خوارج اسلام کے ابتدائی دور میں پیدا ہونے والا ایک مشہور فرقہ ہے۔ اس فرقے کا ظہور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں ہوا۔ خوارج کا لفظ خارج کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں: نکلنے والے۔ چونکہ یہ لوگ مسلمانوں کی جماعت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوگئے تھے، اس لیے انہیں خوارج کہا گیا۔

خوارج کا ظہور جنگِ صفین کے بعد ہوا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ ہوئی اور دونوں طرف سے تحکیم کا معاملہ پیش آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں موجود ایک گروہ نے اس پر اعتراض کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوگیا۔ انہوں نے یہ نعرہ لگایا

﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾

ترجمہ: حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ (سورۃ یوسف: 40)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے اس جملے کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات حق ہے، لیکن اس سے باطل مقصد لیا جا رہا ہے۔ (صحیح مسلم: 1066)

یہ لوگ حروراء کے مقام پر جمع ہوئے، اسی وجہ سے انہیں حروریہ بھی کہا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے گفتگو کی اور ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک گروہ اپنی بات پر قائم رہا۔ بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف قتال شروع کیا۔

خوارج کا سب سے نمایاں عقیدہ یہ تھا کہ جو شخص کبیرہ گناہ کرے وہ کافر ہوجاتا ہے۔ ان کے نزدیک ایمان اور عمل کا تعلق اس طرح تھا کہ بڑے گناہ کا ارتکاب کرنے والا اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بہت سے مسلمانوں کو کافر قرار دینے لگے۔

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ اس کے برخلاف ہے۔ اہل سنت کے نزدیک اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے تو صرف اس گناہ کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، جب تک اس کے قول یا عمل سے کفر ثابت نہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾

ترجمہ: بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ (سورۃ النساء: 48)

خوارج کی ایک بڑی خرابی مسلمانوں کی تکفیر میں جلد بازی تھی۔ وہ اپنے مخالف مسلمانوں کو معمولی اختلاف یا گناہ کی وجہ سے بھی کافر قرار دیتے تھے۔ حالانکہ کسی مسلمان کو کافر کہنا بہت بڑا معاملہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»

ترجمہ: جب کوئی شخص اپنے بھائی سے کہتا ہے: اے کافر! تو یہ بات دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹتی ہے۔ (صحیح البخاری: 6104، صحیح مسلم: 60)

خوارج کی ایک اور نمایاں صفت یہ تھی کہ وہ قرآن و حدیث کی نصوص کو اپنی مرضی کے مطابق سمجھتے تھے۔ وہ قرآن پڑھتے تھے اور اپنی بات کے لیے قرآن کی آیات پیش کرتے تھے، لیکن ان آیات کا صحیح مفہوم اور ان کا مکمل پس منظر نہیں سمجھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:

«يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ»

ترجمہ: وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ (صحیح البخاری: 6930، صحیح مسلم: 1064)

خوارج بظاہر بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ ان کی نماز، روزہ اور تلاوت کو دیکھ کر عام مسلمان اپنی عبادت کو کم سمجھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ»

ترجمہ: تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں کم سمجھے گا۔ (صحیح مسلم: 1064)

اس سے معلوم ہوا کہ صرف زیادہ عبادت کرنا کافی نہیں، بلکہ صحیح عقیدہ اور صحیح علم بھی ضروری ہے۔ اگر علم صحیح نہ ہو تو انسان عبادت کے باوجود غلط راستے پر جاسکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے خوارج کی ایک اور علامت یہ بیان فرمائی:

«يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ»

ترجمہ: وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔ (صحیح البخاری: 6930، صحیح مسلم: 1064)

خوارج کی شدت پسندی اس وقت اور زیادہ خطرناک ہوگئی جب انہوں نے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائی۔ وہ اپنے مخالف مسلمانوں کو کافر سمجھ کر ان کے قتل کو جائز سمجھنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:

«يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ»

ترجمہ: وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ (صحیح البخاری: 3344)

یہ خوارج کی سب سے خطرناک خصوصیات میں سے تھی کہ ان کی دشمنی مسلمانوں ہی کے ساتھ زیادہ ہوگئی تھی۔ اسلام نے مسلمان کے خون، مال اور عزت کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ»

ترجمہ: بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں۔ (صحیح البخاری: 67، صحیح مسلم: 1679)

خوارج کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

«حُدَّاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ»

ترجمہ: وہ کم عمر اور کم عقل ہوں گے۔ (صحیح البخاری: 6930، صحیح مسلم: 1066)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوارج میں ظاہری عبادت اور دینی باتوں کا اہتمام تو بہت تھا، لیکن ان کے اندر دین کی صحیح سمجھ اور اعتدال نہیں تھا۔

خوارج صرف ایک گروہ نہیں رہے بلکہ بعد میں ان کے اندر بہت سے فرقے پیدا ہوگئے۔ ان میں ازارقہ، نجدات، صفریہ اور اباضیہ وغیرہ مشہور ہیں۔ ان فرقوں کے عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف بھی تھا، اس لیے تمام خوارج کے ہر عقیدے کو ایک ہی طرح بیان کرنا درست نہیں۔ فرقہ ازارقہ نافع بن ازرق کی طرف منسوب تھا اور یہ خوارج کے انتہائی سخت گروہوں میں شمار ہوتا ہے۔ نجدات نجدة بن عامر کی طرف منسوب تھے، جبکہ صفریہ بھی خوارج کا ایک معروف گروہ تھا۔

اباضیہ کا تعلق بھی تاریخی طور پر خوارج کے ابتدائی ماحول سے بیان کیا جاتا ہے، لیکن موجودہ زمانے کے اباضی مسلمانوں کے تمام عقائد کو قدیم خوارج کے انتہائی نظریات کے برابر قرار دینا درست نہیں۔ اس لیے قدیم خوارج اور موجودہ اباضیہ کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے۔

خوارج کا حکمرانوں کے بارے میں بھی ایک سخت نظریہ تھا۔ وہ حکمرانوں کی بعض غلطیوں یا گناہوں کی بنیاد پر ان کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے تھے۔ ان کا یہ طریقہ مسلمانوں کے اندر فتنہ اور انتشار کا سبب بنا۔ اہل سنت والجماعت نے اس مسئلے میں قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو سامنے رکھا اور مسلمانوں کے اجتماعی نظم، اتحاد اور فتنہ سے بچنے پر زور دیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے ساتھ پہلے گفتگو اور اصلاح کا راستہ اختیار کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی ان سے مناظرہ اور گفتگو کے لیے گئے۔ بہت سے لوگ واپس آگئے، لیکن جو لوگ اپنی شدت پسندی پر قائم رہے، ان کے ساتھ بعد میں جنگِ نہروان پیش آئی۔ خوارج کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ علامات کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کیا ہے۔ (صحیح مسلم: 1064)

خوارج کے فتنے سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ دین کو صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ قرآن و حدیث کو صحیح طریقے سے سمجھنا چاہیے۔ ہر آیت یا حدیث کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا درست نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ تکفیر بہت بڑا شرعی حکم ہے اور اس کے لیے واضح دلیل اور شرعی اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ دین میں غلو سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا۔ (سورۃ البقرۃ: 143)

چوتھی بات یہ ہے کہ دینی مسائل میں اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔ صرف اپنی سمجھ یا چند آیات و احادیث پڑھ کر بڑے شرعی فیصلے کرنا درست نہیں۔

پانچویں بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے خون اور مال کی حرمت کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔ اختلاف کی صورت میں اصلاح، حکمت اور دلیل کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ نفرت، تکفیر اور خونریزی کا۔

خلاصہ یہ ہے کہ خوارج کا فتنہ اسلام کی تاریخ کا ایک اہم فتنہ ہے۔ ان کے اندر غلو، شدت، تکفیر میں جلد بازی، کبیرہ گناہ کے مرتکب کی تکفیر اور مسلمانوں کے خلاف قتال جیسی خرابیاں پیدا ہوئیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث میں اس فتنے سے پہلے ہی امت کو خبردار کردیا تھا۔ (صحیح البخاری: 6930، صحیح مسلم: 1064)

اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھے، اہل علم سے رہنمائی لے، دین میں غلو سے بچے، تکفیر میں احتیاط کرے اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہی اعتدال اور صحیح دینی طریقہ ہے۔

طالب دعا🖋️:عبد الرحیم ہاشم سراجی