ایک دوست کہتا ہے، ’’عورتیں بڑی مکار ہوتی ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’سچ میں، مکاری و اداکاری تو عورتوں پر ختم ہے!‘‘
بیوی کے روپ میں ہوں تو ساس کے طعنے، نندو کی جلی کٹی اور خاوند سے اپنی اور اپنے والدین کی بے عزتی سن کر کتنی خاموشی سے پیاز کاٹنے کے بہانے بیٹھ کر رو لیتی ہیں۔ ماں باپ حال احوال پوچھنے آ جائیں تو خود پر بیتے کرب و اذیتوں کے آثار کو کتنی خوب صورتی سے چھپا کر چہرے پر جعلی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے سب ٹھیک ٹھاک ہونے کا بتاتی ہیں۔
اگر ساس کا پوچھیں تو کتنی عیاری سے خود پر ’’فاحشہ‘‘ اور ’’بدچلن‘‘ کے الفاظ سے اذیت کے نشتر چلانے والی ساس کو اپنی ماں کی طرح شفیق و مہربان بتاتی ہیں۔ شوہر کا پوچھو تو ہاتھ اور چہرے پر لگے اس کی درندگی کے نشانات پر دھیرے سے دوپٹہ سرکاتے ہوئے اسے ایک ہمدرد اور خیال رکھنے والا انسان بتاتی ہیں۔

ماں کے روپ میں ہوں تو شوہر کے سامنے اولاد کی غلطیوں کو کس اداکاری اور مکاری کے ساتھ اپنے سر لے لیتی ہیں اور اولاد پر آنچ نہیں آنے دیتیں۔ کھانا کم ہو تو اولاد کی خاطر کس خوب صورتی سے بھوک چھپا کر اپنا ہاتھ یہ کہتے ہوئے کھینچ لیتی ہیں کہ ’’میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔‘‘
غلطی پر بیٹے کو باپ کے سامنے کھانا نہ دینے کی دھمکی دینے کے بعد چوری چھپے کس طرح بیٹے کے بستر پر آدھی رات کو کھانا لے کر پہنچ جاتی ہیں۔

بیٹی کے روپ میں ہوں تو بابا کی غربت دیکھتے ہوئے تعلیم کے شوق کو چھپا کر کس طرح مکاری سے پڑھائی سے دل اچاٹ ہونے کی ایکٹنگ کرتی ہیں۔ عید کے موقع پر بابا کی جیب پر نظر رکھتے ہوئے مہنگے اور زرق برق لباس کی طرف کھنچتے دل کو روک کر کیسے نفرت کے ساتھ ان کپڑوں کو دیکھ کر بابا سے ان کی ناپسندیدگی کا جھوٹ بول کر سستے کپڑے پر ہاتھ رکھتی ہیں۔
۔۔۔ ہاں، میرے دوست! عورتیں مکار ہی تو ہیں۔۔۔

محمد مرسلین امبیڈکرنگر