تحریر:
قاری محبوب الحسن مظفرنگری
ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ملک نے اقتصادی ترقی کے کئی میدانوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، بنیادی ڈھانچے میں توسیع ہوئی، ڈیجیٹل معیشت نے تیزی سے قدم بڑھائے اور عالمی سطح پر ہندوستان کی معاشی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ لیکن ان کامیابیوں کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی مجموعی معاشی ترقی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں مہنگائی، روزگار، آمدنی اور گھریلو اخراجات کا دباؤ ایک سنجیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔
معیشت کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کا اصل پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس ترقی کے ثمرات عام شہری تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔ اگر قومی آمدنی میں اضافہ ہو، لیکن ایک متوسط یا غریب خاندان کے لیے گھر کا بجٹ چلانا مشکل ہوتا جائے، تو معاشی ترقی کے ثمرات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
مہنگائی اور گھریلو بجٹ کا دباؤ
آج عام خاندان کی سب سے بڑی تشویش روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں ہیں۔ خوراک، تعلیم، علاج، بجلی، سفر، مکان کا کرایہ اور دیگر ضروریات پر ہونے والے اخراجات نے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ کم آمدنی والے خاندان کے لیے آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہوجاتا ہے، جبکہ متوسط طبقہ بھی بچت اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے معاملے میں دباؤ محسوس کرتا ہے۔
مہنگائی صرف بازار میں قیمت بڑھنے کا نام نہیں؛ اس کے اثرات پورے معاشرتی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔ جب ایک خاندان خوراک، تعلیم یا علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی دوسری ضروریات کم کرتا ہے تو اس کا اثر معیارِ زندگی پر پڑتا ہے۔
روزگار کا سوال
ہندوستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں مناسب تعلیم، ہنر اور باعزت روزگار کے مواقع حاصل ہوں۔
صرف ڈگریاں حاصل کرلینا روزگار کی ضمانت نہیں۔ آج ضرورت ایسی تعلیم اور تربیت کی ہے جو صنعت، تجارت، ٹیکنالوجی، زراعت اور خدمات کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور صنعتی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
روزگار کا مسئلہ صرف بے روزگاری کا مسئلہ نہیں بلکہ مستقل، باعزت اور مناسب آمدنی والے روزگار کا مسئلہ بھی ہے۔ نوجوان اگر تعلیم مکمل کرنے کے بعد برسوں غیر یقینی حالات میں رہیں تو اس کا اثر ان کے خاندان اور معاشرے دونوں پر پڑتا ہے۔
کسان اور چھوٹا کاروبار
ہندوستان کی اقتصادی بنیاد میں کسان، چھوٹے دکاندار، دستکار، مزدور اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کا اہم کردار ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی لاگت، بازار کے اتار چڑھاؤ، قرض اور مسابقت کے دباؤ نے ان طبقات کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔
کسان کے لیے بیج، کھاد، بجلی، آب پاشی اور مزدوری کے اخراجات اہم ہیں، جبکہ اسے اپنی پیداوار کی مناسب قیمت بھی درکار ہے۔ اسی طرح چھوٹے تاجر اور کاروباری افراد کے لیے سرمایہ، کرایہ، بجلی، ٹیکس، آن لائن مسابقت اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات نئے چیلنج بن چکے ہیں۔
اگر ملک کی اقتصادی ترقی کو وسیع بنیاد فراہم کرنی ہے تو چھوٹے کاروبار اور مقامی معیشت کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔
متوسط طبقہ کہاں کھڑا ہے؟
معاشی بحث میں متوسط طبقہ اکثر خاموش اکثریت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس طبقے کی آمدنی غریب طبقے کی طرح کم نہیں ہوتی، لیکن اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ بچت کرنا اور مستقبل کے لیے سرمایہ جمع کرنا آسان نہیں رہا۔
بچوں کی تعلیم، علاج، گھر، سفر، بجلی، روزمرہ اشیا اور دیگر ضروری اخراجات کے بعد خاندان کے پاس جو رقم بچتی ہے، وہ مستقبل کی ضروریات کے مقابلے میں کم محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے معاشی پالیسی بناتے وقت متوسط طبقے کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ترقی کا فائدہ آخری آدمی تک
ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ ملک نے بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سڑکوں، ریلوے اور مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ لیکن ترقی اس وقت زیادہ بامعنی ہوگی جب اس کا فائدہ معاشرے کے آخری فرد تک پہنچے۔
ایک مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جہاں سرمایہ کاری کے ساتھ روزگار بھی پیدا ہو، صنعت کے ساتھ چھوٹا کاروبار بھی بڑھے، شہروں کے ساتھ دیہات بھی ترقی کریں، اور قومی ترقی کے ساتھ عام شہری کی قوتِ خرید اور معیارِ زندگی میں بھی بہتری آئے۔
راستہ کیا ہے؟
معاشی مسائل کا کوئی فوری یا ایک نکاتی حل نہیں۔ اس کے لیے طویل مدتی اور متوازن پالیسی کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور ہنرمندی کو روزگار سے جوڑنا، چھوٹے کاروبار کو آسان قرض اور بہتر سہولتیں فراہم کرنا، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا، صحت اور تعلیم کے اخراجات کو قابلِ برداشت بنانا اور روزگار پیدا کرنے والی صنعتوں کو فروغ دینا اس سمت میں اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔
ساتھ ہی شہریوں میں مالیاتی شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ آمدنی کے مطابق اخراجات، غیر ضروری قرض سے احتیاط، بچت کی عادت اور قانونی و مالی سہولتوں سے واقفیت بھی گھریلو معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔
امید باقی ہے
ہندوستان کے پاس نوجوان آبادی، وسیع مارکیٹ، زرعی صلاحیت، صنعتی امکانات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات زیادہ وسیع اور منصفانہ انداز میں عام لوگوں تک پہنچیں۔
معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں؛ معیشت دراصل کروڑوں خاندانوں کی زندگی، ان کے روزگار، ان کی آمدنی، ان کی ضروریات اور ان کے مستقبل کا نام ہے۔ ہندوستان کو اگر ایک مضبوط اور خوش حال اقتصادی طاقت بننا ہے تو ترقی کی رفتار کے ساتھ اس کی سمت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
آج کا ہندوستان معاشی چیلنجوں سے ضرور جوجھ رہا ہے، لیکن اس کے امکانات بھی کم نہیں۔ اگر پالیسی سازی میں عام آدمی، کسان، مزدور، نوجوان، متوسط طبقہ اور چھوٹے کاروبار کو مرکزِ توجہ بنایا جائے تو یہی چیلنج مستقبل میں ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ ضرورت مایوسی کی نہیں، بلکہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی، شفاف نظام، محنت اور اجتماعی ذمہ داری کی ہے۔