بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کے دلوں میں بھی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایسی محبت اور دیدار کی ایسی تڑپ ودیعت فرمائی تھی کہ وہ بھی آپ ﷺ کے اوصافِ جمیلہ کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز میں فرمایا کرتے تھے
حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے محبوب نبی ﷺ کے حسن و جمال کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں: میرا محبوب محمد ﷺ نورانی چہرے والے، گندمی رنگت کے حامل، ہزاروں انسانوں کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ کا جسمِ اطہر ہیرے کی مانند چمکتا دمکتا ہے، زلفِ عنبریں سیاہ شب کی طرح گھنی اور دلکش ہیں، اور چشمِ مبارک ایسی حسین ہیں جیسے شفاف پانی کے کنارے دودھ سے دھلے ہوئے دو سفید کبوتر جلوہ گر ہوں۔
آپ ﷺ کے رخسار مبارک مہکتی ہوئی کلیوں کی مانند لطیف و دل آویز ہیں، لبِ مبارک پھولوں کی پنکھڑیوں کی طرح نرم و نازک ہیں جن سے گویا خوشبو ٹپکتی ہو۔ دستِ اقدس سونے کی مانند حسین اور قیمتی جواہرات سے مزین معلوم ہوتے ہیں، شکمِ اطہر عاج کی صاف و شفاف تختی کی طرح روشن ہے، پنڈلیاں سنگِ مرمر کے مضبوط ستونوں کی مانند حسین و متناسب ہیں، چہرۂ انور چودھویں کے چاند کی طرح تابناک اور قامتِ مبارک صنوبر کی مانند بلند و دلکش ہے، جبکہ گفتار ایسی شیریں اور دل نواز ہے کہ سننے والا بے اختیار محبت میں ڈوب جائے۔
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نہایت محبت سے فرماتے ہیں:
"وہ میرا محبوب، وہ میرا دوست، محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔"
المقتبس: تفسیر میزان الادیان
مصنف: حضرت فخر المحققین، امام المحدثین، ابو محمد سید محمد دیدار علی شاہ الوری رحمہ اللہ
محمد امین غفرلہ ✍️