سفرِ سیرت 
قسط نمبر 1


*ایک اعزاز ہے مداحِ پیمبر ہونا*

✍🏻 *محمد عادل ارریاوی
* 
_______________________________

اس زبان سے زیادہ مبارک کون سی زبان ہو سکتی ہے جو آقائے دو جہاں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سیرت کے تذکرے سے شاداب ہوتی ہو اور اس قلم سے بڑھ کر بابرکت اور باآثر قلم کس کا ہو سکتا ہے جو آقائے نامدار حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ذکرِ جمیل کی سعادت حاصل کرتا ہو؟ واقعہ یہی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا تذکرہ ہم سب کے لیے انتہائی عظیم سعادت اور خوش بختی ہے۔ ہماری زندگی کے کچھ لمحات ہمارے شب و روز کی کچھ ساعتیں اور حیاتِ مستعار کے کچھ اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں گزر جائیں ہمارے دل و دماغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے سے معمور و شاداب ہو جائیں تو ایک امتی کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے؟
دنیا میں جتنا لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے قلم کی حرکت جتنی زیادہ ہوئی اور ہوتی جا رہی ہے تقریر و تحریر ہو زبان و بیان ہو تصنیف و تالیف ہو یا قلم و قرطاس کا رشتہ سب سے زیادہ جس عظیم ہستی کے لیے مستحکم ہوا اور ہوتا جا رہا ہے وہ عظیم المرتبت رفیع الشان شہنشاہِ دو جہاں سرورِ کونین رحمتِ دو عالم رحمت للعالمین حضرت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔
قلم بھی گویا قرطاس کے بوسے لیتا ہے جب نامِ احمد صلی اللہ علیہ وسلم رقم کیا جاتا ہے۔ آپ ہی کی سیرت آپ ہی کی حیاتِ طیبہ اور آپ ہی کا اسوۂ حسنہ انسانیت کے لیے نمونۂ حیات بھی ہے اور نمونۂ عمل بھی۔ سیرت کا ایک ایک گوشہ آخرت کے لیے توشہ راہِ ہدایت اور زندگی گزارنے کا بہترین رہنما ہے۔
آسمان کی بلندیاں زمینوں کی وسعتیں سمندروں کی گہرائیاں پہاڑوں کی چوٹیاں نہروں کی روانی پھولوں کی مہک پرندوں کی چہچہاہٹ انس و جن کی تخلیق اور کائنات کی تمام رونقیں اللہ رب العزت کی پیدا کردہ ہیں اور اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ شمس و قمر لیل و نہار اور کائنات کی ہر چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ مبارکہ سے فیض یاب ہوئی۔
مختلف الطبع و مختلف الخیال اپنے اپنے فن میں ماہر اور محنت و جفاکشی سے بھرپور شخصیات دنیا میں پیدا ہوتی رہی ہیں اور صبح قیامت تک ہوتی رہے گی لیکن اللہ رب العزت نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مقام عطا فرمایا جس کی بلندی و رفعت کا مژدہ خود قرآنِ کریم نے سنایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ بنا کر بھیجا۔ ہر رنگ و روپ حاکم و محکوم غلام و آقا معلم و متعلم باپ و بیٹا شوہر و بیوی تاجر و خریدار غرض زندگی کے ہر طبقے اور ہر شعبے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی تعلیمات اور عملی حیاتِ طیبہ اسوہ قرار دی گئی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیماتِ زندگی ہر گوشے کے لیے شمعِ حیات ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے حقوق بیان فرمائے یہاں تک کہ چرند و پرند کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے حقوق و آداب بھی سکھائے۔ انسان کو حقیقی انسانیت اور انسان نوازی کا درس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ملا خواتین خصوصاً بیٹیوں اور عورتوں کے مظلوم طبقے کو ایسی محبت عزت درجات اور حقوق سے نوازا گیا کہ ان کی زندگیوں میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو گیا۔ معاملات و معاشرت کے ایسے اصول عطا فرمائے گئے کہ لین دین کی حد بندیاں حلال و حرام کی پابندیاں مالی پاکیزگی اور حسنِ معاشرت کی بنیاد مضبوط ہو گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی محسنِ انسانیت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دنیا ہی کے لیے رحمت نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے انسان کو عزت و شرف کا راستہ دکھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نے انسانیت کو توحید عدل امن اور اخوت کا پیغام دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ محمود عطا کیا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے شفاعت فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حوضِ کوثر کے مالک ہیں اور قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آپ کے حوض پر حاضر ہوگی۔ یہ سب اللہ رب العزت کی عطا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم مقام و مرتبہ ہے۔
اس لیے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ آپ کی مبارک زندگی اور آپ کے عظیم پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ یہ کام زبان کے ذریعے ہو یا قلم کے ذریعے تحریر کے ذریعے ہو یا کسی اور جائز و مؤثر ذریعے سے ہمیں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل پیغام زیادہ سے زیادہ انسانوں کے کانوں تک پہنچے لوگ آپ کی تعلیمات کو سمجھیں آپ کی سیرت سے واقف ہوں اور اپنی زندگیوں کو آپ کی مبارک تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
نوٹ۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر ہماری بھرپور کوشش رہے گی کہ اس سلسلۂ مضامین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیاتِ مبارکہ کے مختلف ادوار اور اہم پہلوؤں کو مستند عام فہم اور آسان انداز میں قارئین کے سامنے پیش کیا جائے۔
اس سلسلے کا آغاز زمانۂ جاہلیت کے حالات سے کیا جائے گا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اہلِ عرب کی کیا حالت تھی معاشرے میں کس طرح کی برائیاں پائی جاتی تھیں عورتوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا ان کے معاشرتی اخلاقی مذہبی اور سماجی حالات کیسے تھے اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ان حالات میں کس طرح ایک عظیم انقلاب برپا ہوا۔
اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت آپ کا مبارک بچپن جوانی آپ کی صداقت و امانت بعثت و نبوت آغازِ دعوت مکی زندگی کفار کی مخالفت شعبِ ابی طالب طائف کا سفر معراج ہجرتِ مدینہ مدنی زندگی غزوات دعوت و تبلیغ آپ کے اخلاق و معاملات اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ آپ کا برتاؤ فتحِ مکہ حجۃ الوداع اور آپ کی پوری حیاتِ طیبہ کے دیگر اہم اور سبق آموز پہلوؤں کو بھی یکے بعد دیگرے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کوشش یہی رہے گی کہ ہر قسط میں مستند روایات اور معتبر کتبِ سیرت سے استفادہ کرتے ہوئے بات کو عام فہم آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جائے تاکہ ہر طبقے کا انسان اسے سمجھ سکے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھنے کے بجائے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔
ہماری کوشش صرف یہ نہیں ہوگی کہ سیرت کے واقعات بیان کیے جائیں بلکہ حتی المقدور ہر واقعے سے حاصل ہونے والے سبق اور ہماری موجودہ زندگی سے اس کے تعلق کو بھی واضح کیا جائے تاکہ سیرتِ طیبہ ہمارے لیے صرف پڑھنے کی چیز نہ رہے بلکہ ہماری زندگیوں میں تبدیلی کا ذریعہ بنے۔
لہٰذا اگر آپ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو ابتدا سے انتہا تک ایک مربوط سلسلے کی صورت میں پڑھنا چاہتے ہیں تو اس سلسلۂ مضامین کی مکمل اقساط پڑھنے کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیے۔
اللہ رب العزت ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو صحیح طور پر سمجھنے اسے دوسروں تک پہنچانے صحیح اور سچی بات کہنے اور ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔