مصلحتوں کے سائے میں دم توڑتی قیادت: مسلم پرسنل لا بورڈ اور مزاحمت کا زوال
30 ستمبر، 2026
مصلحتوں کے سائے میں دم توڑتی قیادت: مسلم پرسنل لا بورڈ اور مزاحمت کا زوال
✍️محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
کسی بھی زندہ اور بیدار قوم کے لیے اس کی قیادت صرف فیصلوں کی توثیق کرنے والی کوئی قانونی مجلس نہیں ہوتی، بلکہ وہ عوام کی امنگوں، خودداری، غیرت اور اجتماعی ضمیر کا ترجمان ہوتی ہے۔ قیادت کا اصل جوہر تب سامنے آتا ہے جب حالات نامساعد ہوں، آئینی و مذہبی شناخت پر یلغار ہو اور قوم کے وجود پر خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب وقت کا تقاضا میدان میں آ کر حق کی آواز بلند کرنا ہو اور مقتدر قیادت رسمی بیانات، پریس کانفرنسوں اور "انتظامی اجازت ناموں" کی بھول بھلیوں میں گم ہو جائے، تو سب سے پہلے جو چیز دفن ہوتی ہے وہ عوام کا اعتماد اور مزاحمت کا جذبہ ہے۔
آج ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کا نمائندہ کہلانے والا سب سے معتبر ادارہ — آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ — ایک ایسے ہی شدید فکری اور عملی بحران سے دوچار نظر آتا ہے۔
بورڈ کی تاسیس کا مقصد اور موجودہ جمود
مسلم پرسنل لا بورڈ کی بنیاد ستر کی دہائی میں اس عزم کے ساتھ رکھی گئی تھی کہ یہ ملت اسلامیہ ہند کے تمام مسالک و مکاتبِ فکر کا ایک متحدہ آئینی و شرعی محاذ بنے گا، جو شریعت اور اسلامی تشخص پر ہونے والے کسی بھی وار کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگا۔ اپنے ابتدائی ادوار میں بورڈ نے عوامی بیداری، کانفرنسوں اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنی ساکھ قائم بھی رکھی۔ مگر گزرتے وقت اور تیزی سے بدلتے ہوئے ملکی و سیاسی منظرنامے نے یہ تلخ حقیقت واضح کر دی ہے کہ موجودہ قیادت مصلحت پسندی، بیوروکریٹک طریقہ کار اور بے جا احتیاط کے خول سے باہر نکلنے پر تیار نہیں۔
حالیہ برسوں میں چاہے وہ شریعت کے احکام میں ریاستی مداخلت کا سوال ہو، اوقاف کے تحفظ کا سلگتا ہوا مسئلہ ہو، مساجد و مدارس پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا معاملہ ہو یا پھر غریبوں کی بستیوں پر چلنے والے بلڈوزر— پرسنل لا بورڈ کا رویہ ہمیشہ دفاعی، روایتی اور مایوس کن حد تک سست رہا ہے۔
تاریخوں کا اعلان اور التوا کا کھیل: ملت کی مایوسی
مسلم پرسنل لا بورڈ کی حالیہ کارکردگی پر سب سے بڑا دکھ اور شکوہ یہ ہے کہ جب بھی ملت کسی بڑے فیصلے کی منتظر ہوتی ہے اور بورڈ احتجاج، ریلی یا عوامی بیداری مہم کے لیے کسی تاریخ کا اعلان کرتا ہے، تو اکثر و بیشتر عین وقت پر اسے "ناگزیر وجوہات" یا "انتظامیہ کے عدم تعاون" کا بہانہ بنا کر ملتوی کر دیا جاتا ہے۔
بار بار تاریخوں کا اعلان کر کے پیچھے ہٹنے کا یہ عمل کسی بھی تحریک کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ:
• عوامی اعتماد کا خاتمہ: عوام کے دلوں میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ قیادت صرف دباؤ کا تاثر پیدا کرنا چاہتی ہے، درحقیقت اس کے پاس کوئی عملی لائحہ عمل یا میدان میں اترنے کا عزم موجود نہیں۔
• اقتدار کی بے خوفی: ریاستی مشینری اور مخالف قوتوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اقلیتی قیادت کی مزاحمت محض بیانات اور سوشل میڈیا تک محدود ہے، لہٰذا وہ مزید سخت فیصلے مسلط کرنے میں بے باک ہو جاتی ہیں۔
• نوجوانوں میں بددلی: نوجوان نسل جو ہر چیلنج کے آگے سینہ سپر ہونے کے لیے تیار رہتی ہے، قیادت کی اس مسلسل بے حسی اور قدم پیچھے کھینچنے کی عادت کی وجہ سے مایوسی اور بے سمتی کا شکار ہو رہی ہے۔
"اجازت نامے" کی سیاست اور پریس ریلیز کلچر
نظم و ضبط، قانون کی پابندی اور پرامن طریقہ کار بلاشبہ ہر آئینی جدوجہد کی روح ہیں، اور جمہوری معاشرے میں انتظامیہ کو اطلاع دینا یا ضابطوں کی پاسداری کرنا سمجھ آتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئین ہند نے اپنے شہریوں کو پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی جو بنیادی آزادی دی ہے، وہ حکومتِ وقت کی خیرات ہے؟
جب قیادت ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر پہلے مخالف فریق یعنی ریاستی انتظامیہ کے پاس "اجازت کی عرضی" لے کر جائے گی، تو مقتدر قوتیں اجازت کیوں دیں گی؟ اور پھر جب اجازت نہ ملے، تو پریس کانفرنس بلا کر یا دو سطری اخباری بیان جاری کر کے یہ کہہ دینا کہ "ہمیں اجازت نہیں دی گئی اس لیے ہم پروگرام منسوخ کرتے ہیں"— کیا یہ جدوجہد ہے یا اپنے فرائض سے دستبرداری کا کھلا اعتراف؟ احتجاج سڑک پر اترنے اور عوامی نبض بننے سے پہلے ہی اے سی کمروں اور کیمروں کے سامنے دم توڑ دیتا ہے۔
یہ المیہ صرف پرسنل لا بورڈ کا نہیں بلکہ اس مجموعی مصلحت پسندانہ سوچ کا ہے جس نے قوم کو صرف "ماتم کرنے" اور "درخواست گزار بننے" تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔
شاہین باغ اور کسان تحریک کا آئینہ
قیادت کو اگر تحریکوں اور عوامی حقوق کی بازیابی کا مفہوم سمجھنا ہے تو اسے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اسی ملک کی سڑکوں پر جب ملک کا کسان اپنے وجود اور مستقبل کی لڑائی لڑنے اترا تھا، تو اس نے تھانوں کے چکر کاٹ کر اجازت کے پروانے جمع نہیں کیے تھے، بلکہ اس کے ہاتھ میں اپنے اصولی مطالبات کا جھنڈا اور سینے میں غیر متزلزل عزم تھا۔ کسانوں نے ہر موسم، ہر سختی اور ہر ریاستی حربے کا مقابلہ کیا اور بالآخر اقتدار کے غرور کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔
اسی طرح دہلی کے شاہین باغ اور ملک کے طول و عرض میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے جب اپنی شہریت اور وقار کے لیے پرامن دھرنے دیے، تو انہوں نے کسی اعلیٰ قیادت کے حکم یا اجازت نامے کا انتظار نہیں کیا۔ ان کی باوقار خاموشی اور پختہ ارادہ دنیا بھر کے ایوانوں میں گونج اٹھا، کیونکہ ان کا جذبہ سچا تھا اور ان کی مزاحمت مصلحتوں سے پاک تھی۔
وقت کی پکار: مصلحت چھوڑیں، ہمت آزمائیں!
ملت اسلامیہ ہند کو اس وقت روایتی اجلاسوں، لمبی لمبی قراردادوں اور کھوکھلی تسلیوں کی ضرورت نہیں۔ قانونی لڑائی عدالتوں میں ضرور لڑی جائے، مگر قانونی چارہ جوئی کبھی عوامی اور جمہوری بیداری کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کو اگر واقعی اس ملک میں مسلمانوں کی قیادت اور رہنمائی کا حق ادا کرنا ہے تو اسے چند بنیادی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا:
• تاریخوں کے تماشے بند ہوں: جب تک کسی تحریک کو انجام تک پہنچانے کا عزم اور دم خم نہ ہو، عوامی اعلانات کر کے بعد میں التوا کی ذلت نہ اٹھائی جائے۔
• عوامی صفوں میں واپسی: قیادت کو اپنے دفاتر اور ڈرائنگ رومز سے نکل کر عوام، طلبہ، نوجوانوں اور مخلص کارکنوں کے بیچ جانا ہوگا اور ان کے مسائل کو صرف مذہبی نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔
• دست بستہ سیاست کا خاتمہ: پرامن رہنا حکمت ہے، مگر بزدلی اور خوف کو حکمت کا نام دینا خود فریبی ہے۔ قوم کے قائد کو حقوق مانگنے والا نہیں بلکہ آئین کی روشنی میں حقوق کا محافظ بن کر کھڑا ہونا چاہیے۔
سب سے تاریک وقت وہ نہیں ہوتا جب مخالفین اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جائیں، بلکہ سب سے بھیانک دور وہ ہوتا ہے جب محافظ خود اپنے ہتھیار ڈال دیں اور تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر قوم کی پیشوائی کرنے والے محض "اجازت ناموں" کی منتیں کرتے نظر آئیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے لیے یہ خود احتسابی کا لمحہ ہے؛ یا تو وہ اپنے بانیوں کے وقار اور تاریخ کے تقاضوں کے مطابق ملت کے سفینے کو سنبھالے، ورنہ وقت کا دھارا ایسی قیادت کو حاشیے پر دھکیلتے ہوئے آگے نکل جائے گا۔