حسرت:

تمام عمر رہی آرزو زیارت کی

(ناصرالدین مظاہری)

کچھ اہل علم و قلم ایسے ہیں جن کی کتابیں طالب علمی کے زمانے میں خوب پڑھیں، ان کا زمانہ بھی ملا، مگر ملاقات و زیارت کی سعادت نہ مل سکی۔ ان میں بعض ایسے تھے جن کی تحریروں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، بعض نے اسلوب کا ذوق دیا، بعض نے تحقیق و مطالعہ کی راہیں دکھائیں۔ آج ماضی کے اوراق الٹتا ہوں تو کئی چہرے کتابوں کے صفحات سے جھانکتے دکھائی دیتے ہیں؛ چہرے سامنے نہ آئے، مگر الفاظ سے ایسی شناسائی ہوئی کہ اجنبیت کا احساس باقی نہ رہا۔ افسوس صرف یہ ہے کہ جنہیں کتابوں میں اتنا قریب پایا، زندگی میں اتنا قریب نہ پاسکا۔

دو آئیڈیل، دو اسلوب:

سب سے پہلے حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی کا نام آتا ہے۔ 16 مارچ 1892ء کو پیدا ہوئے اور 6 جنوری 1977ء کو رخصت ہوگئے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مولانا عبدالماجد دریابادی، دونوں کو میں نے اپنا آئیڈیل بنانے کی کوشش کی۔ دونوں کے اندازِ نگارش میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ مولانا علی میاں لمبے لمبے جملوں میں ایک پورا فکری جہان آباد کردیتے تھے، جب کہ مولانا دریابادی چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے تھے۔ مختصر جملہ، گہری بات اور ایسا اسلوب کہ عبارت ختم ہوجائے مگر خیال دیر تک ساتھ چلتا رہے۔ آہ! دونوں کی ملاقات و زیارت سے محروم رہا۔

جامی صاحب: موتی پروتا ہوا قلم

دوسرا نام حضرت مولانا عبدالرحمن جامی کا ہے، جن کی وفات 27 مارچ 1991ء، مطابق 10 رمضان 1411ھ کو ہوئی۔ حضرت مصلح الامت مولانا وصی اللہ کے ترجمان تھے۔ لکھتے نہیں تھے، موتی پروتے تھے، اور میں موتی سمجھ کر ان کی تحریریں چنتا رہتا تھا۔ ان کی بہت سی کتابیں اور تحریریں پڑھنے کا موقع ملا؛ عقیدت ہوئی اور خوب ہوئی، مگر ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکل سکی۔ حضرت نے بھی اس دنیا سے کوچ کرنے میں عافیت سمجھی اور میری آرزو آرزو ہی رہ گئی۔

قاضی اطہر مبارک پوری: تحقیق کا روشن چراغ

پھر حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری کا ذکر آتا ہے، جن کی وفات 14 جولائی 1996ء کو ہوئی۔ قاضی صاحب سادہ لکھتے تھے، مگر محقق آدمی تھے۔ ان کی ہر کتاب تحقیقِ انیق کا نمونہ ہوتی۔ ان کی متعدد کتابیں پڑھیں اور رفتہ رفتہ ایسی عقیدت پیدا ہوئی کہ زندگی میں پہلی بار دیوبند جاتے ہوئے ہماری بس جب گاگل ہیڑی موڑ پر پہنچی اور ہاکر سے اردو اخبار خریدا تو قاضی صاحب کی رحلت کی خبر سامنے آگئی۔ خبر پڑھی اور بے ساختہ آنکھیں بھر آئیں۔ بس کی کھڑکی سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں؛ آنسو بہتے رہے، گاڑی آگے بڑھتی رہی اور میں قاضی صاحب کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کرتا رہا۔ سفر دیوبند کا تھا، مگر اس لمحے دل ایک ایسے شخص کی جدائی کا ماتم کررہا تھا جس سے کبھی ملاقات ہی نہ ہوئی تھی۔

مولانا علی میاں: فکر کی دنیا کا دروازہ

اس کے بعد حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا ذکر آتا ہے۔ 24 نومبر 1914ء کو پیدا ہوئے اور 31 دسمبر 1999ء کو دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی کتابیں پڑھ پڑھ کر لکھنے کا سلیقہ سیکھا۔ ان کی تحریروں میں فکر کی گہرائی بھی تھی اور زبان کی شائستگی بھی۔ ان کے طویل جملے محض جملے نہیں ہوتے تھے، ایک پورا فکری منظرنامہ اپنے اندر سمیٹے ہوتے تھے۔ ان کی نثر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا کہ الفاظ صرف بات کہنے کے لیے نہیں، سوچ کو ایک خاص سمت دینے کے لیے بھی آتے ہیں۔ مگر جن کی کتابوں نے اتنا کچھ دیا، ان کی زیارت کا شرف نہ مل سکا۔

مولاناجوہر قاسمی: روانی کا جادو:

بعدہ حضرت مولانا افضال الحق جوہر قاسمی کا نام آتا ہے۔ 1923ء میں پیدا ہوئے اور 30 نومبر 2012ء کو وفات پائی۔ ان کے بے شمار مضامین مختلف اخبارات و رسائل میں پڑھے، بالخصوص ’’الجمعیۃ‘‘ کے پرانے شماروں میں ان کا قلم خوب چمکتا دکھائی دیا۔ ایسا رواں اور شگفتہ اسلوب تھا کہ قاری ایک جملے سے دوسرے جملے تک یوں بہتا چلا جاتا جیسے پانی اپنی راہ خود بناتا ہے۔ عبارت میں ٹھہراؤ کم اور روانی زیادہ؛ خیال میں بوجھ کم اور تاثیر زیادہ۔ ملاقات کی خواہش مگر پوری نہ ہوسکی۔

مولانا اعجازاحمد اعظمی کا اعجاز:

ان کے بعد حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کا نام ہے۔ 5 فروری 1951ء کو پیدا ہوئے اور 28 ستمبر 2013ء کو وفات پائی۔ میں نے سب سے پہلے ان کی کتاب ’’بطواف کعبہ رفتم‘‘ پڑھی اور پڑھتے ہی جھوم گیا۔ کیا اسلوبِ نگارش تھا! قاری تحریر کے حصار میں یوں آتا کہ کتاب بند کرنے کو جی نہ چاہے۔ الفاظ اپنی جگہ، جملے اپنی جگہ، مگر مجموعی کیفیت ایسی کہ پڑھنے والا خود کو مصنف کے ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کرے۔ قلم پختہ بھی، برجستہ بھی اور بے تکلف بھی۔ افسوس کہ اس قلم کے مالک سے بھی ملاقات نہ ہوسکی۔

وحیدالدین خاں: فکر کے جادوگر

’’الجمعیۃ‘‘ ہی کے پرانے شماروں میں مولانا وحیدالدین خاں کے مضامین بھی خوب پڑھے۔ 1925ء میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 2021ء کو وفات پائی۔ خان صاحب تحریر کے جادوگر تھے۔ آدمی اپنی مرضی سے پڑھنا شروع کرتا، مگر ختم ان کی مرضی سے کرتا تھا۔ چھوٹی سی بات، کسی کا ایک جملہ، کسی مفکر کا ایک قول اور وہیں سے مضمون کا سرا پکڑ لیتے۔ خصوصاً انگریز مفکرین اور یورپی دانشوروں کے اقوال سے بات شروع کرکے ایک دو صفحات میں بڑی بات نہایت آہستگی سے کہہ جاتے، مگر اس طرح کہ مضمون ختم ہونے کے بعد بھی خیال ذہن میں گردش کرتا رہتا۔ یہی ان کے قلم کی خاص ادا تھی۔

اسیر ادروی: تحقیق کا خزانہ

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اسی سال حضرت مولانا نظام الدین اسیر ادروی بھی رخصت ہوئے۔ 1926ء میں پیدا ہوئے اور 20 مئی 2021ء کو وفات پائی۔ حضرت کی ’’کاروان رفتہ‘‘ سب سے پہلے پڑھی۔ پھر طبری کی ’’تاریخ الملوک والامم‘‘ کے حوالے سے علامہ طبری کی عالمانہ گرفت دیکھی۔ یہ کتابچہ کئی بار پڑھا اور شاید اسی نے ’’تاریخ طبری‘‘ پڑھنے کی طلب پیدا کی۔ مولانا اسیر ادروی بہت سادہ اسلوب میں لکھتے تھے، مگر اس سادگی کے پردے میں علم و تحقیق کا ایک بڑا سرمایہ پوشیدہ ہوتا تھا۔ ان کی متعدد کتابیں پڑھنے کا موقع ملا، مگر زیارت کی حسرت یہاں بھی حسرت ہی رہی۔
ملاقات نہ ہوئی پر ان کی کتابوں سے صحبت ملتی رہی۔

یہ عجیب سا تعلق ہے:

ان اہل قلم میں سے اکثر سے میرا رشتہ ملاقات کا نہیں، کتاب کا رہا؛ چہرہ سامنے نہ آیا، مگر الفاظ سامنے آتے رہے؛ ہاتھ نہ ملا، مگر کتاب ہاتھ میں آتی رہی؛ مجلس نصیب نہ ہوئی، مگر صفحات کی رفاقت ملتی رہی۔ شاید بعض اہل علم سے انسان کی پہلی ملاقات چہرے سے نہیں، قلم سے ہوتی ہے۔ پھر قلم دل میں جگہ بنا لیتا ہے اور آدمی صاحب قلم کو دیکھے بغیر بھی اس سے مانوس ہوجاتا ہے۔

کتابیں: خاموش اساتذہ

میرے لیے یہ حضرات محض مصنفین نہیں تھے؛ میری طالب علمی کے خاموش اساتذہ بھی تھے۔ کسی نے تحقیق کا ذوق دیا، کسی نے اسلوب کی نزاکت سمجھائی، کسی نے جملے کی ساخت سے آشنا کیا اور کسی نے یہ احساس دیا کہ اچھا لکھنے کے لیے صرف معلومات کافی نہیں؛ زندہ دل، بیدار ذہن اور صاحب ذوق نگاہ بھی چاہیے۔

میں ان سب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے مجھے اپنی صحبت میں جگہ دی، اگرچہ زندگی نے ان کی مجلس میں بیٹھنے کی مہلت نہ دی۔

کتابوں کا بھی کیا عجیب مزاج ہے! مصنف دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کی آواز اوراق میں باقی رہتی ہے۔ آدمی کسی بزرگ کی مجلس میں نہ بیٹھ سکے تو کتاب کھول لیتا ہے۔وہی لطف و لذت ملتی ہے۔

سنتے رہے ہیں آپ کے اوصاف سب سے ہم

ملنے کا آپ سے کبھی موقع نہیں ملا

(بیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)