کتابوں کی وجہ سے رہائش تنگ
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ایک صاحب علم، وسیع الحلم، قلیل الجسم، خفیف الوزن، کثیر الکتب، صاحب مطالعہ، محقق، مدقق اور صاحب نظر عالم ہیں۔ دور سے دیکھیے تو یوں محسوس ہوگا جیسے ابھی کسی مدرسے سے امداد یافتہ طالب علم کی حیثیت سے تشریف لائے ہیں، لیکن قریب جائیے تو کم عمری کے باوجود ان کا علمی استحضار دیکھ کر عقل بھی کچھ دیر کے لیے سوچنے لگتی ہے کہ اس چھوٹے سے جسم اور مختصر سے جثے میں اتنے علوم و معارف آخر سما کیسے گئے!
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کے تلمیذ رشید ہیں، اور ان کی علمی شخصیت میں مطالعے کی جو وسعت، تحقیق کی جو گہرائی اور نظر کی جو پختگی دکھائی دیتی ہے، وہ پہلی ملاقات میں خاصی حیران کن معلوم ہوتی ہے۔
کتابوں سے ان کا تعلق بھی کچھ ایسا ہے کہ اگر کسی اچھے خاصے مدرسے کی پوری لائبریری ان کے کتب خانے کے سامنے رکھ دی جائے تو شاید وہ اسے ’’ابتدائی سرمایہ‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جائیں۔ ان کے پاس کتابیں اتنی ہیں کہ بہت سے مدارس کے پاس بھی نہیں ہوتیں، اور جو کتاب ان کے پاس موجود نہ ہو، اسے حاصل کرنے کی فکر شاید ان کے لیے کسی عزیز کی خبر گیری سے کم اہم نہ ہو۔
ان کی کتابوں کے معاملے میں احتیاط بھی کچھ زیادہ ہی ضروری ہے۔ اگر آپ ان کی نظر بچا کر دو چار کتابیں اپنی البٹی میں رکھ کر لے آئیں تو اسے بھی کوئی غیر معمولی واقعہ نہ سمجھیے؛ اصل غیر معمولی بات یہ ہوگی کہ آپ کتابیں لے جائیں اور انہیں خبر نہ ہو!
وہ کتابیں صرف جمع نہیں کرتے، پڑھتے بھی ہیں؛ اور صرف پڑھتے نہیں، یاد بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان سے گفتگو میں کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سامنے ایک شخص نہیں، چلتی پھرتی لائبریری بیٹھی ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ لائبریری میں کتاب ڈھونڈنے کے لیے الماری کھولنی پڑتی ہے اور ان کے ہاں سوال کیجیے، جواب کے ساتھ حوالہ بھی حاضر ہوجاتا ہے۔
کیا آپ اس شخصیت کا نام بتاسکتے ہیں؟
(ناصرالدین مظاہری)