پان کھانے کا واقعہ اور ایک معمول

اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ: جب میں را ندیر میں تھا تو فجر کی اذان کے بعد تفریح کے لئے نکلتا تھا، گھر میں پان دان تھا ، مگر راستہ میں ایک ہندو کی پان کی دکان کھل جاتی تھی ، اس لئے ہمیشہ اس کے یہاں سے پان کھا کر آگے بڑھتا تھا، ایک دن میں نے بہت دور سے دیکھا : ایک گائے دکان کے سامنے سے گذری ، اور پیشاب کر رہی ہے ، دکاندار ایک لوٹا لے کر آیا اور گائے کے پیشاب کو لے کر کچھ چونے میں کچھ کتھے میں اور باقی دکان میں چھڑ کنے لگا۔ اس دن سے میں کسی ہندو کی دوکان سے لکویڈ (liqvid) چیز نہیں کھاتا، کیونکہ جس قوم کے نزدیک گائے کا پیشاب تبرک ہے، وہ معلوم نہیں اس کا استعمال کس کس چیز میں کرے گی ۔ (تحفۃ الالمعی ص ۱۴۵/۱۴۴ ج ۵ )