*خلافتِ راشدہ پر وار کرنے والو!*

خلافتِ راشدہ پر وار کرنے والو، سنو! کہ خلافت کیا ہے اور خلافت عطا کرنا اور چھیننا کس کے اختیار میں ہے۔ دنیا میں ایسے مختلف لوگ پائے جاتے ہیں جو خلافتِ راشدہ پر عجیب و غریب اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ خلافت کسی اور کا حق تھا اور لینے والا کوئی اور ہے، یوں کسی کو ظالم اور کسی کو مظلوم ٹھہراتے ہیں۔ لیکن اے اعتراض کرنے والو، سن لو کہ یہ منصب کس کے ہاتھ میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *"وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ"* اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ خلافت دینا اور چھیننا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا، کیونکہ یہ منصب اللہ کے اختیار میں ہے۔

اب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اعتراض کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص جج سے اپنی مرضی کے خلاف فیصلہ سن کر کچہری سے باہر نکل کر جج کو برا بھلا کہے۔ لیکن جو بھی کرے، جج تو جج ہی رہے گا اور مجرم مجرم ہی۔ اب یہ جو کچھ بھی کہیں، ان کی حیثیت مجرموں کی سی ہے، اور مجرموں کو بالآخر سزا ضرور دی جائے گی۔

جس طرح جج کا فیصلہ اس ناراض شخص کے بڑبڑانے سے نہیں رکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خلافت کے متعلق اپنا فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔ اب جو کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے، کیونکہ *"وَاللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَاءُ"*

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

*بقلم فیضی*