مسجد اللہ کا گھر ہےیہاں لوگ عبادت کرکے اطاعت خداوندی بجالاتے ہیں، ویسے تواللہ تعالی نے تو امت محمدیہ کے لیۓ ساری زمین کو عبادت گاہ بنا دیا، مگر پھربھی اجتماعی عبادت کےلیۓ جوعمارت بناٸی جاتی ہے عرف عام میں اسے مسجد کہاجاتا ہے-

قرآن کریم کے سورہ جن میں ارشاد باری تعالی ہے !

وان المساجد للہ فلاتدعو مع اللہ احدا

کہ بالتحقیق تمام سجدہ گاہیں اللہ ہی کےلیۓ ،پس اللہ کے علاوہ کسی کو مت پکارو-


بابری مسجد کی اہمیت وخصوصیات:


انہیں سجدگاہوں میں ایک بابری مسجد بھی ہے ،جو اس ملک کی ان قدیم مساجد میں سے ایک ہے جو فن تعمیر کا ایک شاہکار نمونہ ہے ،مسجدیں تو اوربھی ہیں، سب کی اہمیت و فضیلت مسلمانوں کی نظر میں مسلم و متساوی ہے ، لیکن بابری مسجد کی اہمیت مسلمانان ہند کی نظر میں زیادہ ہےکیوں کہ وہ اپنی تاریخی حیثیت سے منفرد شان رکھتی ہے ، یہ مسجد مسلم حکمرانوں کی یادگار اور ذوق حسن کی عمدہ تصویر ہے، تین گنبدوں والی یہ مسجد بابر بادشاہ کی یاد کو تازہ کرتی ہے، اس مسجد کی تین گنبد ہیں ،درمیانی گنبد قدرے مرتفع ہے ،جس سے مسجد کی خوبصورتی دوبالا ہوجاتی ہے ، مسجد کےمسقف حصہ میں تین صفیں اور ہر صف میں ایک سو بیس مصلی اور باہر چارصفوں کی وسعت تھی ، اس طرح بیک تقریباوقت ساڑھے آٹھ سو (850) مصلی نماز ادا کرسکتے تھے


بابری مسجد کی تعمیر:

یہ مسجد در اصل بابر شاہ کی وفات کے بعد ان کی یاد میں انکے اخص الخاص، وفاشعار وزیر میر باقی اصفہانی نے1528میں تعمیر کراٸی تھی ، ابتداۓ تعمیر ہی سے مسجد میں مسلمانان ہند پنج وقتہ نماز وہفت گانہ جمعہ اداکرتے آرہے تھے، عدالتی دستاویزات سے یہ بات واشگاف ہوتی ہے کہ ماضی قریب یعنی 1949 تک مختلف اٸمہ کے اقتدا میں مسلمانان ہند طمانیت قلوب کے ساتھ نماز ادا کرتے رہے ہیں ،

اس مسجد کاآخری امام حضرت مولانا عبد الغفار صاحب ؒ رہے، انہوں نے زمام امامت 1930سے 1949تک سنبھالی ،مغلیہ دور میں ساٹھ (60)روپیہ سالانہ تنخواہ دی جاتی تھے،جو بعد میں بڑھ کر تین سو دو روپے (302)تین آنے چھ پاٸی کردی گٸی ۔

حاصل کلام یہ کہ ابتداۓ تعمیر یعنی 1528 سے 1949تک مسلمان بابری مسجد میں بغیر کسی تشویش اور بلاکسی ممانعت وقرق کے نماز پنج گانہ وہفت گانہ ادا کرتے آرہے تھے ،یہ مسجد بحیثیت مسجد بلا کسی نزاع و اختلاف کے مسلمانوں کی مقدس ومحترم بیت اللہ و خانۂ خدا اور عبادت گاہ بنی رہی ، اس میں صداۓ توحید کے نغمے اور حیعلتین کی صدا ٸیں بلند ہوتی رہی ،اور پرستان باری تعالی ذکر خدا سے صیقل قلب و حصول رضاۓ الہی کی جستجو میں اپنے آپ کو محو کرتے رہے ۔

معتبر تاریخ نویسوں اور معتمد علیہ تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ ”فیض آباد“ سابق نام ”اجودھیا “میں مسلمان بابری مسجد کی تعمیر کی صدیوں پہلے سے آباد تھے، یہاں ہندو مسلم یکجہتی وو حدت میں مثال بنے رہے۔

تاریخ میں کہیں بھی یہ ثبوت نہیں ملتاہے کہ 1855سے پہلے کبھی بھی مذہبی معاملات میں کوٸی تنازعہ اور باہمی تصادم وٹکراٶ رونما ہوۓ ہوں، مستند تاریخ اور صحیح مٶرخ سے اس کا کوٸی ثبوت نہ آٸی۔

مندر ،مسجد کا قضیہ :

لیکن جب سےانگریزوں کا ناپاک سایہ اس ملک میں پڑا اسکے بعد سے ہی پیار ومحبت میں بے مثال، مختلف ملل کا گہوارہ ،مختلف قسم کے پھلوں کا یہ چمن، پیارا ملک تباہ وبربادی کے دہانے پہ آکھڑی ہوٸی ، جب سے یہ ملک اس کے قبضہ وتسلط میں آیا انہیں وہ دن دیکھنے پڑے جس سے ملک کا نقشہ ہی تبدیل ہو گیا ، یہاں کی خوشیاں ختم ہوگٸیں،یہاں کے گلشن پژمردگی واضمحلال کے شکار ہوگیۓ ،چونکہ انگریزوں نے مکاری وعیاری سےجالسازی اوت نفرت کی تخم ریزی شروع کردی تھی، قدیم خصلت سیٸہ ،مفروضہ وخود ساختہ نعرہ” لڑاٶ اور حکومت کرو “کے تحت یہاں کے باشندوں میں باہمی تصادم ومنافرت اورخانہ جنگی کی غرض سے مسجد ، مندر ،جنم استھان کا خود ساختہ قضیہ چھیڑدیا، جس کی وجہ سے 1855 میں خطرناک خونریزی ہوٸی ،ہزاروں لوگ شکنجہ اجل میں ہمیشہ کےلیۓ محبوس ہوگیۓ ، اسی وقت سے اختلاف کی شدت میں کافی ترقی ہوٸی۔ نوبت بایں جا رسد کہ بابری مسجد رام مندر میں تعمیر ہوگیا -

شاطر انگریز نے مفروضہ قصہ کےطورپہ سب سے پہلے جنم استھان اور سیتا کی رسوٸی تسویل ترتیب دیا ۔

ایک بدھسٹ نجومی کو سکھا پڑھا کر اس سے رام سیتا کے مقامات کی نشان دہی کراٸی ، اس نے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت زاٸچہ کشید کر کے بتلایاکہ رام کا جنم استھان اور سیتاکی رسوٸی" بابری مسجد" سے متصل احاطہ کے اندر ہے ۔

پھر کیا تھا انگریزوں نے اپنے زیراثر ہندوٶں کو اکسایا اور نشان زدہ مقامات کی حصولیابی کی تحریک میں کمر بستہ ہوگیۓ -

تف کی بات ہے کہ اس تحریک میں ایک غدار باغی خدا، کلنک مٶمن نقی علی خان جو نواب واجد علی کا خسر اور وزیر تھا اس کاطرف دار اورہم خیال تھا ، اس نے اپنے عہدے اور طاقت سے ناشناس نواب واجد علی صاحب کو ہمنوا وہم شریک بنالیا ،اس کا نتیجہ یہ ہواکہ انہوں نے نشان زدہ مقامات جو کہ دراصل مسجد کی امانت تھی بے دریغ ان کے سپر کردی ،اس وقت سےتاہنوز غیر اللہ کی پرستش جاری ہے - حالاں کہ مفروضہ قصہ کے برسہا برس پہلے سے جنم استھان کی مندر موجود تھی جو کہ حتی الآن موجود ہے۔

اس وقت مندر مسجد کے درمیان حد فاصل قاٸم کرنے کیلیۓ ایک آہنی سلاخوں سے حد بندی کردی گٸی ۔

اسی ناپاک شازش سے اجودھیا میں ہندو مسلم مذہبی تنازعہ ومنافرت کا آغاز ہوا اور مسجد مندر کے نام پرخون کی ندیاں سیلاب کی طرح بہہ گیا - 1857 کی جنگ آزادی میں یہ نزاع اس معاہدہ پر فروتر ہوا تھا کہ جو باباچرن داس اور اجودھیاکے مسلم قاٸد امیر علی کے درمیان طے پایا تھا کہ متنازع فیہ اراضی ہندو کو دیدی جاۓ اور ہندو بابری مسجد مسلمانوں کے سپر کردیں ،ہندوٶں کو بابری مسجد سے کوٸی سرو کار نہ ہو ناچاہیۓ دوسال کا شدید اختلاف ہمیشہ کےلیۓ ختم ہوگیاتھا ، باہمی محبت کے ساتھ شاہ ظفر کی قیادت میں جنگ آزادی لڑی گٸی ۔

ازسر نو مفروضہ قضیہ:


مگر انگریزوں کو یہ بات کب ہضم ہوسکتی تھی۔

چنانچہ انگریزوں نے رہنما امیر علی اور باباچرن دونوں کو املی کے درخت پر لٹکا کر پھانسی دےدی ، پھر سے مسجد مندرکے تنازعہ وقضیہ کو از سرنو زندہ کیا رام جنم استھان اور بابری مسجد کے درمیان ایک جدار کھینچ دی ،پھر ہندوٶں کو اس بات پہ آمادہ کیا کہ وہ پوری مسجد پہ دعوی کریں۔

اور مسلمانوں سے کہا! کہ وہ اس تقسیم پہ راضی نہ ہوں ،اس طرح یہ جھگڑا طول پکڑتارہا حتی 1948 /1949 میں جس وقت ملک فرقہ ورانہ تشدد کی آگ میں جھلس رہاتھا ، پورے ملک میں افرا تفری مچی ہوتھی 1949 کے درمیانی رات میں ابھے داس اسکے 50 / 60ساتھی مل کر مسجد کے عین محراب کے سامنے بت نصب کردیا اس وقت ڈیوٹی پہ کانسٹیبل ”ماتو پرشاد“ نے تھانہ میں مذکورہ معاملہ کی شکایت درج کراٸی کہ ابھے رام اور 50/60 نامعلوم ساتھیوں کے مل کر مورتی نصب کرکے مسجد کو ناپاک کردیاہے جس سے نقص امن کا خطرہ لاحق ہوگیا-


عدل و انصاف کا خون :


اس صورتحال سے آگہی ہونے کے بعد بھی اسی رپورٹ کو بنیاد بناکر فیض آباد کے سیٹی مجسٹریٹ نے دفعہ 145 کے تحت مسجد اور گنج شہیداں کوقبضہ کرکے تالا لگادیا اور ”پر یہ دت رام“ چیرمین نامی ایک غیرمسلم شخص کو اس کا رسیو مقرر کردیا نیز فریقین کے نام نوٹس جاری کردی دونوں اپنے اپنےدعوی پر دلیل پیش کریں ، سیٹی مجسٹریٹ کا یہ عمل زبان حال سے یہ بتارہاتھا کہ یہ سوچی سمجھی شازش ہے، ورنہ برسہابرس جماعت سے آباد مسجد کے بارے میں ثبوت طلب کرنا امر محال ہے ،اس بات کا کیا مطلب نکلتاہے کہ ثبوت طلب کی جاۓ جب کہ قدیم اور پرانی مسجد عرصہ دراز سے مسلمانوں کے عبادت کا مرکز رہا ہو ، عدل کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ماتو پرشاد کانسٹیبل کے شکایت کے مطابق مجرمین کو بلا تأمل سزا ملتی ،مورتی نکلوایاجاتا تاکہ تمام تنازعات کا فی الفور سدباب ہوسکے ،

مگر نہیں انہوں نے اس کو طول دیا، کوتاہی ،تملق بازی اور مداہنت سے کام لیا ،گویا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کو سب سے پہلا صلہ یہ ملا کہ ان کی قدیم مسجد ان کے ہاتھوں سےچھین لی گٸی ان کو مسجد میں جانے سےروک دیا گیا۔

بعد ازاں حکومتیں بدلتی رہی سب نے اپنے مفادات کو مد نظر رکھا، بابری مسجد کا معاملہ ٹلتا رہے،انکی پاکیزہ اراضی کفر وشرک کی نجاستوں سے پلید کیاجاتارہا اور مسلمانوں کودلاسہ اور لولی پاپ تھمادیا گیا، اور جھوٹی تسلی ملتی رہی،

تمام امور شر شب دیجور میں انجام پاتے رہے، اور مسلمانوں سے چھپ کر شازشیں ہوتی رہیں -


بابری مسجد کی شہادت:


پھر 6دسمبر 1992میں منصوبہ بندی کےتحت صبح سےشام تک اہل باطل نے کبر ونخوت سے پر ہوکر ظلم وجور سے مخصوص پروگرام میں شرکت کے نام پر خوبصورت قدیم مسجد کی عمارت کو ملبے میں تبدیل کردیا۔


حکمرا نوں کی بے غیرتی :


ان سب کے بعد بھی اس وقت کے وزیر اعظم نے جھوٹا حلف نامہ تیار کیا اور اطمینان دلایا کہ مسجد از سر نو تعمیر کریں گے مگر بس کہنے کی بات تھی کیونکہ جس سے بنی بناٸی مسجد بچ نہ سکی وہ کیا مسجد بناٸیں گے۔

خیر اس کے بعد مقدمہ داٸر کیاگیا ،مسجد کی بقا کےلیۓ مگر معاملہ طول وامل کے مابین معلق رہا، بابری مسجد کے فیصلہ کی تاریخ برابر دراز ہوتارہا۔

حتی کہ ساتویں مرحلہ میں بالآخر2010 کو یہ طول وامل کا یہ سلسلہ پوراہوگیا اور حتمی فیصلہ کردیا گیا یعنی بابری مسجد کی زمین رام مندر کے حق ملکیت میں دے دی گٸی ساٹھ (60)برس صبر آزما انتظار کے بعد الہ آباد ہاٸی کی ایک نششت میں یہ مذکورہ فیصلہ سنادیا گیا۔

جس سے بے جی پی اور کانگریس میں خوشی واطمینان لہر دوڑ گٸی بلکہ کانگریس کےجنرل سکریٹری نے تو یہ تک کہہ دیا کہ اس سے بہتر کوٸی اور فیصلہ نہیں ہوسکتا یہ سارے کام نگریس کے دور میں ہوا اور 2019 میں بابری مسجد کی جگہ رام مند کے تعمیر کا آغاز ہوگیا اور اب 22/1/2024 میں ہزاروں قلوب کو مجروح کرکے بڑی خوشی دھوم دھام سے ریلیوں کے ساتھ رام مندر کافتتاح کیا گیا-

اخوت وبھاٸی چارگی کا ڈھونگ رچی گئی اور تسلی کےلیے چند کلمات زخم پر نشتر چلا کر کہہ ریے گیے،


کچھ اہل ایمان بے غیرتی :


افسوس کی بات ہےکچھ نااہل دین کالبادہ اوڑھ کر اخوت و بھاٸی چارگی کاطبل بجاتے ہوۓ پہونچ گیۓ اور اس میں شریک ہوکر جھو ٹے خداٶں کو خوش کرنے لگے واضح رہے کہ کسی کفر وشرک پہ رضامندی بھی ایک طرح کا کفروشرک ہے۔

سیاہ دن:


یہ دن تاریخ میں سیاہ دن وسیاہ باب کی حیثیت سے لکھاجاۓ گا کہ مسلمانوں کی قدیم بابری مسجد شہید کرکے اقتدار کی قوت کے بل بوتے پہ رام مندر بناکر خوشی کا جشن منایا گیا پورے ملک کو وحشت میں ڈالا گیا ، تاریخ گواہ ہےکہ رات کےبعد دن اور اندھیرے کے بعد روشنی ہے ،

ان شاء اللہ ایک وقت آۓ گا جب ازسرنو اس جگہ بابری مسجد کی بنیاد رکھی جاۓ گی اور اصنام کو باہر پھینک دیاجاۓ گا جس طرح خانہ کعبہ کو ہمارےحضور پر نور ﷺ نے صاف کیاتھا۔

کیونکہ باری تعالی ارشاد ہے! ان مع العسر یسرا

ترجمہ: حقیقی بات ہیکہ تکیلف کے سہولت ہے۔


اللہ پاک مسلمانوں حوصلہ وقوت عطافرماۓ جرأت ایمانی سے سرفراز فرماۓ آمین


🖋️خامہ کش📚

گل رضارضا راہی