*جب استاذ شاگرد کے کام کو سراہتا ہے*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
__________________________________
آج میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک نمبر سے فون آیا۔ میں نمبر پہچان نہیں سکا۔ دوسری طرف سے آواز آئی کہ میں آپ سے خصوصی ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سوچا پتہ نہیں کون صاحب ہیں کیونکہ نمبر تو میرے پاس موجود تھا مگر فون کسی دوسرے نمبر سے آیا تھا۔ میں نے عرض کیا حاضر ہوتا ہوں۔
بغیر کسی تاخیر کے چند ہی لمحوں میں ان کے پاس پہنچا تو سامنے ہمارے سراجی کے استاذِ محترم حضرت مفتی عزیر صاحب قاسمی تشریف فرما تھے۔ حضرت کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ ملاقات ہوئی حضرت نے محبت سے دعائیں دیں اور فرمایا ماشاء اللہ تم بڑے قلم کار بن گئے ہو تمہارے مضامین بہت اچھے ہوتے ہیں۔ ہم تمہارا ہر مضمون پڑھتے ہیں بلکہ تمہارے مضامین پڑھ کر بیان بھی کرتے ہیں۔
یہ الفاظ سنتے ہی دل خوشی سے بھر گیا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ ایک شاگرد کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی اور اعزاز کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا استاذ نہ صرف اس کی تحریر پڑھتا ہو بلکہ اسے اپنے بیان کا حصہ بھی بناتا ہو۔
حضرت نے ڈھیر ساری دعائیں دیں چند لمحے محبت بھری نصیحتیں فرمائیں اور پھر مزید دعاؤں سے نوازا۔ سلام دعا کے بعد فرمایا کہ کبھی ہمارے گھر بھی ملاقات کے لیے آؤ۔ ہم نے حضرت کی اس محبت بھری دعوت کو قبول کیا اور وہاں سے واپس آ گئے۔
سچ کہوں تو حضرت کے یہ چند جملے میرے لیے بے حد حوصلہ افزا تھے۔ ایک استاذ کی زبان سے اپنے لیے ایسے کلمات سننا میرے لیے کسی قیمتی انعام سے کم نہیں تھا۔ اس ملاقات کے بعد دل میں ایک الگ ہی خوشی اور حوصلہ محسوس ہوا۔
واقعی استاذ ہی وہ ہستی ہوتے ہیں جو اپنے شاگردوں کو ہمیشہ کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی ایک حوصلہ افزا بات ایک دعا اور محبت بھرا جملہ شاگرد کے سفر میں نئی توانائی پیدا کر دیتا ہے۔
اصل میں استاذ محترم کسی پروگرام میں تشریف لائے ہوئے تھے جس کی بنا پر ہم کچھ خدمت نہیں کرپائے۔
اللہ ربّ العزت حضرت کو سلامت رکھے شاد و آباد رکھے صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنے اساتذہ کی دعاؤں اور شفقتوں کا مستحق بنائے۔ آمین یارب العالمین ۔