"ترکِ تقلید دروازۂ الحاد ہے"
ایک عام شخص کے لیے تقلید ترک کرنا بہت بڑی گمراہی کا سبب ہے، کیونکہ جب کوئی شخص اس گندگی میں ڈوب جائے تو وہ کبھی صاف نہیں رہتا بلکہ اسی گندگی میں مزید ترقی کرتا جاتا ہے۔
ترکِ تقلید کے متعلق اعلام الموقعین جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 574 میں علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
"في مسائل من العلم لم يظفروا فيها بنص عن الله ورسوله ولم يجدوا فيها سوى قول من هو أعلم منهم فقلدوه وهذا هو الواجب"
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عام بندے پر کسی کی تقلید کرنا واجب ہے۔ اور یہ کون کہہ رہے ہیں؟ علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ، جو اپنے آپ کو عوام میں شمار کر کے تقلید کو واجب سمجھتے ہیں، تو آج کل ہم جیسوں کی کیا حیثیت ہے؟
اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ حلال و حرام کے بارے میں فتویٰ کون دے سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کو ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ اور اسی طرح اپنے وقت کے تمام علماء کے اختلافات کا علم ہو، اور جتنا علم اسے حدیث کا ہو اتنا ہی قرآن کا بھی ہو۔
اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہر کوئی خود مجتہد بن کر فتوے دے رہا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دین ہم تک عقل کی مدد سے نہیں بلکہ نقل سے پہنچا ہے، اور یہ بات بالاتفاق ہے کہ علومِ نقلیہ تقلید کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔
آخر میں ان لوگوں سے یہ گزارش کروں گا کہ اللہ کے لیے کیوں اپنی آخرت کو برباد کر رہے ہو؟ ذرا ہوش سے کام لو۔
تحریر: اعجاز الحق فیضی