مہکتی کتابیں:
نام کتاب: بیگمات کے آنسو
(12،یاد گار کتابوں کا مجموعہ)
موضوع: ہنگامہ 1857ء
مصنف: خواجہ حسن نظامی
سن اشاعت: 2008
صفحات: 834
زبان: اردو
ناشر: (درجنوں مکتبے)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
1857ء صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے دہلی کے ایوانوں، کوچوں، بازاروں، محلوں اور دلوں کو ایک ساتھ ہلا دیا۔ تاریخ کی بڑی کتابیں عموماً بادشاہوں، سپہ سالاروں، معرکوں اور فیصلوں کا حساب رکھتی ہیں؛ مگر خواجہ حسن نظامی کی نظر وہاں بھی گئی جہاں تاریخ کے سرکاری رجسٹر عموماً خاموش ہوجاتے ہیں: خاص کر اجڑے ہوئے گھروں، بے سہارا عورتوں، بچھڑے ہوئے بچوں، مٹتی ہوئی تہذیب اور شکستہ دل انسانوں کی طرف۔
“خواجہ حسن نظامی کی بارہ قدیم یادگار کتابیں: 1857 سے متعلق” اسی دردناک تاریخ کے بارہ دریچوں کا مجموعہ ہے۔ 833صفحات میں پھیلی ہوئی یہ کتاب دراصل ایک عہد کے اٹھتے ہوئے جنازے کے ساتھ چلنے والی تحریری آنکھ ہے۔
اس مجموعے میں سب سے پہلے بیگمات کے آنسو آتی ہے۔ نام ہی بتا دیتا ہے کہ یہاں تاریخ کے بڑے واقعات کے درمیان ان عورتوں کی سسکیاں بھی محفوظ ہیں جن کے لیے غدر صرف سیاسی کشمکش نہیں بلکہ گھر، خاندان، آسائش اور زندگی کے چھن جانے کا نام تھا۔ اسی کتاب میں دکھیا شہزادی گل بانو کی آواز قاری کے دل پر دستک دیتی ہے:
" بابا! میں تمہاری گل بانو ہوں۔ دیکھو اکیلی ہوں۔ اٹھو، مجھے بخار چڑھ رہا ہے، آہ! میری پسلی میں شدت کا درد ہو رہا ہے، مجھے سردی لگ رہی ہے، میرے پاس اس بوسیدہ کمبل کے سوا اوڑھنے کو کچھ نہیں ہے۔ میری اماں مجھ سے بچھڑ گئیں، میں محلوں سے جلا وطن ہوگئی۔ بابا! اپنی قبر میں مجھے بلا لو۔"
یہ چند الفاظ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ 1857ء کو صرف توپوں کے دھوئیں اور تلواروں کی جھنکار میں پڑھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے؛ اس تاریخ میں ایسے آنسو بھی ہیں جن کی آواز صدیوں بعد بھی سنائی دیتی ہے۔
اور شاید اسی لیے خواجہ حسن نظامی نے خود اس کتاب کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
“میں نے یہ کتاب درحقیقت مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ لکھنے کے لیے تیار کی تھی۔”
بس! یہی ایک جملہ پوری کتاب کی روح سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ محض غدر کی داستان نہیں، مرنے والی تہذیب کا نوحہ ہے۔ اس لیے یہاں تاریخ صرف پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی ہوتی ہے۔
اس کے بعد انگریزوں کی بپتا ہے، جس میں 1857ء کے ہنگامے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر محاصرہ دہلی کے خطوط ہیں؛ خطوط ہمیشہ تاریخ کو خشک واقعات سے نکال کر زندہ انسانوں کے قریب لے آتے ہیں۔ ان میں محاصرے کی کیفیت، خوف، بے یقینی اور اس دور کے حالات کی جھلک ملتی ہے۔
بہادر شاہ کا مقدمہ دہلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تقدیر کو سامنے لاتا ہے۔ تخت سے عدالت تک کا یہ سفر ہندوستانی تاریخ کے ان المناک ابواب میں سے ہے جہاں ایک عہد کا اختتام ایک شخص کی زندگی کے انجام میں دکھائی دیتا ہے۔
پھر غدر کے فرمان ہیں، جو اس ہنگامہ خیز دور کے سرکاری اور سیاسی اعلانات کو محفوظ کرتے ہیں۔ اس کے بعد غدر کے اخبار آتے ہیں۔ اخبار کسی زمانے کی نبض ہوتے ہیں؛ اس لیے ان کے ذریعے 1857ء کے واقعات کو اس دور کے فوری ردعمل، افواہوں، اعلانات اور حالات کے آئینے میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
غالب کا روزنامچہ غدر تو اس مجموعے کا ایک نہایت دل کش گوشہ ہے۔ مرزا غالب کی نگاہ سے دہلی کو دیکھنا دراصل ایک عظیم ادیب کی آنکھ سے ایک عظیم سانحے کو دیکھنا ہے۔ غالب کی زبان، مزاج اور مشاہدہ اس زمانے کے ملبے میں ایک الگ ہی روشنی پیدا کرتے ہیں۔
دہلی کی جانکنی کے نام میں ہی وہ کیفیت چھپی ہوئی ہے جسے خواجہ حسن نظامی محسوس کرتے تھے۔ دہلی یہاں محض ایک شہر نہیں رہتی؛ ایک جیتی جاگتی تہذیب بن جاتی ہے جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔
غدر کے صبح شام میں اسی ہنگامے کے شب و روز کے مناظر سامنے آتے ہیں۔ کبھی صبح امید کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے، کبھی شام کا سایہ مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ تاریخ کے بڑے واقعات دراصل ایسے ہی چھوٹے چھوٹے دنوں اور راتوں سے مل کر بنتے ہیں۔
دہلی کی سزا میں شکست کے بعد کی وہ دنیا سامنے آتی ہے جس میں شہر کو صرف فتح نہیں کیا گیا بلکہ اس کے باشندوں کو بھی اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر دہلی کا آخری سانس آتا ہے؛ عنوان ہی قاری کو روک لیتا ہے کہ آخر وہ دہلی کون سی تھی جس کا آخری سانس بھی کسی نے قلم بند کیا؟
اور آخر میں ضمائم ہیں، جو اس تاریخی مواد کو مزید وسعت دیتے ہیں اور مجموعے کو محض ایک کتاب نہیں بلکہ 1857ء کے گرد جمع کیا ہوا ایک بڑا دستاویزی و ادبی ذخیرہ بنا دیتے ہیں۔
یہ بارہ کتابیں الگ الگ بھی اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یکجا ہوجانے کے بعد ان کا اثر کچھ اور ہوجاتا ہے۔ ایک کتاب میں عورتوں کے آنسو ہیں، دوسری میں انگریزوں کی بپتا، کہیں محاصرے کے خطوط ہیں، کہیں بادشاہ کا مقدمہ، کہیں فرمان اور اخبار، کہیں غالب کی نگاہ، کہیں مرتی ہوئی دہلی اور کہیں اس کے آخری سانس کی آواز۔
خواجہ حسن نظامی نے تاریخ کو صرف واقعات کے طور پر نہیں دیکھا؛ انہوں نے اس کے پیچھے چھپے ہوئے انسان کو دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں توپوں سے زیادہ کبھی کبھی ایک آہ سنائی دیتی ہے، جنگوں سے زیادہ کسی اجڑے ہوئے گھر کا سکوت محسوس ہوتا ہے اور سلطنت کے زوال سے زیادہ ایک تہذیب کے بکھرنے کا دکھ نمایاں ہوتا ہے۔
“مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ” مصنف کی یہ تعبیر اس پورے مجموعے کے لیے شاید سب سے جامع تعارف ہے۔
یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نہیں جو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں کیا ہوا تھا؛ یہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں لوگوں پر کیا گزری تھی۔
اور یہی فرق ایک تاریخ پڑھنے اور ایک تاریخ جینے میں ہے۔
آپ کو روزن ماضی میں جھانکنا ہی ہوگا، تاکہ آپ کا مستقبل کسی مثبت راہ پر گامزن ہوسکے۔
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ کی عملی تصویر اور تعبیر ہر دور میں صادر اور صادق ہوتی رہی ہے۔
میں کسی قاری سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے؛ ممکن ہے آپ کا مزاج دوسرے موضوعات کے مطالعے کا ہو، مگر یہاں رک کر دست بستہ عرض ہے کہ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ تاریخ کے ایک ایسے دور سے دور رہیں گے جس میں کئی صدیاں تاج و تخت پر براجمان رہنے والے بھی ملک بدری کی سزائیں جھیلنے پر مجبور ہوئے۔ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اپنے شاندار ماضی کے ساتھ اس کے افسوسناک ماضی کی تصویر کیسے دیکھ سکیں گے؟ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اپنے حال و استقبال کو کیسے سمجھ سکیں گے؟
(سترہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)