✍🏻 ہمارے معاشرے کے بچے ،جوان، اوربوڑھےشراب نوشی ونشہ خوری جیسی مہلک امراض میں مبتلا ہے،شراب ،کوریکس بیڑی ،سگریٹ ،گٹکا، کھینی ان سب کا محبوب مشغلہ بن چکاہے،

جبکہ شراب نوشی ونشہ خوری کی حرمت وممانعت نصوص قطعیہ سے ثابت ہے ،شراب نوشی یہ ایک ایسی لت ہے جو اس میں ایک مرتبہ ملوث ہوجاتاہے ،اس کا اس عمل سے نکلنا جوۓ شیر لانے کا مترادف ہے،حالانکہ شراب نوشی سے اپنا ہی جانی ومالی نقصان ہے، شراب عقل کو ماؤف کردیتی ہے،شراب نوشی سے پورا گھر تباہ وربرباد ہوجاتاہے ،وہ گھر جس میں ایک فرد بھی شراب نوشی کاعادی ہوجاۓ گھر کے تمام افراد کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے- 

قرآن کریم میں صراحتا ارشاد ہے!

 وہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں شراب وقمار (جوا)کے متعلق ،آپ فرمادیں ان دونوں کا گناہ بڑا ہے اور لوگوں کےلیے سود مند ہے،ان دونوں کاگناہ نفع سے بڑھ کرہے-

( سورہ بقرہ آیۃ ۱۲۹ )

چار آیتوں میں شراب کا ذکر موجود ہے،ابتداءا سورہ نحل کے اندرنہایت ہی نرم انداز میں ارشاد ہیکہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم تیار کرتے ہو نشہ آور چیزیں اور بہترین رزق ، سورہ نحل آیۃ ۶۷ اس آیت میں سکرا (بفتح السین ،والکاف) مستعمل ہے جوکہ مقدم ہے اور بعد میں رزق حسنا استعمال ہوا (سکرا نشہ آور چیز)

علامہ بغوی نے لکھا ہےکہ سکرا سے خمر(شراب)، رزقا حسنا سے مراد ، رُب چھوارے اور کشمش اور یہ حکم تحریم خمر سے پہلے کاہے ( اس آیت کا نزول حرمت شراب سے پہلے ہواتھا ) یہ قول حضرت ابن مسعود ،حضرت ابن عمر، سعید بن جبیر ،حسن اور  مجاھد کاہے-

( تفسیر مظہری سورہ نحل ایۃ ۶۷)

سورہ نساء میں ارشاد فرمایا کہ اے مومنو !تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ -

( سورہ نساء آیۃ۴۳، )

""اس آیت میں نماز کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو کیونکہ نشہ کی حالت میں آدمی کو یہ علم نہیں رہتا میں نماز میں کیا پڑھ رہاہوں کس ذات کے سامنے کھڑا ہوں اور کیا عرض معروض کررہاہوں یہ حکم اس وقت تک کاتھا جب تک کہ شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب چند صحابہ ایک دعوت میں جمع ہوۓ اب تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی ، ان لوگوں نے شراب پی اور مغرب کا وقت آگیا ،اسی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوگیۓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نےنماز پڑھائی لااعبد ماتعبدون کی جگہ اعبد ماتعبدون نشہ کی حالت میں پڑھ دیا جس سے معنی بالکل غلط ہوگیۓ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور قطعا اس کی ممانعت کردی گئی نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ آئیں اس آیت کے نازل ہونے کےبعد صحابہ کرام نے اوقات نماز میں شراب پینا چھوردی"

(معارف القرآن ادریسی جلد ۲)  

سورہ مائدہ میں ارشاد فرمایاکہ اے ایمان والو! بالیقین شراب ، قمار، بت وغیرہ ، اور قرعہ کے تیر یہ سب گندے کام ہیں سو اس سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو(۹۰ )-

شیطان یہ چاہتاہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کردے ، اللہ تعالی کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آؤگےآیۃ۹۱ -

( بیان القرآن جلد1)  

اس آیت میں رب کریم نے شراب کو شیطان کا عمل قرار دیتے ہوۓ بالکیہ حرام کردیا- 

 عن بن عمر قال:قال رسول اللہؐ! کل مسکر خمر وکل مسکر حرام ومن شرب الخمر فی الدنیا فمات وھو یدمنھا لم یتب لم یشربھا فی الآخرہ( رواہ مسلم)-

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہیکہ رسول اللہ ؐنے فرمایاکہ ہرنشہ آور چیز(جسے پی کر نشہ آجاۓ )خمر (شراب ) کا مصداق ہے اورحرام ہے اور جوئی کوئی دنیا میں شراب پیے اور اس حال میں مرے کہ برابر شراب پیتاہو اور اس نے توبہ نہ کی ہو وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہےگا-

عن ابن عباس ؓ قال : قال رسول اللہ ؐ مدمن الخمر ان مات، لقی اللہ کعابد وثن (رواہ احمد ) 

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سےمروی ہیکہ رسول اللہ ؐ ارشاد فرمایا کہ ہمیشہ شراب پینے والااگراسی حال میں مرےگا تو خدا کے سامنے اس کی پیشی مشرک اور بت پرست کی طرح ہوگی -

(ماخوذ از معارف الحدیث )

 مذکورہ آیات واحادیث شراب پینے کی حرمت وممانعت میں وارد ہوئی ہے-

قرآن کریم نے بتدریج شراب کو حرام قرار دیا اولا شراب کو مکروہ اور ناپسندیدہ قرار دیا،دوسری آیت میں گناہ قرار دیا اور تیسری آیت میں نماز کے وقت شراب کی ممانعت فرمائی گئی،چوتھی آیت میں کلی طور پر شراب کو شیطان کا عمل قرار دیتے ہوےحرام کردیا - 

شراب کی وجہ سے رشتے ناتون میں رخنہ آجاتاہے شب وشتم شروع ہوجاتا ہے اور خود بندہ رب کریم کی یادو سے غافل ہوجاتاہے ، اس لیے یہاں پہ سختی سےمنع فرمادیا -

اور احادیث میں اس کی سخت وعید ذکر کی گئی ہے ،چنانچہ مذکورہ احادیث میں ہے کہ اگر کوئی شراب نوشی پہ مدوامت اختیار کرے اور بدون توبہ اس دنیا سے رخصت ہوجاۓ اس کے بارے میں آیا ہے کہ وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہے گا- 

دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ہیکہ شراب نوشی پہ مداومت کرنے والا کی پیشی خدا کےسامنے مشرک اور بت پرستی کی طرح ہوگی،اس کی وجہ یہ ہیکہ جب بندہ شراب پیتا ہے تو عقل سلیم عقل سقیم میں تبدیل ہوجاتاہے ،ہدایت وضلالت میں تمیز کامادہ ختم ہوجاتا ہے ،وہ ذکر الہی اور احکام الہی سے دور ہوجاتاہے ،اور یہی چیز اس کو بعض دفعہ شرک اور بت پرستی کے ڈگر پہ لا کھڑا کرتاہے ، کیونکہ شراب نوشی سے عقل (جو کہ ایک نعمت عظمی ہے جس کی وجہ سے انسان بہت سی چیزوں پہ قابو پاتاہے ،اور ہر چیز کے اندر صحت وسقم میں فر ق کرتاہے )سے کام کرنا بند کردیتا،یہ عظیم دولت شراب نوشی کی وجہ سے اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہے ،اور اس سے بڑے بڑے گناہ وجود میں آتے میں جو عام حالت میں متصور نہیں ہوتے ،یہی وجہ ہیکہ اس کو گناہ کا جڑ بھی کہاگیا ہے-

  

ہمارا معاشرہ تباہی کے دہانےپہ:-


    آج کل ہمارے معاشرے میں یہ وبا جس سبک رفتاری سے پھیل رہاہے ناقابل بیاں ہے،نشہ کی لت یہ نہ صرف نوجوان بلکہ بچے اور ادھیڑ عمرکے لوگوں میں بھی عام ہے، اس سے نہ صرف اخروی نقصان بلکہ دنیوی نقصان بھی بکثرت ہے ،شراب نوشی سے اچھا معاشرہ تباہ ہوجاتاہے ،ترقی سے محروم رہتاہے، نفرت وعداوت جڑ پکڑ لیتی ہے ، لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ، ازدواجی زندگی خطرے میں آجاتی ہے ،اولاد پہ برا اثر پڑتاہے، خاندان کے لوگ اس سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں،آۓ دن کے اختلاف وانتزاع پورے معاشرہ کا سکون غارت کردیتا ہے ،شراب نوشی سے جان کا خطرہ رہتاہے-

چند سال پہلے راقم بازار سے گزرتے وقت دیکھا کہ ایک شخص راستہ کےکنارے لیٹا ہے جب میں ان کے قریب ہوا تو دیکھا کہ وہ میرا جاننے والا ہے ،جب دو تین کے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں دریافت گزار ہواتو اس نے کہا کہ بعض دوستوں نے مجھے اس پہ آمادہ کیا تو میں نے موفقت کردی، 

مجھے بڑا تف ہواکہ دوستوں کی موافقت کیلیے اللہ کی مخالفت کو ترجیح دی ،جب کہ یہ مقام تھا وہ کہتے! "لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ "

ہماری قوم کی جہالت کب اس کی طرف متوجہ کرسکتی ہے 

 ہمارا المیہ یہ ہیکہ ہم لوگ اس پہ ساکت ہے، جس کی وجہ سے برائی کو پروان چڑھنے کا موقع مل جاتاہے-

راقم نے بارہا بصیرت سے دیکھا کہ جولوگ شروعاتی زندگی میں خوش حال تھے ،اچھی خاصی آمدنی تھی مگر غلط دوستانہ تعلق قائم کرکے شراب نوشی میں ملوث ہوگیے ،جس کی وجہ آج اس کے اہل خانہ تنگ دستی وزبوں حالی اور مالی بحران کا شکار ہے -اللھم احفظنا منہ


حکومت کی ناکام کوشس:


  حکومتی سطح پہ بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں ہورہاہے ،کیونکہ حکومت اصل بنیاد برقرار رکھ لوگوں کو نشہ سےکرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے، حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو روکے اس کا طریقہ یہ نہیں کہ بس اس پہ قانون بناۓ اور انہیں سزا دے دی جاۓ، ٹی وی وغیرہ پہ نقصان بتایا جاۓ بلکہ اس کاطریقہ یہ ہے کہ شراب اور نشہ آور چیزیں بنانے والی کمپنیان وفیکٹریاں اور اس کے جو بھی اسباب وعلل ہیں ان سب کو بند کردے ،انکو بالکل سیل کرد، اس طرح کے جو کارکن ہیں، سب پہ قانونی کاروائی کی جاۓ،اور جو اس کے باوجود شراب نوشی ترک نہ کرے تو اس پہ قانونی راستہ اختیا کی جاۓ ،یہ عمل اثر پذیر ہوگا،اس لیے کہ اس سےکئی ہزار لوگوں کی جان بچ سکتی ہے،کئی ہزار بچے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں،کیونکہ بہت سے گھرکے بچے ایسے ہیں جو صرف اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرتے کیونکہ وہ معصوم بچہ خود گھر کی کفالت انجام دیتا،اور اس کے باپ کو گھر کی کوئی خبر نہیں ہوتی ،مگر یہاں پہ حکومت اور اسکے ہمنوا لوگوں کومذہبی منافرت اسلام کے خلاف جالسازی وچالبازی سے فرصت نہیں ،طعنہ زنی زہر افشانی کیلیے وقت نکالنےکو ضروری سمجھتے ہیں-

وہ اداکار اور اداکارہ جو اسلام کے خلاف فلم سازی کرتےہیں ، کیا ہی اچھاہوتا اگر یہ شراب نوشی کے مضر اثرات پہ فلم سازی کرتے اور معاشرے سے اس وباکو ختم کر نے میں اپنا حصہ ڈالتے -

 مگر افسوس اب ہم میں انسانیت باقی نہ رہی جس کانتجیہ یہ ہیکہ ہمارا معاشرہ کہاں جارہاہے ، لوگوں کی زندگی کیسے گزر رہی ہے کبھی جائزہ نہیں لیتے -

اللہ ہم سب کو راہ ھدایت پہ گامزن فرمائیں شراب نوشی اور دیگر گناہوں سے کلی طور پہ حفاظت فرماۓ آمین - 


     ✍🏻٭٭٭﴿خامہ بردار﴾٭٭٭📖


محمد گل رضاراھی بن ایوب عالم ارریاوی 

متعلم : عربی پنجم 

جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ یوپی الہند 

۵ محرم المحرام؁ ۱۴۴۶ھ بمطابق۱۲ جولائی ۲۰۲۴ 

بروزجمعہ بعد نماز عصر