سنو سنو!!

دارالعلوم دیوبند کا شاندار قدم

(ناصرالدین مظاہری)

تعلیم صرف سبق پڑھنے اور امتحان دینے کا نام نہیں؛ تعلیم کے ساتھ محنت کی قدر دانی بھی ضروری ہے۔ طالب علم کی محنت کو بروقت سراہا جائے تو اس کے اندر مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی آدمی کو دولت نہیں چاہیے، دلیل نہیں چاہیے، لمبی تقریر نہیں چاہیے؛ اسے صرف دو لفظوں کی پشت پناہی چاہیے۔ کوئی قریب آکر کہہ دے: ’’چلو! ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ پھر دیکھیے، جھکے ہوئے کندھے کیسے سیدھے ہوتے ہیں، بجھی ہوئی آنکھوں میں کیسے روشنی آتی ہے، لڑکھڑاتے قدموں میں کیسے رفتار پیدا ہوتی ہے ، ہچکچاتی زبان کیسے گفتار میں رواں ہوجاتی ہے اور شکست خوردہ آدمی کیسے اچانک اپنے اندر ایک نیا آدمی دریافت کرلیتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند نے اس سلسلے میں ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔

ناظم تعلیمات حضرت مولانا حسین احمد صاحب ہریدواری مدظلہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 3916 طلبہ میں سے 1023 طلبہ نے حاضری کا ریکارڈ قائم کیا، جب کہ 75 طلبہ پورے سال میں صرف ایک گھنٹے غیر حاضر رہے۔ 2025ء میں یہ تعداد 834 اور 2024ء میں 417 تھی۔

پورے سال مکمل حاضری یا تقریباً مکمل حاضری رکھنے والے طلبہ کو انعام دیا جارہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی طرف سے 31 لاکھ 83 ہزار اور رکن شوری حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی طرف سے 10 لاکھ 51 ہزار 500 روپے، یعنی مجموعی طور پر 42 لاکھ 34 ہزار 500 روپے انعام میں دیے جارہے ہیں۔

رقم سے زیادہ اہم اس اقدام کا پیغام ہے کہ محنت دیکھی بھی جاتی ہے اور اس کی قدر بھی کی جاتی ہے۔

دنیا میں کتنے لوگ قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں، حوصلہ نہ ملنے کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ کسی بچے سے کہا گیا: ’’تم سے نہیں ہوگا‘‘، اس نے کوشش چھوڑ دی۔

کسی طالب علم کی ایک ناکامی کو اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ بنا دیا گیا، وہ کتاب سے دور ہوگیا۔

کسی نوجوان نے کاروبار کا ارادہ کیا، کسی نے پہلے ہی خسارے کا ماتم شروع کردیا، ارادہ وہیں دفن ہوگیا۔

کسی نے قلم اٹھایا، پہلا مضمون کمزور نکلا، کسی نے ایسی ہنسی اڑائی کہ قلم دوبارہ ہاتھ میں نہ آیا۔

ایک جملہ انسان بنا بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے۔

اگر دنیا کے سب سے بڑے مربی، سب سے کامیاب قائد اور سب سے عظیم انسان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دیکھی جائے تو وہاں حوصلہ افزائی کے ایسے ایسے رنگ دکھائی دیتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔

یہ حوصلہ افزائی صرف کلاس روم کی ’’شاباش‘‘ نہیں؛ میدانِ جنگ میں بھی ہے!

حنین کا میدان ہے، تلواریں چل رہی ہیں، تیر برس رہے ہیں، صفیں ہل رہی ہیں، کچھ قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں، دلوں پر ایک لمحے کے لیے گھبراہٹ طاری ہے؛ ایسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لہجہ بلند ہوتا ہے:
أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۔
’’میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں؛ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔‘‘

یہ محض تعارف نہیں، حوصلے کا اعلان تھا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب لڑائی سخت ہوجاتی تو صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ لیتے تھے۔

سوچیے! ایک قائد کا اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ اعلان کرنا کہ ’’میں نبی ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں‘‘، اپنے لشکر کے حوصلے کو آسمان تک پہنچانے کا کیسا حسین انداز ہے!
اور عرب کے جنگی ماحول میں رجزیہ اشعار بھی پڑھے جاتے تھے۔ شعر کبھی صرف شعر نہیں رہتا؛ کبھی لشکر کا ترانہ بن جاتا ہے، کبھی قدموں کی رفتار، کبھی دلوں کی ڈھال اور کبھی تلوار کی دھار۔ آج ہم تقریر کے ذریعے حوصلہ بڑھاتے ہیں، وہاں کبھی ایک مصرعہ پوری صف میں بجلی دوڑا دیتا تھا۔
حوصلہ افزائی کا نبوی اسلوب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔
فتح مکہ کا منظر دیکھیے۔ کل تک جن لوگوں کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے، آج مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے۔ یہ وہ موقع تھا جہاں انتقام کے دروازے کھل سکتے تھے، مگر رحمت کے دروازے کھولے گئے۔
اعلان ہوا:
مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ۔
’’جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے، وہ مامون ہے۔‘‘
جس شخص نے برسوں مخالفت کی تھی، اس کے گھر کو بھی امن کا پتہ بنا دیا گیا۔
یہ بھی حوصلہ افزائی کا ایک عجیب انداز ہے! کبھی آدمی کو حوصلہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی تعریف کی جائے؛ کبھی اسے امن دیا جاتا ہے تاکہ وہ سنبھل سکے، ماضی سے نکل سکے اور مستقبل کی طرف دیکھ سکے۔
پھر غارِ ثور کا منظر دیکھیے۔ باہر دشمن ہے، قدموں کی آہٹ قریب ہے، غار کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بے قراری اپنی جگہ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جملہ ملاحظہ کیجیے:

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔
’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
یہ جملہ صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے نہیں تھا؛ یہ پوری امت کو بتا رہا تھا کہ خوف کے عین بیچ میں بھی امید کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔
حوصلہ افزائی یہ بھی ہے کہ خوف زدہ آدمی سے کہا جائے: ’’غم نہ کرو‘‘۔ کبھی یہ ہے کہ شکست خوردہ لشکر کے درمیان کھڑے ہوکر کہا جائے: ’’میں موجود ہوں‘‘۔ کبھی یہ ہے کہ مخالف کے لیے بھی امن کا دروازہ کھول دیا جائے۔ اور کبھی یہ ہے کہ ایک بچے کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کردیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کم عمر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی:
اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل۔
’’اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل کا علم سکھا۔‘‘
یہ صرف دعا نہیں تھی، ایک بچے کے مستقبل پر اعتماد کی مہر تھی۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا۔
’’آسانی پیدا کرو، دشواری نہ پیدا کرو؛ خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔‘‘
یہ نبوی تربیت کا پورا فلسفہ ہے۔
ہم نے بعض اوقات تربیت کو ایسا بنا دیا ہے کہ آدمی ہمارے پاس سے حوصلہ لے کر نہیں، حوصلہ ہار کر واپس آتا ہے۔
طالب علم نے غلطی کی، ہم نے اسے سب کے سامنے ذلیل کردیا۔ نوجوان نے نیا کام شروع کیا، ہم نے اس کے سامنے ناکامیوں کی پوری فہرست کھول دی۔ امام سے غلطی ہوئی، وہیں سب کے سامنے ذلیل کردیا۔ مقرر سے چوک ہوگئی، وہیں مائک چھین لیا۔ استاد سے غلطی ہوئی، طلبہ کے سامنے ہی ڈانٹ دیا۔ طالب علم سے غلطی ہوئی تو اعلان میں اس کا اظہار کرکے دیوار پر چسپاں کردیا۔ بچے نے کوئی بات کہی، ہم نے ہنس کر اسے خاموش کردیا۔ کسی نے کتاب لکھی، ہم نے اس کی دس خامیاں گنوادیں اور ایک خوبی بھی نہ بتائی۔ کسی نے مسجد میں خدمت کی، ہم نے کہا: ’’یہ تو تمہارا کام تھا۔‘‘ کسی نے سال بھر پابندی سے سبق پڑھایا، ہم نے ایک دن کی غیرحاضری پکڑ لی۔
یہ اصلاح نہیں، حوصلہ شکنی کا فن ہے!
غلطی ضرور بتائیے، مگر اس انداز سے کہ آدمی غلطی چھوڑ دے، اپنی ذات نہ چھوڑ دے۔ تنقید ضرور کیجیے، مگر ایسی کہ آدمی اپنے آپ کو سنوارنے بیٹھے، ٹوٹ کر بیٹھ نہ جائے۔

جراحات السنان لها التئام
ولا يلتام ما جرح اللسان

نیزوں کے لگائے کاری زخم بھر جاتے ہیں۔ مگر زبان کے لگائے ہوئے بھاری زخم نہیں بھرتے۔

ایک استاد اگر کہے: ’’تمہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے‘‘ تو طالب علم کتاب کھول سکتا ہے؛ لیکن اگر کہہ دے: ’’تمہارے بس کی بات نہیں‘‘ تو شاید وہ کتاب ہی بند کردے۔

ایک باپ اگر بیٹے سے کہے: ’’اس بار تم سے غلطی ہوئی ہے، اگلی بار بہتر کرو‘‘ تو بیٹا اگلی بار بہتر کرسکتا ہے؛ لیکن اگر کہہ دے: ’’تم کبھی کچھ نہیں کرسکتے‘‘ تو شاید وہ اپنی پوری زندگی اسی جملے کا بوجھ اٹھاتا رہے۔

الفاظ بولنے والے کے منہ سے نکل جاتے ہیں، مگر سننے والے کے دل میں گھر بنا لیتے ہیں۔

اسلامی تاریخ میں تعلیم اور اہلِ تعلیم کی حوصلہ افزائی کا یہ مزاج بھی ملتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں قرآن کی تعلیم دینے والوں کے لیے بیت المال سے وظائف مقرر کیے گئے۔ مقصد یہی تھا کہ علم کی خدمت کرنے والوں کی محنت کو سہارا اور وقار دیا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ مدارس کے منتظمین کو بھی حوصلہ افزائی کے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔بے شک ہر مدرسہ 42 لاکھ روپے کا انعام نہیں دے سکتا، لیکن ہر مدرسہ اپنے وسائل کے مطابق بہترین حاضری، مطالعہ، تقریر، تحریر، حفظ، نظم و ضبط اور تعلیمی کارکردگی پر کچھ نہ کچھ انعام ضرور دے سکتا ہے۔

انعام بڑا ہونا ضروری نہیں، حوصلہ بڑا ہونا چاہیے۔

اور ایک بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے: طلبہ کے ساتھ اساتذہ کے لیے بھی ایسا پروگرام ہونا چاہیے۔
وہ استاد جو پورے سال پابندی سے اپنے اسباق پڑھائے، ناغہ نہ کرے، جلسوں، پروگراموں اور سفروں سے صرف اس لیے گریز کرے کہ ’’میرے سبق کا نقصان ہوگا‘‘، اپنی تعطیلات بھی طلبہ کے مفاد کے تابع رکھے اور خاموشی سے سال بھر تعلیم کی شمع جلائے رکھے، کیا وہ انعام کا مستحق نہیں؟
ایسے اساتذہ کے لیے بھی سالانہ ’’بہترین تعلیمی خدمت‘‘ یا ’’پابندِ درس استاد‘‘ کا انعام ہونا چاہیے۔
طالب علم کو انعام ملے تو اس میں محنت کا جذبہ بڑھتا ہے، اور استاد کو انعام ملے تو اس میں خدمت کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔
مدارس صرف غلطی پکڑنے والے ادارے نہ ہوں؛ اساتذہ کی محنت پہچاننے والے ادارے بھی بنیں۔
دارالعلوم دیوبند کا یہ اقدام اسی لیے محض ایک انعامی پروگرام نہیں؛ یہ ایک تربیتی پیغام ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ جو طالب علم سال بھر اپنی حاضری کی حفاظت کرتا ہے، اس کی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔ اور اسی اصول کو اگر ہم ذرا وسیع کردیں تو جو استاد سال بھر اپنے وقت، اپنی صحت، اپنی تعطیلات اور اپنی سہولتوں کو قربان کرکے طلبہ کے لیے حاضر رہتا ہے، اس کی خاموش محنت بھی نظرانداز نہیں ہونی چاہیے۔
آخر انسان کو ہر وقت بڑی بڑی چیزیں نہیں چاہییں؛ کبھی ایک انعام، ایک سند، ایک مسکراہٹ، ایک تھپکی اور ایک جملۂ تحسین ہی کافی ہوتا ہے۔

تمام مدارسِ دینیہ کو دارالعلوم دیوبند کے اس عمل سے سبق لینا چاہیے؛ وسائل کم ہوں تو انعام کم سہی، مگر حوصلہ کم نہ ہو۔

معاشرے کا ہر فرد اور ہر جماعت انعام اور حوصلہ افزائی کی محتاج ہے۔ سب کو سب کے مناسبِ حال الفاظ و کلمات دیجیے، انعام و اکرام دیجیے؛ کسی کو ایک جملے کی ضرورت ہے، کسی کو ایک تھپکی کی، کسی کو ایک سند کی اور کسی کو ایک انعام کی۔ بس یہ دیکھیے کہ جسے جس وقت جس چیز کی ضرورت ہے، اسے وہ مل جائے؛ کیونکہ حوصلہ افزائی کا ہنر یہی ہے کہ آدمی کو وہ دیجیے جس سے اس کا حوصلہ بڑھے، نہ کہ وہ جس سے آپ کا بوجھ ہلکا ہو۔

(انیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)