شدہ مرد اپنے جائز سائے کو چھوڑ کر حرام کی چھاؤں ڈھونڈتے ہیں اور عورتیں اپنی وفا کی مٹی کو غیر مرد کے قدموں میں بکھیرنے لگی ہیں اور معاشرہ تماشہ بنتا چلا جا رہا ہے جیسے روحیں مر گئیں ہوں اور جسم صرف چل رہے ہوں۔۔۔
ایسے میں ضروری ہے کہ والدین کو آئینہ دکھایا جائے کہ اولاد کی تربیت روٹی کپڑے اور پڑھائی کا نام نہیں بلکہ دن رات کے وہ لمحے ہیں جن میں باپ اپنی بیٹی کے دل میں حیا کی شمع روشن کرتا ہے اور ماں اپنے بیٹے کے اندر خوفِ خدا کا ستون گاڑتی ہے۔ اور جب یہ دونوں ستون گر جائیں تو نہ گھر باقی رہتا ہے نہ نسل۔۔ ضروری ہے کہ نوجوان بیٹیوں کو بتایا جائے کہ بے داغ جوانی وہ نہیں جو محبت کے فریب میں گزر جائے بلکہ وہ ہے جو اپنی چمک اللہ کی رضا کے لئے محفوظ رکھے۔ اور نوجوان لڑکوں کو سمجھایا جائے کہ طاقت بازو میں نہیں بلکہ نفس کو قدموں کے نیچے روندنے میں ہے۔۔اور شادی شدہ جوڑوں کو جگایا جائے کہ نکاح کے رشتے کا اصل حسن جسموں کے ملاپ میں نہیں بلکہ وفاداری، اعتماد، باہمی سکون اور اللہ کے خوف میں ہے۔۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ علماء اپنے منبروں کو صرف خطبوں کے نمائشی جواہرات نہ بنائیں بلکہ امت کی ٹوٹی ہوئی رگوں پر انگلی رکھ کر بتائیں کہ حیا فنا ہو چکی ہے، کردار مر رہا ہے، گھر ٹوٹ رہے ہیں، نسلیں بکھر رہی ہیں۔ اور اگر اب بھی نہ جاگا گیا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ ہماری بیٹیوں کے بھٹکنے پر آنسو بھی بے قیمت ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔
اس لئے اے والدین، اے علماء، اے نوجوانو، اے شادی شدہ مرد و عورتو! سب سن لو کہ وقت ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ آج اگر تم نے اپنی نسل کو اللہ کے حکم پر واپس نہ لایا تو کل وہ تمہیں قبر کی اندھیری رات میں روتا چھوڑ کر زمانے کی گود میں گم ہو جائیں گے اور تم صرف حسرتوں کے ملبے پر بیٹھے یہ سوچتے رہ جاؤ گے کہ ہم نے کب، کہاں، کس موڑ پر اپنی نسل کو کھو دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم محمد پالن پوری