*سعدیہ فاطمہ عبدالخالق*
ناندیڑ مہاراشٹر
8485884176
*سائینسی میدان میں مولانا ابوالکلام آزاد کی جدو جہد*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کو علم کی نعمت سے سرفراز کیا ہے ،
ہند اسلامی تہذیب کی جو روایات گیارہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی عیسوی تک پورے عرصے میں پھیلی ہوئی ہیں اس کی فکری حوالوں میں ایک شخصیت نظر آتی ہے جو ایک غیر معمولی انسان کی تھی اور یہ شخصیت اپنی بصیرت کی گہرائی اور شعور کی وسعت کے لحاظ سے اپنے زمانے میں بے مثال تھی ، دنیا اس غیر معمولی شخصیت کو مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ،
مولانا ابوالکلام آزاد مکہ کے مقدس تاریخی شہر میں 11 نومبر 1888ء کو اس دنیا میں تشریف لائے ، آپ ممتاز فاضل مولانا خیر الدین کے صاحبزادے تھے آپ ہندوستان آئے تو مولانا کی عمر سات سال کی تھی کچھ سالوں تک ان کی رہائش ممبئی میں رہی کچھ عرصے بعد کولکتہ چلے گئے ، تاریخ کا یہ حوالہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ باوجود اس کے کہ مولانا آزاد کی پرورش خوشحال گھرانے میں ہوئی ، مگر ان کی فکر و نظر بہت اونچی تھی ، انہوں نے بے فکری کے زمانے کو کھیل کود میں نہیں گزارا بلکہ تعلیم کو ابتدا ہی سے کامیاب زندگی کا مقصد سمجھا ، ان کی شخصیت کا سب سے بڑا وصف خود ان کی طبیعت کا ٹھہراؤ تھا ، ایک تحمل اور توازن کی دنیا ان کے اندر قائم تھی
محی الدین احمد ابو الکلام آزاد کی شخصیت قدرت کا عظیم شاہکار تھی ، مولانا ابوالکلام آزاد صحافی، ادب ، انشاء پرداز ، مقرر ، مفکر ، مفسر قران تحریک آزادی کے سپاہی قوم و ملت کے رہنما اور سیاستدان جیسی حیثیتوں میں انہوں نے ممتاز منفرد مقام حاصل کیا ، مولانا نے اپنی عملی زندگی کی شروعات ایک صحافی کی حیثیت سے کی صحافت کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو بیدار کیا ، تحریک آزادی میں ہم وطنوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کی ترغیب دی اور آزاد ہندوستان کی اہمیت اور اس کے تصور کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں توہم پرستی سے چھٹکارا دلانے ، سائینسی فکر کو عام کرنے ، سائنس کی تعلیم کے اصول کی ترغیب دینے اور سائنسی علوم کو فروغ دینے کے لیے خدمات انجام دیں ، ہندوستان میں آزادی سے قبل ستمبر 1946ء میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں آیا ابتداء میں مولانا ابوالکلام آزاد اس حکومت میں شامل نہیں تھے ، وزیراعظم جواہر لال نہرو کے اصرار پر 15 جنوری 1947ء کو وزارت میں شامل ہوئے اور مہاتما گاندھی کے مشورے پر انہوں نے وزیر تعلیم کا قلمدان سنبھالا بعد میں سائنس اور کلچر کی زائد ذمہ داری بھی انہیں سونپی گئی 1952ء میں جب پہلے عام انتخابات عمل میں آئے تو اس کے بعد مولانا آزاد وزیر تعلیم قدرتی وسائل اور سائینسی تحقیقات کے لئے مقرر ہوئے ، 1957ء کے دوسرے عام انتخابات کے بعد انہوں نے دوبارہ وزیر تعلیم اور سائینسی تحقیقات کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ، اس وزارتی عہدے پر وہ 22/ فروری 1958ء میں اپنی وفات تک قائم رہے ، مولانا ابوالکلام آزاد کے 11 سالہ دور وزارت ، ہندوستان کی تعلیمی ارتقاء کی تاریخ میں نہایت اہمیت رکھتا ہے ، فنی تعلیم کی کل ہند مجلس کی تنظیم جدید ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا قیام ، کونسل فار سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ( CSIR ) کو متحرک کرنا اور ان کے تحت سائینسی تحقیقات کی قومی اداروں کے قیام کا عمل میں لانا ، انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائینس بنگلور کو تیزی کے ساتھ ترقی دینا جیسے اہم امور اسی دور میں انجام پائے ، یہاں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہیں کہ انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائینس کا قیام آزادی سے قبل ہی عمل میں آیا تھا لیکن آزادی کے بعد اس ادارے نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی اعلی تعلیم و تحقیق کے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کر لی اس طرح مولانا آزاد نے ملک میں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم بشمول سائنس ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم کے اصول کا اہتمام کیا سائینسی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے درکار پروگرام اور منصوبے بنائے اور انہیں پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لئے کئی ایک سائنسی ، صنعتی ، تحقیقی و تربیتی اداروں کا قیام عمل میں آیا جن میں انفرااسٹرکچر اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کو اولین فوقیت حاصل رہی ، مولانا آزاد کو شدت سے اس بات کا احساس تھا کہ فنی تعلیم کے بغیر ملک میں صنعتی ترقی نہیں ہو سکتی اور معاشی ترقی کے لئے فنی تعلیم میں توسیع کا دیا جانا بے حد ضروری ہے ، مولانا آزاد ان باتوں کا اظہار تعلیم سے متعلق اپنی بیشتر تقریروں میں کر چکے ہیں چنانچہ انہوں نے 1951ء میں اپنے ایک خطاب میں فنی تعلیم سے متعلق کچھ اس طرح اظہار خیال کیا تھا کہ ۔۔۔۔ ,, وزارت تعلیمات کا جائزہ حاصل کرتے ہی پہلا فیصلہ جو میں نے کیا وہ یہ تھا کہ ملک میں اعلیٰ فنی تعلیم کے حصول کے لئے سہولت فراہم کی جائے تاکہ خود ہم اپنی اکثر ضرورتوں کو پورا کر سکیں ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے جو ملک سے باہر جاتی تھی خود ملک میں یہ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں ، میں اس دن کا منتظر تھا اور اب بھی ہوں جب ہندوستان میں فنی تعلیم کی سطح اتنی بلند ہو جائے کہ باہر سے لوگ ہندوستان اس غرض سے آئیں گے کہ اعلیٰ سائنس اور فنی تعلیم و تربیت حاصل کریں ، 1957ء کی ابتداء میں حکومت ہند نے scientific Manpower Committee کا تقرر عمل میں لایا اور ملک کے حرکیاتی سائنسداں ڈاکٹر ایس ایس بھٹناگر کو اس کا صدر مقرر کیا تھا ، اس کمیٹی کے تحت سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیق میں سروے کرتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا تھا کہ 1947ء سے 1957ء تک ملک کو کتنے فنی عملے کی ضرورت پیش آئے گی اور اس مقصد کے حصول کے لئے کیا تدابیر اختیار کئے جائیں ، اس کمیٹی نے ایک پنج سالہ منصوبے کی سفارش کی اور چند تجاویز پیش کئے ان تجاویز کو روبہ عمل لایا گیا جس کے نتیجے میں فنی تعلیم کی سہولتوں میں کافی اضافہ ہوا اور اس کے حصول کی نئی راہیں کھل گئیں ، مولانا آزاد کا یہ ماننا تھا کہ پنج سالہ منصوبے کا مقصد صرف زرعی پیداوار ، صنعت و حرفت ، بجلی ، ذرائع آمدورفت اور دوسرے زمروں میں ترقی کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اہل ملک اور نئی نسل کی ذہنی تربیت صحیح طور پر ہو ، تاکہ انہیں اچھے شہری بننے کا موقع مل سکے کیونکہ تعلیمی ترقی ہی میں ملک کی ترقی مضمر ہے ، وہ یہ جانتے تھے بلکہ اس کا اظہار بھی کیا کرتے تھے کہ ملک میں سائنس یا دوسری قسم کی استعداد کی کوئی کمی نہیں صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کو کس طرح بروئے کار لایا جائے یہی وجہ ہے کہ سائنسی اور تکنیکی تعلیم کی طرف ان کا دھیان ہر وقت رہتا ، اعلی فنی تعلیم اور تربیت کے لیے مولانا آزاد کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے 1951ء میں کھڑگپور انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ٹیکنالوجی کے قیام کو عملی شکل دی جو بعد میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں آئی آئی ٹی کھڑگپور کے نام سے ملک بھر میں شہرت حاصل کی ، 1950ء میں حکومت بنگال نے صنعتی ادارے کی تعمیر کے لیے کھڑگپور وزارت تعلیمات کو بارہ سوایکڑ زمین جس میں صرف دو ایک عمارتیں تھیں پیش کی اس ادارے کی ابتداء دو سو طالب علموں کے داخلے سے ہوتی ہے جنہیں 3 ہزار درخواست گزاروں میں سے چنا گیا تھا ، یہ ادارہ ایک سال کے عرصے میں مزید ترقی کی طرف گامزن ہوا انجینئرنگ کے بنیادی کورسز میں داخلوں کے ساتھ اس میں نیول آرکیٹیکچر ، ایگریکلچر، انجینئرنگ اور ارکیٹیکچر کی ڈگریوں کے لئے داخلہ دیا گیا ، production Engineering اور Combustion Engineering میں پوسٹ گریجویشن کورسز بھی شروع کیے گئے چند طلباء نے انجینیئرنگ کے کئی ایک میدانوں میں تحقیق کے غرض سے داخلہ لیا اس ادارے نے مینجمنٹ اسٹڈیز میں مختصر مدتی کورسز بھی شروع کیا جو ان دنوں سارے ایشیاء میں اپنی نوعیت کا واحد کورس رہا اس کورس میں صنعت ، کامرس سرکاری محکموں اور دوسرے اداروں سے لوگوں نے داخلہ لیا اور کارگر ایڈمنسٹریشن کے مشترکہ اصولوں سے جانکاری حاصل کی ، اس ادارے میں طلبہ کی جملہ تعداد بڑھ کر 700 سات سو ہوچکی تھی اور مزید ایک سال بعد ایک ہزار طلباء نے اس میں داخلہ لیا اس طرح مولانا آزاد کے دور وزارت میں قائم کیا گیا ایک چھوٹا سا ادارہ آگے چل کر بہت بڑے ادارے کی صورت اختیار کر لیا ، کونسل فار سائنٹیفک انڈسٹریل ریسرچ CSIR کا قیام 1942ء میں عمل میں آیا تھا لیکن اس کے توسیعی کام 1949ء سے شروع ہوئے پنڈت نہرو بحیثیت وزیراعظم اس کے صدر اور مولانا آزاد بحیثیت وزیر تعلیم اور سائنس اس کے نائب صدر مقرر ہوئے پنڈت نہرو بحیثیت صدر CSIR کی تمام ترقی کے ذمہ دار تھے ، مولانا آزاد اس کے روز بروز کے معمولات کے علاوہ اس کی طویل مدتی منصوبوں میں شریک رہے مولانا نے CSIR کے لئے سائنس کے انفراسٹرکچر کی ترقی کو جو سمت بخشی تھی وہ لائق تحسین ہے بقول خود ان کے وہ CSIR کہ امور میں بحیثیت وزیر نہیں بلکہ بحیثیت آفس بیرر کے شامل رہتے ، قوم کی ترقی میں سائنس کے اہم رول کے لئے مولانا آزاد کے خیالات بالکل واضح تھے سائنس کی خاطر خواہ خدمت کو سراہتے ہوئے وہ اپنے ملک کے ماہرین کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ سائنسی علوم کو سماجی ترقی کے لئے بروئے کار لائیں وہ انہیں اس بات کا انتباہ دیتے ہیں کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دریافتوں اور ایجادات کے انسانیت سوز استعمال سے باز رہیں ، مولانا آزاد 1952ء میں سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں آزادی کے بعد ملک میں سائنس کی ترقی ٹیکنالوجی کے فروغ اور تکنیکی
تعلیم کا جائزہ لیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اس عرصے میں تکنیکی تعلیم کی فراہمی میں بہت ترقی ہوئی ، آل انڈیا کونسل برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اور سائنٹیفک مین پاور کمیٹی سفارشات کو رو بہ عمل لاتے ہوئے یونیورسٹی اور دیگر اعلیٰ فنی اداروں کو تعلیم اور تحقیق کے لئے فراخدلانہ طور پر گرانٹ منظور کی گئی ، ڈیولپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے میں ملک کے مختلف حصوں میں دو تکنیکی اداروں کا قیام عمل میں لایا تھا انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس بنگلور کو وافر مقدار میں جاری کی گئی گرانٹ کے نتیجے میں اس کے موقوف میں نمایاں تبدیلی آئی اور اس کے تحت سائنس اور ٹیکنالوجی کے کئی بنیادی شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم اور تحقیق کو بروئے کار لایا جا سکا پالی ٹیکنیک کی ترقی اس حد تک عمل میں آئی کہ وہ دہلی یونیورسٹی کے لئے ٹیکنالوجی کے شعبے کی حیثیت سے خدمات انجام دے سکیں ، انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگپور اعلیٰ معیار کی تعلیم کے لئے شعبہ انجینیئرنگ و ٹیکنالوجی کے اہم میدانوں میں تحقیق کی گئی سہولتوں کی فراہمی انجام دے سکا مولانا کو اس بات کی قوی امید تھی کہ مستقبل میں یہ ادارہ ملک میں اعلیٰ ٹیکنیک کی تعلیم اور تحقیق میں ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا ، دنیا میں کامیابی اعمال کا نتیجہ ہے اور اعمال کے لئے پہلی چیز امید ہے ، اللّٰہ ہر کسی کو کامیابی عطاء فرمائے اور قوم کے لئے مولانا آزاد جیسے رہنما پیدا ہوتے رہیں ۔