"استاد کا احترام" 

> استاد دنیا کا وہ ہرا بھرا گلدستہ ہے جس میں ہر طرح کا پھول موجود ہوتا ہے، وہ پھول اپنے دیکھنے والے کو ایک مسرت بھری خوشی دیتے ہیں۔
> استاد کے سائے تلے رہنے والے ایسے عظیم لوگ بنتے ہیں جیسے ستاروں کے جھرمٹ میں چاند۔
> اور کیا بتاؤں میں کہ استاد کی کیا حقیقت ہے اور استاد کے احترام سے انسان کہاں تک جا سکتا ہے، اس کے لیے ہمیں کوئی دور نگاہیں جمانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال موجود ہے جن سے آج پوری دنیا فیض حاصل کرتی ہے، وہ شخصیات کون تھیں جنہوں نے استاد کو استاد جانا اور کماحقہ اس کا حق ادا کر دیا اور پھر دنیا و آخرت میں وہ کن بلندیوں تک پہنچ گئیں۔ یہ سوال تو ہے لیکن جب آپ اس سوال کا جواب تلاش کرنے لگیں گے تو آپ کو جواب میں استاد کی صورت میں کائنات کی عظیم ترین ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئیں گے اور شاگردوں کو تلاش کریں گے تو آپ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وہ گروہ سامنے آئے گا جن کی ہر ایک ادا کو قرآن نے بیان کیا ہے۔
> اس مرتبے کی وجہ جب آپ تلاش کرنے لگ جائیں تو آپ کو وہ ان عظیم شاگردوں کے اپنے عظیم استاد کے احترام کی صورت میں نظر آئے گی۔
> ہمیں اپنے استاد کا احترام کرنے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ اس کے ہر قول و فعل کو اپنی زندگی میں لا کر اس پر عمل کریں۔
(بقلم فیضی)