خلافتِ راشدہ کا ایک نمونہ
خلافتِ راشدہ کا ایک نمونہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تھے جو سراسر عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم تھے، اور کیوں نہ ہوتے، آخر وہ کس نسب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پوتے عاصم بن عمر کی بیٹی تھیں۔
ان کے والد عبد العزیز بن مروان، عبد الملک بن مروان کے بعد خلیفہ بننے والے تھے، لیکن ان کا انتقال عبد الملک بن مروان کی زندگی میں ہی ہو گیا۔ اس وقت عمر بن عبد العزیز مدینہ میں ہی مقیم تھے تو عبد الملک بن مروان نے ان کو اپنے پاس دمشق بلا لیا اور اپنی بیٹی فاطمہ کا رشتہ ان سے کر دیا۔
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ منصبِ خلافت پر فائز ہونے سے پہلے بہت پرتکلف اور قیمتی لباس پہنتے تھے اور جب خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔
جب عبد الملک بن مروان کے انتقال کے بعد ولید خلیفہ بنا تو کسی نے حجاج کے متعلق عمر بن عبد العزیز کی شکایت کی، کیونکہ اس وقت مدینہ میں حجاج کی تمام ذمہ داریاں ان کے سپرد تھیں۔ اس پر ولید نے عمر بن عبد العزیز کو معزول کر دیا۔
جب ولید نے ارادہ کیا کہ اپنے بھائی سلیمان کو ولی عہدی سے معزول کر کے اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کرے تو اس ارادے کی سب سے زیادہ مخالفت عمر بن عبد العزیز نے کی۔ اس پر ولید نے انہیں شام بلا کر قید کر دیا، پھر کسی کی سفارش سے وہ رہا ہو گئے۔
چنانچہ اسی وجہ سے سلیمان بن عبد الملک ان کا بہت احسان مند تھا اور مرتے وقت عمر بن عبد العزیز کے بارے میں وصیت لکھ دی کہ میرے بعد خلیفہ یہ ہوں گے۔
جب آپ خلیفہ مقرر ہو گئے تو آپ نے اپنی رعایا کو مخاطب کر کے یہ چند باتیں عرض کیں:
*"(حمد و ثناء کے بعد) لوگو! قرآن شریف کے بعد کوئی کتاب ایسی نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں۔ میں کسی نئی چیز کو شروع کرنے والا نہیں ہوں، میں مبتدع نہیں بلکہ متبع ہوں۔ میں کسی حال میں تم سے بہتر نہیں ہوں، البتہ میرا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ جو شخص ظالم بادشاہ سے بھاگ جائے وہ ظالم نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھو! کہ احکامِ الہی کے علاوہ کسی کی اطاعت جائز نہیں۔"*
جب آپ سلیمان بن عبد الملک کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر گھر آ رہے تھے تو آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی اور آپ بہت غمگین تھے۔ آپ کے غلام نے پوچھا کہ آپ اتنے غمگین کیوں ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میری گردن پر امتِ محمدیہ کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، ننگے، بھوکے، پیاسے اور قیدی سب مجھ سے آس لگائے بیٹھے ہیں تو کیا میں غمگین نہ ہو جاؤں۔
آپ نے اپنی بیوی فاطمہ سے کہا کہ اپنے سارے زیورات بیت المال میں داخل کر دو، چنانچہ انہوں نے اپنے سارے زیورات بیت المال میں داخل کر دیے۔ اور آج کے حکمران اپنی بیویوں سے کہتے ہیں کہ سب کچھ بیت المال سے نکال کر اپنی تجوری میں محفوظ کر لو۔
افسوس! ہمیں اپنے اکابرین کی زندگی اور سیاست کو ملحوظ رکھ کر قدم رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں عمر بن عبد العزیز جیسے صفات والا حکمران
نصیب فرمائے۔ آمین۔
( تحریر اعجاز الحق فیضی)