« لڑکا ماموں کے اور اور لڑکی چچا کے مشابہ کیوں ہوتی ہے »
جب کوئی عورت بچہ پیدا کرتی ہے تو *Oxytocin* ہارمون متحرک ہو جاتا ہے اسے `*Love Hormone*` بھی کہا جاتا ہے
کیونکہ یہ ماں اور بچے میں محبتِ خالص کا جذبہ پیدا کرتا ہے
لوگ اسی ہارمون کے بارے کہتے ہیں کہ یہ درد کی شدت پہ غالب آ جاتا ہے
ورنہ بچہ پیدا کرنے کی تکلیف عورت کو دوبارہ جماع سے روکتی ہے
علماءِ اسلام نے فرمایا
*دردِ زہ* میں عورت موت کے قریب سے ہو کے آتی ہے اور پکے ارادے کرتی ہے کہ آئندہ جماع ہی نہیں کرے گی تاکہ بچہ پیدا کرنے کی تکلیف سے بچ سکے مگر اس اللہ رب العزت نے اس میں مرد سے زیادہ شہوت رکھی ہے وہ پھر جماع میں پڑ جاتی ہے
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا > فضلت المرأة على الرجل بتسعة وتسعين جزءا من اللذة ولكن الله تعالى ألقى عليهن الحياء
عورت کو مرد سے نناوے گنا زیادہ شہوت دی گئی ہے مگر اللہ رب العزت نے ان پر حیاء کی چادر ڈال دی ہے
« *کنز العمال ج ١٦ ص ٣٤٥* »
یہ نظامِ فطرت ہے کہ بچہ پیدا کرنے میں عورت موت کا منہ دیکھ کے آئندہ جماع سے باز رہنے کے پکے ارادے کرتی ہے مگر *محبت کا ہارمون* اسے وہ درد آہستہ آہستہ بھلا دیتا ہے اور `مرد سے نناوے گنا زیادہ شہوت` پھر مرد کے قریب لے آتی ہے اور حیاء غیر مرد کے قریب جانے سے روکتی ہے
عورت پر حیاء کی چادر ہوتی ہے اور یہ اپنے شوہر کے سامنے ہی اتارتی ہے
قرآن کریم نے فرمایا > هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ
وہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم مرد ان کا لباس ہو
عورت حیاء کا لباس پہنتی ہے جب اتارتی ہے تو _طوائفہ_ بن جاتی ہے اور مرد غیرت کا لباس پہنتا ہے جب اتارتا ہے تو _دیوث_ بن جاتا ہے
عورت میں اپنا آپ دکھانے کی شہوت ہوتی ہے`
نامحرم کے سامنے جتنا ظاہر کرتی ہے اصل میں اسے اتنا اپنا آپ دکھانا چاہتی ہے
*شرعی پردہ* کرنے والیاں بال تک ظاہر نہیں کرتیں کیونکہ وہ نامحرم کو کچھ نہیں دکھانا چاہتی
الغرض عورت جماع تبھی کرتی ہے جب حیاء کی چادر اتار دے خواہ شوہر کے سامنے اتارے یا غیر کے سامنے اتارے
*شوہر کے سامنے پردے اتار کے بھی کبھی دردِ زہ کی یاد یا کسی اور وجہ سے شہوت کم ہو جائے تو اس صورت میں جماع کرے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے*
قدیم اھلِ عرب کے ہاں مشہور تھا کہ جب مرد کی منی غالب اور عورت کی منی مغلوب ہو جائے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے
اسی وجہ سے وہ عورت کو ڈراتے دھمکاتے عورت کی اسی کیفیت میں اس سے جماع کرتے تو لڑکا پیدا ہوتا
کیونکہ رغبت نہ ہونے کی صورت میں عورت کی منی مغلوب ہوتی ہے اور مرد کی منی غالب یوں لڑکا پیدا ہوتا ہے
`مسلم شریف` کی حدیثِ مبارکہ میں ہے> إذا علا ماء الرجل ماء المرأة أشبه أعمامه وإذا علا ماء المرأة ماء الرجل أشبه أخواله
جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا
اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو بچہ ماموں کے مشابہ ہوگا
*مسلم شریف* کی دوسری حدیثِ مبارکہ میں ہے> ماء الرجل أبيض وماء المرأة أصفر فإذا اجتمعا فعلا مني الرجل مني المرأة أذكرا بإذن الله وإذا علا مني المرأة مني الرجل أنثا بإذن الله
مرد کی منی سفید رنگ اور عورت کی منی زرد رنگ کی ہوتی ہے
تو جب دونوں منی جمع ہونے میں مرد کی منی غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے
اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں> إذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ أَنَّثَا
جب مرد کی منی عورت کی منی پر سبقت کرے تو اسے لڑکا کر دیتی ہیں
اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر سبقت کر جائے تو اسے لڑکی کر دیتی ہیں
`بظاہر یہ تعارض و اختلاف لگتا ہے کہ اگر مرد کی منی غالب آئی ہے تو لڑکا ماموں کے مشابہ کیسے ہوگیا ؟` حالانکہ دوسری روایت میں ہے کہ عورت کی منی غالب آئے تو لڑکی پیدا ہوتی ہے
یہاں یہ کیسے ہو گیا ہے کہ مرد کی منی غالب آئی تو لڑکا ہوا عورت کی منی غالب آئی تو لڑکا ماموں کے مشابہ ہو گیا ؟
اس کا جواب
`امام ابوبکر ابن العربی` احکام القرآن میں دیتے ہوئے فرماتے ہیں
یہاں چار صورتیں بنتی ہیں
(1) لڑکا چچا کے مشابہ ہو
(2) لڑکی ماموں کے مشابہ ہو
(3) لڑکا ماموں کے مشابہ ہو
(4) لڑکی لڑکی چچا کے مشابہ ہو
*سَبَقَ* کا معنی منی کا پہلے نکلنا اور *غَلَبَ* کا معنی کثیر ہونا ہے
{1} جب مرد کی منی پہلے نکلے اور عورت کی بعد میں نکلے اور مرد کی منی سے کم ہو تو لڑکا ہوگا اور اپنے چچا کے مشابہ ہوگا کیونکہ اس خاندان کے اجزاء زیادہ ہیں
{2} اگر عورت کی منی پہلے نکلے اور مرد کی بعد میں نکلے اور مرد کی منی کم ہو تو لڑکی پیدا ہوگی اور اپنے ماموں کے مشابہ ہوگی
لڑکی ہوگی کیونکہ عورت کی منی پہلے خارج ہوئی
اور ماموں کے مشابہ ہوگی کیونکہ عورت کی منی زیادہ تھی
{3} اگر مرد کی منی پہلے نکلے اور عورت کی بعد میں خارج ہو مگر عورت کی منی زیادہ ہو تو لڑکا ہوگا اور اپنے ماموں کے مشابہ ہوگا
لڑکا تو یوں کہ مرد کی منی پہلے خارج ہوئی اور ماموں کے مشابہ یوں کہ عورت کی منی کثیر تھی
{4} اگر عورت کی منی پہلے خارج ہو اور مرد کی بعد میں مگر مرد کی منی زیادہ ہو تو لڑکی پیدا ہوگی مگر چچا کے مشابہ ہوگی
« *أحكام القرآن لابن العربي ج ٤ ص ٩٧* »
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
اھلِ عرب لڑکے کا ماموں کے مشابہ ہونے کو برا جانتے تھے
شاید اسی وجہ سے کہ عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب کیوں ہوا ہے
بہر حال اولاد کی محبت ماں کو *دردِ زہ* کی تکالیف بھلا دیتی ہے مگر بڑھاپے میں بیوی کے آنے پر جو بچہ ماں کو چھوڑتا ہے وہ دردِ زہ سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے
ماں آپ سے اتنی محبت کرتی ہے کہ موت کا منہ دیکھ کر بھی آپ کے لیئے جیتی ہے اور آپ اسی ماں کو موت بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیں تو آپ کی اولاد بھی یہی کرے گی