*تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو*
✍🏻گل رضا راھی ارریاوی
ہمارا ملک آزاد ہے یہ لوگ جانتے ہیں ، ہم جیسے لوگ مانتے بھی ہیں یہ بھرم ہے کہ یہاں برابری کا حق دیاجاتاہے، حالانکہ اس کے خلاف ہے،برابری کا مطلب کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ تمام لوگوں کےلیے ایک قانون ،جب کہ مساوات کا مطلب یہ ہے کہ تمام مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے میں مساوات ہے یعنی اپنے مذہبی احکام پر چلنے کی برابری کے ساتھ پوری آزادی رکھتے ہیں ،
ملکی قانون مذہبی احکام کے خلاف نہیں ہے اور نہ مذہبی قانون ملکی قانون کے متضاد ہے ،سب میں سب کی گنجائش ہے ،مگر مسائل تب آتے ہیں جب کوئی ان میں تفریق پیدا کرنےاور کسی خاص طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتاہے-
مساوات کا مطلب ہے کہ ہم انسانی حقوق میں برابر کے شریک ہیں اور ہرکسی کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہے،آج کل کچھ لوگ مسلمانوں کے نئے خیر خواہ بننے کی کوشش کررہے ہیں، مذہبی احکامات میں دخل اندازی کو خیر خواہی سمجھتےہیں ،جب کہ یہ درست نہیں ،ہم حدود میں رہتے ہیں ،ملکی قانون کی حدود سے نہ تجاوز کریں گے اور نہ ہی شرعی حدود سے تجاوز کریں گے ہمیں اپنے دونوں حدود معلوم ہے-
یہ دراصل سادہ لوح مسلمان عورتوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کےلیے بہتر سوچ رہے ہیں، اس کے لیے یکساں سول متعارف کرارہے ہیں ، یکساں کوڈ مجموعی اعتبار سے دیکھا جاۓ تو ہندو کوٹ بل ہے یا اس کے مشابہ بل ہے یعنی وثنی ثقافت ہے
اس بل میں تین بنیادی غلطی ہے
نمبر 1 نکاح و طلاق 2 وراثت میں برابری 3 آزادی
1 نکاح و طلاق یہ مذہبی معاملہ ہے ،سیاسی معاملہ نہیں،اسلیے سیاسی عمائدین و قائدین کو اس میں سوچنے ضرورت نہیں ،نکاح وطلاق یعنی آدمی نے جس رشتے کو خود قائم کیا ،اس کے ختم کرنے پر خود قادر بھی ہے ،جنم جنم کا ناتا نہیں ،کیوں کہ نکاح مرد و عورت کی ضروت ہے جس سے زندگی باہمی تعاون سے گزرسکے ،رشتے جوڑے جاتے ہیں تاکہ زندگی میں خوبصورتی اور سکون آۓ لیکن رشتے کے انتخاب میں اگر کوئی غلطی ہوگئی تو کیا آدمی اس رشتے کو ختم نہیں کرسکتا؟ ختم کرسکتا ہے ،مگر یکساں سول کوڈ کی رو سے دیکھا جاۓ خود مرد یہ رشتہ نہیں کرسکتا ،عدالت اس کو ختم کرے گا حالانکہ یہ میاں بیوی کے ذاتی معاملات ہیں وہ اس رشتے کو ختم کریں یا باقی رکھیں ،اگر دائمی ناطہ ہوتو زندگی اجیرن ہے اگر رشتہ ختم کیا تو ریزن ہونا چاہیے جو کہ ہوتاہے ورنہ کسی کو اپنا گھر برباد کرنے کا شوق نہیں ہے،نکاح ہوتاہے گھر بستاہے محبت ہوتی ہے،یادیں جڑتی ہیں، پھر کوئی سبب یا وجہ ایسی بن جاتی ہے کہ رشتہ ختم کرنےکی نوبت آجاتی ہے، تو اس پر جبر نہیں ہوسکتاہے ، ختم کرنا ضروری ہوتاہے ورنہ زندگی ایک دوسرے کی اذیت میں گزرے گی ، زندگی آزمائش اور امتحان بن جاۓ گی جو اچھے معاشرے کےلیے درست نہیں -
اسلام میں طلاق کا ایک پورا ضابطہ ہے کہ طلاق کب، کیوں ،کیسے دینا چاہیے؟ ایسا نہیں کہ ہر وقت ہمیشہ دیتے رہو، طلاق غایت درجہ مجبوری کی چیز ہے اگر رشتے نبھانا مشکل ہے ،بات نہیں بن رہی ہے ،افہام وتفہیم بھی کافی ہوگئی ،رشتے تلخ ہوگیے تو طلاق لے لو ،پھر آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کرے ہوسکتا مستقبل کی زندگی ماضی کی زندگی سے بہتر ہو-
رشتہ میں جب زبردستی ہوجاۓ تو رشتے پھر رشتے نہیں رہتے بلکہ درد سر بن جاتے ہیں ،اجنبیت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتاہے
طلاق کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر عورت درست مزاج کی نہیں ہے ،یا پھر عیب ہے ،یا مرد کی بات پر عمل نہیں کرتاہے بد تہذیب ہے، ایسی عورت کے ساتھ زندگی عذاب سے کم نہیں ،سمجھانے کا سلسلہ بے فایدہ رہا اب ایک طلاق دے تاکہ عورت کو ڈر ہو اور اپنے غلطی کا احساس ہو اور وہ اچھی زندگی گزارنے کی کوشش کرے ،پھر اگر وہ نہیں مانتی تو ایک طلاق اور دے کر چھوڑے رکھے، رجوع نہ کرے حتی کہ عدت پوری ہوجاۓ ،اب جب عدت پوری ہوجاۓ وہ بائنہ ہوجاۓ گی، اگر عورت کو شرمندگی ہوگئی اور پہلے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے تو از سر نو نکاح کرلے اور زندگی شروع کرے پھر بھی نہ مانے تو تیسری طلاق دے کر راستہ الگ کرلے تاکہ دونوں اپنے لیے نیا شریک حیات تلاش کرسکے ،
یہی چیز مرد پر بھی منطبق ہوتی ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی پر ظلم کرتاہے ،اس کے حقوق ادا نہیں کرتاہے ،بدسلوکی کرتاہے اورسمجھا نے کے باوجود نہیں مانتا تو عورت کو خلع کا حق ہے کہ وہ شوہر سے طلاق لے کر اپنی نئی زندگی شروع کرے ،اگر بے ضابطہ طلاق دیتا ہے تو شریعت اس کا اعتبار کرتی ہے ،یہ آدمی اپنا فعل اس کی بنیاد پر اسلام کو نشانہ کسی بھی رو سے درست نہیں ،شریعت میں ابغض الحلال الی اللہ الطلاق ،المقصود: أن الطلاق حلال عند الحاجة إليه، ولكنه أبغض الحلال إلى الله، والمعنى في هذا الترغيب في عدم الطلاق، والحث على البقاء مع الزوجة إذا أمكن ذلك؛ لما في البقاء مع الزوجة من الخير والعفة؛ ولأنه سبب للأولاد، وعفته وعفتها، وغض البصر إلى غير هذا من مصالح.
لكن إذا كانت المودة غير موجودة، أو كانت هناك أسباب أخرى من سوء خلقها، أو فسقها، أو أسباب أخرى رأى المصلحة في طلاقها؛ فلا حرج في ذلك.
لیکن آج کل ناخواندہ طبقہ نادانی کی وجہ سے طلاق کا غلط استعمال کرتاہے،اس میں آدمی کا قصور ہے شریعت کا نہیں کیوں کہ شریعت حتی الامکان یہ کوشش کرتی ہے کہ طلاق نہ ہو
اب اگر طلاق کو کسی سبب پر موقوف کیا جاۓ تو یہ امر الٰہی اور اختیار سلب کرنے کا مترادف ہے جو کہ خالق نے دیے ہیں ، کہ خدا نےطلاق کو سبب کے ساتھ نہیں جوڑا آپ جوڑ رہے ہیں اس میں دو باتیں لازم آتی ہے
پہلا خدا نے طلاق کو سبب کے ساتھ مقید نہیں کیا کہ خدا اس سبب کو نہیں جانتاتھا یہ جہل ہے جو کہ عیب ہے دوسرا یہ کہ اس سبب کو جانتا تھا پر مقید کرنے پر قادر نہیں تھا کہ یہ عجز کا عیب ہے
سبب جانتا تھا قادر بھی تھا مگر بندوں کے حق میں منبظق نہ کیا کہ اس کے حق میں خیر ہو یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ خیرخواہ ہے حالانکہ ایک طرح کاظلم ہے ،یہ بھی عیب ہے جب کہ رب کریم ہرطرح کے عیب سے پاک ہے،وہ شفیق و مہربان بھی ہے
اب آگے دیکھیے !
خالق کائنات نےایک چیز کو سبب کے ساتھ مقید نہیں کیا اور انسان چاہتا ہے کہ وہ سبب کے ساتھ مقید ہو تو یہ انسان بیک وقت کئی چیزوں کا دعویٰ کرتاہے مثلا خالق جاہل ہے مخلوق عالم ہے یہ تو قضیہ عکسیہ ہوگیا، جو کہ درست نہیں اسی طرح وہ یہ بھی دعویٰ کرتاہے کہ میں کامل ہوں نعوذباللہ وہ ناقص ہے، میں قادر ہوں وہ عاجز ہے ،میں عادل ہوں وہ ظالم ہے العیاذ باللہ ،کیوں کہ اللہ تعالیٰ ایسی صفت سے پاک ہے جو ذات جلیل میں عیب پیداکرے ،تو یہ خدائی دعوی ہوگیا جو کہ باطل ہے
نمبر 2 عورتوں کی آزادی
آزادی انسان کا حق ہے مگر اس کے بھی حدود ہوتے ہیں
کیوں کہ انساں حدود میں رہ کر ہی اچھی زندگی گزار سکتا ہے ، اور اگر حدود سے تجاوز ہو تو اس کے بعد گمراہی کا دروازہ کھلتا ہے، بے سلیقہ اور بے ادب سمجھاجاتاہے جوکہ انسان کےلیے اچھی بات نہیں ہے اگرایک بار جادۂ حق سے منحرف ہوگیا تو پھر اجنبی راہ میں بھٹکتارہتاہے کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، اصول پسند، نفیس مزاج انسان کبھی اس کو گوارا نہیں کرے گاکہ وہ درست راستے سے بھٹک کر زندگی گزارے-
اسلام نے عورتوں کو وہ عزت ومقام دیا جو اسے مطلوب تھی ،شہزادی کا درجہ دیاہے،ان کے حقوق مقرر کیے، کسب معاش سے سبکدوش کیا،بیٹی ،بہن ،بیوی اور ماں کی شکل میں عزت دی ، ان کی حسن تربیت پر جنت کا وعدہ کیا گیا، ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھا گیا اور دیگر حقوق ،یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب عورت کا کوئی حق نہیں ہوتا تھا ،ان کو جنسی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھاجاتاتھا، ایسا تصور کسی مذہب نے پیش نہیں کیا -
آزادی دیکھیے!
ایک عورت کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق حاصل کرے ،اپنے ولی ولایت میں اپنے پسندیدہ مرد سے نکاح کرے ،اس کی اجازت نکاح درست نہیں بلکہ اس کو ختم کرنے کی آزادی ہے،اسکی ضروریات کا کفیل مرد کو بنایا تاکہ اس کے سر کسب معاش کی ذمہ داری نہ آۓ، حجاب کو آزادی کےلیے رکاوٹ قرار دینا یہ نہ صرف ناانصافی بلکہ یہ ایک الزام ہے،آپ عورت کے لفظ پر غور کیجیے جس کے معنی ہی پردہ کے ہیں یعنی عورت کی فطرت میں نمائش داخل نہیں بلکہ اس کو چھپانا ہے، اب اگر کوئی فطرت سے بغاوت کرے تو اس کا نقصان مغربی دنیا دیکھ رہی ہے فحاشی و عریانیت کادور ہے ایک عورت کتنے مردوں کے بستر کی زینت ہے اور سکون تو بالکل نہیں ہے ،ذلیل ورسوا ہے-
عورت میں کشش ہوتی ہے جب وہ پردہ ختم کرے گی تو مرد کی فطرت اس کی طرف مائل ہوگی ،مرد اس کے قریب ہونے کی کوشش کرے گا ،چاہے گا اس سے قربت اختیار کرے جس کا نتیجہ زنا ہے، اب اگر کوئی یہ کہے کہ مرد کو مائل نہیں ہونا چاہیے عورت کو دیوی ماننا چاہیے اور کیوں اس کی طرف دل مائل ہوگا ،غلط نتیجے پہ پہنچے گا، مرد کو اپنی نظر صاف کرنے کی ضرورت ہے ،خود کو پاک رکھنےکی ضرورت ہے ،یہ سب کہنے کی بات ہے آج کتنی عورتوں کے ساتھ برا سلوک ہورہاہے جنسی زیادتی کے واقعات کسی سے مخفی نہیں ہے ہردن بےشمار واقعات سامنے آتے ہیں کیوں کہ عورتوں کی بے پردگی مرد کی پاکیزگی میں رکاوٹ ہے دل اس کی طرف جھکتا ہے ،عورت کو دیکھ کر اس کے خیالات دل میں نہ آۓ تو اسے علاج کی ضرورت ہے ،اس طرح کی باتیں کرنے والے خود اس طرح کے مبتلاہوتے ہیں ،وہ چاہتے ہیں کہ جب ہماری ننگی ہے تو مسلمان عورت پردہ میں کیوں رہے جب ہم بے حیا ہیں تو مسلمان کیوں باحیا ہو؟
اسلام نے عورتوں کو پردہ کا حکم دیا ہے تاکہ عورت کی عزت محفوظ رہے اور مرد و عورت دونوں کی حفاظت ہوسکے-
بات چل رہی تھی اسلام نے عورتوں کو اتنا حق دیاہے کہ مزید کسی حق کی ضرورت نہیں ،اگر آپ قبل از اسلام زمانۂ جاہلیت کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آزادی کسے کہتے ہیں ؟ عورتوں کو کس طرح زمین میں دفن کردیا جاتا تھا ،اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے ،کیسے وہ اذیتوں کا سفر طے کررہی تھی ،اس کو صرف جنسی خواہشات ذریعہ سمجھاجاتاتھا،ان کے حقوق سلب کرلیے جاتے تھے،اسلام نے عورت کو نئی زندگی دی، ان کے حقوق مقرر کیے، مرد کو ان کے حقوق ادا کرنے کا پابند بنایا ،حسن سلوک کا حکم دیا، مسلم عورتوں کو آزادی کے نام پر گھر سے باہر لانا اور ان کی عزت کو تار تار کرناہے اس لیے یہ جال پھینکا جارہاہے-
نمبر 3 وراثت میں برابری
اسلام عدل کا حکم دیتا ہے مساوات کا نہیں ،انسان کو عدل کی ضرورت ہوتی ہے مساوات کی نہیں ،ہر معاملے میں مساوات درست بھی نہیں کیونکہ ہر انسان کی ضروت وصلاحیت الگ الگ ہے ،اگر مساوات کو رکھا جاۓ تو عدل کی نفی ہوگی جوکہ غلط ہےاور یہ دوسرے انسان کے ساتھ ناانصافی ہے،مثال سے سمجھئے ایک شخص کی تین اولاد ہے ایک طویل القامت ،ایک قصیر القامت اور ایک معتدل القامت ،اگر سب کو قصیر القامت کے اعتبار سے کپڑا دیاجاۓ تو کیا یہ سب کے لیے بہتر ہوگا نہیں ہوگا یہ ناانصافی ہوگی،حالانکہ معاملہ سب کے ساتھ برابری ہے،یہی حکم شریعت کا بھی ہے انسان کے تقاضے کو سمجھتے ہوۓ اس کےلیے وراثت کا حکم دیاہے کہ بیٹا گھر کا دوسرا باپ ہوتاہے باپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ساری ذمہ داری اٹھاتا ہے لوگوں کی آمد و رفت بیٹے کے پاس ہوتی ہے،بہن کی اگر شادی نہ ہوئی ہو تو بھائی اپنے پیسے سے بہن کی شادی کراتاہے ماں اگر ہوتو ان کی دیکھ ریکھ کرتاہے اورباپ نے اگر قرضہ چھوڑ رکھا ہے تو اس کو ادا کرتاہےاور بہن کا ایک روپیہ بھی اس طرح کے معاملات میں خرچ نہیں ہوتا اب اگر دونوں کو وراثت میں برابری حق دیاجاۓ تو یہ بھائی کے حق میں سراسر نا انصافی ہوگی جوکہ درست نہیں مزید یہ کہ عورت کو دو جگہ حصہ ملتا ہے باپ کے مال میں اور اپنے شوہر کے مال میں، تو ڈبل تو ہوگیا -
عورت کو وراثت میں برابری کے حق کی بات وہ کرتے ہیں جن کے یہاں وراثت کا کوئی تصور نہیں ،وہ اپنا سب کچھ بیٹے کو دیتے ہیں ،اس لیے اپنے بہن بیٹیوں کو پہلےحق دو پھر مساوات و عدل کا فلسفہ سمجھا جائیں گے -
جو لوگ مسلمان ہیں خواہ مرد ہو یا عورت قانوں شریعت پر عمل کرنا چاہیے اور یہ ہمارا دستوری حق ہے اس میں استطاعت کے بقدر حقوق اللہ ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ،لیکن جب بچیوں کی تربیت عملی طور پر ختم ہوجاۓ تو تشکیک اذہان کا شکار ہو کر اسلام سے بدگمان ہوجاتی ہے اور وہ دوسری راہ اختیار کرلیتے ہیں ،شروع سے ہمارا مزاج دینی ہونا چاہیے،تربیت بھی اسی نہج پہ ہوتو پھر یہ سب بےاثر ہوگا-
آج کل کچھ نام نہاد غیر مسلم مسلمان عورتوں کا خیرخواہ بنںے کی کوشش کررہاہے اور یہ چورن دے رہاہے کہ ہم مسلم عورتوں کا بھلا سوچ رہے ہیں ،انہیں طلاق سے نجات دلانے کی کوشش کررہے ہیں ،آپ یہ سوچیے کہ جو کبھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکا، وہ بھلا مسلم عورتوں کا خیرخواہ کیسے بن سکتا ہے ؟ جن کے سامنے ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان فساد کی زد میں آگیے تب تو خیر خواہ نہیں بنے اب کیسے بن گیے؟ آزادی کے بعد سے مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے ،ان کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہاہے ،مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش جاری ہے ،آۓ دن مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی خبر آرہی ہے ،بعض ریاستوں میں تو مسلمان کا بائیکاٹ کیا جارہاہے ،گندی گندی گالیاں دی جاتی ہے ،انہیں کے لوگ مسلم بہن بیٹوں کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت دے رہے ہیں ، مسلمانوں کو غدار ،ملک مخالف اور دہشت گرد قرار دیا جارہے تب ان کی خیرخواہی کا جذبہ نہیں جاگتا اب اچانک ان کو خیرخواہی سوجھ رہی ہے ، یہ سب ایک چالبازی ہے مسلم عورتوں کو گمراہ کرکے ہمدرد بننے کی تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے بدگمان ہوکر اسلام سے برگشتہ ہوجاۓ اور ان کی تہذیب اختیار کرلے، آج قرآن کی پکار صادق آرہی ہے یہ تم سےکبھی خوش نہیں ہونگے جب تک کہ تم اس کے ساتھ نہ ہوجاؤ -
ان سب مسائل کو اٹھاکر مسلم عورتوں کو ہندوانہ لالی پاپ پکڑا رہاہے، اس لیے مسلمان ہوشیار رہیں اور اپنی عورتوں کو ہوشیار رکھیں ،جو باشعور ہیں وہ شور فضول کے دام فریب کے شکار نہیں ہونگے اور جو بے شعور ہیں وہ شور کی زد میں پہلے سے ہی ہیں ،یہ شور نہیں دراصل چور کی زد میں ہیں،،بات بہت سادہ ہے جو آپ کے قوم کا خیر خواہ نہیں وہ آپ عورت کی
خیرخواہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو
تشنگی لب پہ سجاۓ ہوۓ مرجاؤ گے
وقت اس طرح بدل دے گا تمہارے خد و خال
اپنی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
یہی وہ لوگ جو مسلم عورتوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور کھلے عام گھومتے ہیں ،بلقیس بانو اور اس طرح کی دیگر عورت جن کے ساتھ زیادتی کی گئی کیا ان ناہنجاروں نے ان کی رہائی پر مجرموں کا پھول مالے سے استقبال نہیں کیا؟حالات کی رو میں بہنا نادانی اور بزدلی ہے ڈٹ جانا یہ بہادر قوم کی علامت ہے
برادران وطن سے گزارش ہے کہ بھائی خیر خواہی اپنے پاس رکھیں، ہمارے بارے میں بھلا براسوچنا چھوڑ دیں ،ہمیں اپنے حال پر رہنے دیں ،ہمیں کسی کے خیر خواہی کی ضرورت نہیں ہے، بھرم پھیلا کے ملک و ملت کا نقصان ہوگا ،بہتر ہے ،آپ اپنی قوم کا بھلا کریں اور ہم اپنی قوم کی ترقی اور فلاح وبہبود کی کوشش کریں گے ،اسی سے ملک میں امن و شانتی قائم رہے گی، مذہبی معاملات میں دخل اندازی در اصل باہمی اخوت و بھائی چارگی اور محبت کو نقصان پہنچائے گی-
اس لیے ہم مذہبی اختلاف کے باوجود اتحاد رکھ سکتے ہیں اور یہی حسن بھی ہے کہ گلشن میں مختلف پھول ہوتے ہیں جس کا رنگ اور خوشبو بھی الگ ہوتاہے مگر اس کے باوجود وہ ایک گلشن میں مسکراتی کلی ہے جو سامنے والے لیے باعث مسرت اور سامان تسکین ہے،یہ چیز ہم بھی اپنا سکتے ہیں اور پوری دنیا کےلیے مثال بن سکتے ہیں
باری تعالیٰ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرماۓ آمیں