*اے صلاح الدین ایوبی مسجد اقصیٰ پھر تیری منتظر ہے*

2 اکتوبر 1187ء صرف تاریخ کا ایک ورق نہیں تھا۔ یہ وہ دن تھا جب بیت المقدس نے ایک ایسے مردِ مجاہد کا استقبال کیا جس نے صلیبی اقتدار کو شکست دے کر مسجدِ اقصیٰ کو مسلمانوں کے حوالے کیا۔ وہ دن جب اقصیٰ کی فضا میں پھر اذان کی آواز بلند ہوئی۔ وہ دن جب ایک بکھری ہوئی امت نے اپنی قوت کا احساس کیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ایمان سے پیدا ہونے والا عزم تاریخ کے بڑے سے بڑے طوفان کا رخ موڑ سکتا ہے۔اپنے وقت کی رومن ایمپائر کہلانے والی قوم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زمانے کو بتا سکتا ہے جب مسلمان اسلام کے سانچے میں آ جائیں پھر وقت کی رومن ایمپائر کہلانے والی قوم بھی سلینڈر کرنے کو تیار ہو جاتی ہے۔اور ایک زمانے سے غیروں کے ہاتھوں میں ہماری مسجد اقصیٰ اللہ اکبر کی تکبیروں سے گونج اٹھتی ہے۔

 *اے اسلام کے مقدس مجاہدین آج زمانے کی حالات دیکھ کر اپنے ایمان پر تجسس ہوتا ہے،کیا ہم واقعی خالد بن ولید کے ماننے والے ہیں؟جس کے ایک خطبے نے کفار کے پرخچے اڑا دئیے تھے۔جس کی تلوار کی دھمک نے کفار کے سینوں کو ایسے چاک کیا کہ اس وقت کی حکومتیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ دنیا کی ہر قوم کو للکارا جا سکتا ہے لیکن اسلام کے کسی بچے سے بھی مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ زندگی اور موت سے لڑنا ہے۔کیا ہم واقعی محمد بن قاسم کے ماننے والے ہیں؟کیا ہم واقعی محمد بن باقر کو ماننے والے ہیں؟ کیا ہم اسی خدا پر یقین رکھتے ہیں جس پر جنگ احد، جنگ بدر، جنگ خندق، جنگ صفین میں مجاہدین رکھتے تھے؟ کیا ہم اسی پیغمبر کو مانتے ہیں جس پیغمبر کو مجاہدین اسلام مانا کرتے تھے؟کیا ہمارا وہی کلمہ وہی ہے جو مجاہدین کا تھا؟ کیا ہماری والہانہ محبت اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہی ہے جو مجاہدین اسلام کو تھی؟اگر جواب ہاں ہے اور یقیناً ہاں ہی ہے تب اپنی غیرت کو مردہ تسلیم کرنا وقت کا فطری تقاضہ ہے۔*
کیونکہ مجھے تاریخ کا وہ صفحہ یاد ہے جب سلطان صلاح الدین ایوبی سے ایک یہودی لڑکی نے سوالات کئے تھے: اے صلاح الدین ایوبی کیا آپ واقعی خدائے وحدہ لا شریک پر ایمان رکھتے ہو؟ کیا یقیناً دین اسلام کے پیروکار ہو؟کیا واقعی تمہارا کلمہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے؟ کیا یقینی طور پر آپ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہو؟ جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہاں میں جواب دیا تب اس لڑکی نے کہا تھا کیا پھر تم محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھول گئے ہو؟ پھر اسکی فریاد پر صلاح الدین ایوبی نے پورے ایک علاقے کو ملیا میٹ کرکے خون سے آلود کر دیا تھا اور زمانے کو بتا دیا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابھی بھی وہی محبت اپنے رسول سے کرتے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کی تھی۔اور اسلام کے پیغام کو عام کرکے بتا دیا تھا دین اسلام کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتا اگرچہ وہ مظلومہ ایک یہودی لڑکی کیوں نہ ہو۔
اے میری ملت کے جوانوں! کیا آج فلسطین میں ہوتی ہوئی ظالموں کی بربرتا، خواتین کے ساتھ بے حرمتی،ننھے ننھے بچوں کا زندگی سے ہاتھ دھونا فلسطینی ماؤں کی وہ چیخیں جو وہ ملبے میں دبے ہوئے بیٹوں کے لیے پکارتی ہیں نظر نہیں آتی؟کیا وہ انبیاء کرام علیہم السلام کا مسکن بے یارو مددگار پڑا ہوا نظر نہیں آتا؟ کیا ایک نو سال کی بچی کے ساتھ ہوتی ہوئی جارحیت جب قابو سے باہر ہو گئی تب اس نے سلاخوں کی دیواروں پر یہ جملہ لکھا *میں سب خدا کو بتاؤں گی* نظر نہیں آیا؟ جب ایک باپ اپنی بیٹی کو دفن کرتے ہوئے کہتا ہے میں پورے خاندان کو اسلام اور مسجد اقصیٰ کی بقا کے لیے قربان کر دیا صرف میری بیٹی باقی تھی جس کی مجھے فکر تھی اسے بھی اللہ نے شہادت کا جام پلا دیا نظر نہیں آیا؟کیا فلسطینی چھ سال کے بچے کی یہ صدا تمہارے کانوں تک نہیں پہنچی اے خدا کیا قیامت آ گئی ہے؟ایک گھر کی تین بہنیں جنہوں نے بتایا پوری زندگی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا لیکن آج بغیر دوپٹے برہانہ جسم بے یارو مددگار عزرائیلی فورس ہمیں گھر سے گاڑی میں لے جا رہے ہیں نظر نہیں آیا؟اور کتنے زخم گناوں سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے دیکھتے ہوئے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔اور بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے خدایا قیامت کو برپا فرما دے۔😭مجھے یاد ہے جب ایک فلسطینی امام نے جمعہ کو خطبہ دیا تھا تو کہا تھا *جس قوم کو اسی ہزار لوگوں کی موت نہ جگا سکی۔پورے پورے پریوار لٹتے ہوئے نہ جگا سکے بیٹیوں پر ہوتی ہوئی جارحیت نہ جگا سکی،ملبے کی نیچے دبے ہوئے بچوں کی چیخیں نہ جگا سکی،بمبوں سے اڑتے ہوئے پرخچے نہ جگا سکے، اس قوم کو میرا پانچ منٹ کا خطبہ کیا جا سکتا ہے۔*🥹
اے عرب ممالک کے دیّوس حکمرانوں قوم مسلم تو مردہ ہوئی ہے لیکن تم تو پیدا ہی نہیں ہوئے ہو، تمہاری عیاشیاں،یہود نصاریٰ کے ساتھ تمہاری بیٹھکیں،ان کے استقبال میں اپنی بیٹیوں کو نچانے والوں یہ مسلمانوں کا کام نہیں ان مقدس اور معزز جگہوں پر یہود و نصاریٰ کے ساتھ مزاحیہ پروگرام کرنا۔یہ کسی یہودی ایجینٹ کا کام ہے یہ کسی زانی کا کام ہے، یہ کسی فحاشی بے غیرت انسان کا کام ہے۔لیکن یاد رکھنا یہ تاریخ کے اوراق کسی کو نہیں بھلاتے، یہ ایسی وار لگاتے ہیں کہ پھر کدھر کا نہیں چھوڑتے اور عنقریب وہ دن آئے گا جب ہر ایک سے حساب کیا جائے گا۔اور ہر فلسطینی کے ایک ایک قطرے کا حساب وہ خالق و ارض و سماوات تم سے ضرور لے لے گا،تمہاری نسلیں بھی قیامت تک یاد رکھیں گی۔
اے فلسطینی مسلمانو! تمہاری استقامت نے دنیا کو بتا دیا کہ ظلم کی شدت ایمان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی۔ تم نے ملبے میں بھی امید زندہ رکھی، شہیدوں کو صبر کے ساتھ رخصت کیا اور مسجدِ اقصیٰ سے اپنی محبت کو دلوں میں محفوظ رکھا۔ تمہارا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اب شاید صلاح الدین کا لشکر آنے والا نہیں، مگر تمہارا رب وہی ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دریا، ابراہیم علیہ السلام کو آگ اور یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھا۔ ایک دن عظیم دربار لگے گا جہاں ہر ظلم اور ہر بے حسی کا حساب ہوگا۔ یا اللہ فلسطین کے مظلوموں کی حفاظت فرما،شہداء کو بلند درجات عطا فرما، زخمیوں کو شفا دے اور انہیں امن و آزادی نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔🤲🏻

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*
https://whatsapp.com/channel/0029VbDXe5y1dAw0srKp8e0j