بچوں اور بچیوں کا اختلاط
06 اکتوبر، 2026
اولاد کی تربیت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بچپن ہی سے بچوں اور بچیوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے۔ چھوٹے سمجھ کر اس معاملے میں سستی کرنا بالکل بھی مناسب نہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ».
’’اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں، اور دس سال کے ہوں تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو، اور ان کے بستر الگ کر دو۔‘‘ (سنن أبي داود : ٤٩٥)
علامہ ابن رسلان رحمہ اللہ (٨٤٤هـ) اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :
"أَيْ بَيْنَ الذُّكُورِ، وَأَمَّا التَّفْرِيقُ بَيْنَ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى فَهُوَ أَوْلَى، وَالْمُرَادُ بِالتَّفْرِيقِ أَنْ يَعْزِلَ فِرَاشَ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ."
’’اس سے مراد لڑکوں کو ایک دوسرے سے الگ سلانا ہے۔ رہا لڑکے اور لڑکی کو الگ کرنا، تو وہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ الگ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا بستر دوسرے سے جدا ہو۔‘‘ (شرح سنن أبي داود لابن رسلان : ٣/ ٣٦٤)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (٧٤هـ) بیان کرتے ہیں :
"قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ ﷺ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ."
’’عورتوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا : مرد آپ کے پاس ہم سے آگے رہتے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے ایک دن مقرر فرما دیں۔ آپ ﷺ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمایا، اس دن ان سے ملے، انہیں نصیحت کی اور احکام بتائے۔‘‘ (صحيح البخاري : ١٠١)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ."
’’رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو آپ کے سلام مکمل کرتے ہی عورتیں اٹھ کھڑی ہوتیں، اور آپ ﷺ اٹھنے سے پہلے تھوڑی دیر بیٹھے رہتے۔‘‘
اس حدیث کے راوی امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ (١٢٤هـ) فرماتے ہیں :
"فَأُرَى -وَاللَّهُ أَعْلَمُ- أَنَّ مُكْثَهُ لِكَيْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ."
’’واللہ أعلم میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ اس لیے ٹھہرتے تھے تاکہ عورتیں نکل جائیں، اس سے پہلے کہ واپس جانے والے مرد انہیں جا لیں۔‘‘ (صحيح البخاري : ٨٣٧)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے ایک دروازے کے بارے میں فرمایا :
«لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ».
’’اگر ہم یہ دروازہ عورتوں کے لیے چھوڑ دیں تو اچھا ہو۔‘‘
اس حدیث کے راوی امام نافع رحمہ اللہ (١١٧هـ) بیان کرتے ہیں :
"فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ."
’’پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما وفات تک کبھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوئے۔‘‘ (سنن أبي داود : ٤٦٢ والموقوف أصح)
امام محمد بن سحنون مالکی رحمہ اللہ (٢٥٦هـ) فرماتے ہیں :
"وَأَكْرَهُ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ يُعَلِّمَ الْجَوَارِيَ. قَالَ: وَلَا يَخْلِطُهُنَّ مَعَ الْغِلْمَانِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ فَسَادٌ لَهُمْ."
’میں معلم کے لیے بچیوں کو پڑھانا ناپسند کرتا ہوں۔ وہ انہیں لڑکوں کے ساتھ نہ ملائے، کیونکہ اس میں ان کا بگاڑ ہے۔‘ (آداب المعلمين لابن سحنون، صـ ١١٧)
علامہ ابو الحسن قابسی رحمہ اللہ (٤٠٣هـ) معلمین کے احکام پر اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :
"وَمِنْ حُسْنِ النَّظَرِ التَّفْرِيقُ بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ.
بچوں کی اچھی نگہداشت میں شامل ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ رکھا جائے۔ (منح الجليل لعليش : ٧/ ٤٧٩)
اس پر علامہ ابن عرفہ مالکی رحمہ اللہ (٨٠٣هـ) فرماتے ہیں :
"مَنْ بَلَغَ حَدَّ التَّفْرِقَةِ فِي الْمَضْجَعِ فَوَاجِبٌ تَفْرِيقُهُ مِنْهُمْ.جو بچہ اس عمر کو پہنچ جائے جس میں بستر الگ کیے جاتے ہیں، اسے ان سے الگ کرنا واجب ہے (المختصر الفقهي لابن عرفة ٨/٢٠٩)
علامہ قابسی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں
وَيُحْتَرَزُ مِمَّنْ يُخَافُ فَسَادُهُ عَلَى الصِّبْيَانِ مِمَّنْ قَارَبَ الْحُلُمَ، أَوْ كَانَ ذَا جُرْأَةٍ."
’’جو لڑکا بلوغت کے قریب ہو یا بے باک ہو اور اس سے دوسرے بچوں کے بگڑنے کا اندیشہ ہو، اس سے بچا جائے۔
اس پر علامہ ابن عرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"الصَّوَابُ فِي هَذَا مَنْعُ تَعْلِيمِهِ مَعَهُمْ."
’’صحیح یہ ہے کہ ایسے لڑکے کو ان کے ساتھ پڑھنے ہی نہ دیا جائے۔‘‘ (المختصر الفقهي لابن عرفة : ٨/٢٠٩، منح الجليل لعليش : ٧/ ٤٧٩)
امام ابو بکر بن ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابراہیم حربی رحمہ اللہ (٢٨٥هـ) کو فرماتے سنا :
"جَنِّبُوا أَوْلَادَكُمْ قُرَنَاءَ السُّوءِ قَبْلَ أَنْ تَصْبِغُوهُمْ فِي الْبَلَاءِ كَمَا يُصْبَغُ الثَّوْبُ."
’’اپنی اولاد کو برے ساتھیوں سے بچاؤ، اس سے پہلے کہ تم انہیں آزمائش میں اس طرح رنگ دو جیسے کپڑا رنگا جاتا ہے۔
اور فرمایا :
أَوَّلُ فَسَادِ الصِّبْيَانِ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ
بچوں کا پہلا بگاڑ ایک دوسرے ہی سے آتا ہے‘ (ذم الهوى لابن الجوزي، صـ ١١٦)
محمد مرسلین امبیڈکرنگر ی