بنگلور والی بریلوی اماں
(ناصرالدین مظاہری)
غالباً 2017ء کے اواخر کی بات ہے۔ حرمین شریفین کی حاضری ہوئی تھی۔ آدمی جب حرم پہنچتا ہے تو جانے کتنے اجنبی چہرے اچانک جانے پہچانے سے لگنے لگتے ہیں، جانے کتنے لوگ چند دنوں میں ایسے اپنے ہوجاتے ہیں جیسے برسوں سے شناسائی ہو۔
انہی دنوں میرے ہوٹل میں ایک ضعیف، لاغر اور ناتواں سی بڑی اماں سے ملاقات ہوئی۔ عمر نے بدن کو کمزور کردیا تھا، مگر محبت نے آواز کو اب بھی جوان رکھا تھا۔ ان کی گفتگو میں ماں کی ممتا گھلی ہوئی تھی۔ وہ مجھے جب "ناصر بیٹا!" کہہ کر پکارتی تھیں تو نہ جانے کیوں میری روح کے کسی بہت پرانے گوشے میں چراغ سا جل جاتا تھا۔
وہ اپنے بیٹے، داماد، بیٹی اور نند کے ساتھ عمرہ کے سفر پر آئی تھیں۔ پہلے بھی حاضری ہوچکی تھی، مگر کہتی تھیں:
"پہلے والا حرم اور اب والا حرم، کوئی مطابقت ہی نہیں!"
پھر اپنی بات کی تفصیل بیان کرتیں اور میں ان کے چہرے کو دیکھتا رہتا۔
ان کی مادری زبان کنڑ تھی، جو میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھی۔ آخر ایک دن میں نے عرض کیا:
"اماں! آپ ہندی میں بات کرسکتی ہیں تو ہندی میں کیجیے، ورنہ آپ کی ساری گفتگو میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔"
وہ مسکرائیں اور بولیں:
"ناصر بیٹا! ہندی بہت کم آتی ہے، کوشش کروں گی۔"
چنانچہ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی ہندی میں بولتیں اور میں اپنی ٹوٹی پھوٹی سمجھ میں سے اکثر حصہ پکڑ لیتا۔ یوں زبان کا فاصلہ بھی محبت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
ان کے ساتھ ان کا بڑا بیٹا محمد عبادت بھی تھا۔ نوجوان، ہٹا کٹا، پھرتیلا، کسرتی جسم۔ بعد میں خود عبادت نے بتایا کہ وہ باڈی بلڈر ہے، پہلوانی کرتا ہے، مختلف ملکوں میں جاتا ہے، چیمپیئن ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ماں بوڑھی، بیٹا جوان؛ ماں کمزور، بیٹا پہلوان!
مگر ماں کے سامنے پہلوان بھی آخر بیٹا ہی ہوتا ہے۔
عبادت شادی شدہ تھا۔ اماں کے طرزِ گفتگو سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ الگ رہتا ہے اور اماں کسی دوسرے بیٹے یا بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اس بات کا ایک اور راز کچھ دن بعد کھلا۔
ایک روز جب عبادت وہاں موجود نہیں تھا، اماں نے پانچ ہزار ہندوستانی روپے نکال کر مجھے دیے اور کہا:
"ناصر بیٹا! ریال لے کر آؤ۔"
میں نے روپے لے لیے۔ پھر ذرا رک کر انہوں نے کہا:
"اور اگر عبادت آجائے تو اس کے سامنے مجھے مت دینا، وہ مجھے بہلا پھسلا کر لے لیتا ہے اور پھر دیتا نہیں!"
میں ہنس پڑا۔
ماں کا بیٹا چاہے باڈی بلڈر ہو، پہلوان ہو، چیمپیئن ہو، ملکوں ملکوں گھومتا ہو، ماں کی نظر میں پھر بھی وہی بچہ ہوتا ہے جو کبھی جیب خرچ لے کر غائب ہوجاتا تھا!
عبادت کے والد کا کافی پہلے انتقال ہوچکا تھا۔ میں اماں کے لیے ریال لاتا اور ساتھ پرچی بھی دیتا۔ میں پوری تفصیل بتاتا تو وہ کہتیں:
"حساب مت بتایا کرو، مجھے عبادت سے زیادہ تجھ پر اعتماد ہے!"
یہ اعتماد میرے لیے پانچ ہزار روپے سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔
اماں کی کیا کیا خوبیاں بیان کروں!
ان کا چہرہ دیکھتا تو یوں لگتا جیسے میری اپنی مرحومہ والدہ کا عکس سامنے بیٹھا ہو۔ بولنے میں وہی پیار، حکم دینے میں وہی ممتا، وقت پر کھانا نہ کھانے پر وہی ناراضی، اور اپنی بات منوانے میں وہی ماں والا اختیار!
ایک دن میں نے کہہ ہی دیا:
"اماں! میں آپ کا اتنا ادب اس لیے کرتا ہوں کہ آپ کی شکل و صورت بالکل میری مرحومہ والدہ جیسی ہے۔ ویسے ہی بولتی ہیں، ویسے ہی ناراض ہوتی ہیں، ویسے ہی اعتماد کرتی ہیں۔ بس یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کرناٹک میں کیسے پیدا ہوگئیں! وہاں کی تہذیب، کھانا پینا، بول چال کچھ بھی میرے پلے اور موافق نہیں پڑتا!"
وہ مسکرانے لگیں۔
پھر بتایا کہ انہیں ہندی اور اردو تھوڑی بہت اس لیے آتی ہے کہ وہ میسور شہر میں اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں اور وہاں بہت سے لوگ ہندی بولتے ہیں۔
یہ بزرگ خاتون بریلوی تھیں۔ ان کا پورا خاندان بریلوی تھا۔ مگر نہ ان میں کوئی تشدد تھا، نہ تعصب، نہ گفتگو میں مسلکی اجنبیت، نہ تعلق میں کوئی دیوار۔
ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا:
"ناصر بیٹا! یہ دیوبندی کیا ہوتا ہے؟ دیوبند کہاں ہے؟ کیا دیوبندی ہم لوگوں سے نفرت کرتے ہیں؟"
میں نے کہا:
"اماں! دیوبند تو سہارنپور میں ہے، لیکن دیوبندی کوئی الگ فقہی مذہب نہیں، ہم لوگ بھی حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کو مانتے ہیں۔"
کہنے لگیں:
"انہیں تو ہم لوگ بھی مانتے ہیں!"
بس بات ختم۔
نہ مناظرہ ہوا، نہ مناقشہ، نہ فتووں کی بارش۔
ایک طرف حرم تھا اور دوسری طرف ایک ماں کا دل؛ دونوں کے درمیان اتنی ہی جگہ تھی جتنی محبت کو چاہیے۔
اماں کہتی تھیں:
"ناصر بیٹا! انڈیا جاکر اپنی اہلیہ کو لے کر میرے پاس میسور آنا۔ یہ میرا حکم ہے!"
میں ہنس کر کہتا کہ ضرور آؤں گا۔
مگر زندگی بعض وعدوں کے ساتھ بڑی بے رحمی سے پیش آتی ہے۔
نہ میں اکیلا ان کے پاس جاسکا، نہ اپنی اہلیہ کو لے جاسکا۔
تقریبا ڈھائی سال پہلے تین مارچ 2024 کو ایک دن ان کی بیٹی، سلطانہ باجی کا فون آیا۔ آواز رو رہی تھی:
"ناصر بھائی! تمہاری اماں کا انتقال ہوگیا ہے۔"
إنا لله وإنا إليه راجعون۔
مت پوچھیے، یہ خبر سن کر دل پر کیا گزری!
جس میسور جانے کا ارادہ تھا، وہ میسور اب بھی وہیں ہے؛ گھر بھی شاید وہیں ہے، دروازہ بھی وہیں ہوگا، مگر وہ آواز جو بیٹا کہہ کر پکارتی افسوس ! کہ اب نہ رہی۔
ایک مرتبہ اماں کا فون آیا تھا۔ بہت مدھم اور مری مری سی آواز تھی:
"ناصر بیٹا! طبیعت خراب ہے، دعا کرنا۔"
میں نے دعا بھی کی تھی۔
مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ حرمین شریفین میں ہونے والی وہ ملاقات ہماری آخری ملاقات ہے۔
انسان ملاقاتوں کو آخری سمجھ کر نہیں کرتا۔ اسی لیے بعض ملاقاتیں ختم ہوجانے کے بعد عمر بھر ختم نہیں ہوتیں۔
کبھی کبھی آدمی سوچتا ہے کہ یہ کیسا تعلق تھا؟
نہ خونی رشتہ، نہ پڑوس، نہ برسوں کی شناسائی، نہ ایک شہر، نہ ایک زبان؛ ایک بنگلور کی اماں، ایک سہارنپور کا ناصر، اور ملاقات بھی چند دن کی!
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سامنے آتا ہے:
الأرواح جنود مجندة، فما تعارف منها ائتلف، وما تناكر منها اختلف۔
"ارواح لشکروں کی مانند ہیں؛ ان میں جو ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں وہ باہم الفت پیدا کرتی ہیں، اور جو نامانوس ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے سے دور رہتی ہیں۔"
(صحیح البخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3336؛
شاید اسی لیے بعض لوگ پہلی ملاقات میں ہی اپنے لگنے لگتے ہیں، اور بعض برسوں ساتھ رہ کر بھی اجنبی رہتے ہیں۔
میں یہ دعویٰ تو نہیں کرسکتا کہ عہدِ الست میں میری روح اور اماں کی روح ضرور ایک دوسرے سے ملی تھیں؛ اس کی تعیین نص سے ثابت نہیں۔ لیکن یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ بعض محبتیں اس دنیا کی ملاقات سے پہلے ہی کسی نامعلوم نسبت کا پتہ دیتی ہیں۔
شاید اسی لیے اماں مجھے دیکھ کر "ناصر بیٹا" کہتی تھیں، اور میں ان کی آواز میں اپنی ماں کی آواز سن لیتا تھا۔
اب اماں اس دنیا میں نہیں ہیں۔
لیکن ان کے داماد اب تک مجھے اپنا سالا کہتے ہیں اور جب بھی فون کرتے ہیں، ضرور بلاتے ہیں۔
رشتے بھی عجیب چیز ہیں!
کبھی خون سے بنتے ہیں، کبھی نکاح سے، کبھی دوستی سے، اور کبھی صرف چند دن کی محبت سے۔
اللہ پاک اماں کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور اگر وہاں بھی ملاقاتوں کا کوئی عالم ہے تو مجھے ان کی شفقت بھری آواز پھر سننے نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
(پندرہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)