مہکتی کتابیں؛

نام کتاب: الإشاعة لأشراط الساعة

مصنف کا نام : علامہ محمد بن رسول البرزنجيؒ
موضوع: علامات قیامت
تعلیقات: حضرت شیخ محمد زکریا کاندھلویؒ
ناشر: دار المنهاج، جدہ
جلد: ایک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مظاہر علوم سہارنپور کی تاریخ لکھی جائے اور اس کی خدمات حدیث کا ذکر نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ اس ادارے کی علمی شناخت میں درس حدیث، روایت حدیث اور خدمت حدیث کو ہمیشہ نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں حدیث صرف نصاب کا ایک مضمون نہیں رہی؛ اسے علم، عمل، روایت اور زندگی کے باہمی رشتے کے ساتھ پڑھا اور پڑھایا گیا۔ اس علمی روایت کو آگے بڑھانے والے اکابر میں ایسے نام ملتے ہیں جنہوں نے مسند درس سے لے کر تصنیف و تالیف تک حدیث کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔

مظاہر علوم کے فضائے علم سے وابستہ ان ہی جلیل القدر محدثین میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کا نام خاص طور پر امتیاز رکھتا ہے۔ حدیث کے ساتھ ان کا تعلق محض تدریس تک محدود نہ تھا؛ انہوں نے حدیث کے ذخیرے کو پڑھا، پڑھایا، سمجھا، شرح و تشریح کی ، مرتب کیا اور آنے والی نسلوں تک منتقل فرمایا۔ ان کی علمی زندگی کا بڑا حصہ بلکہ پوری زندگی کتب حدیث کے ساتھ گزری اور ان کی تصانیف نے برصغیر سے باہر بھی اہل علم کی توجہ حاصل کی۔

حضرت شیخؒ کی خدمت حدیث کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اسے چند سطروں میں سمیٹنا مشکل ہے، ’’الإشاعة لأشراط الساعة‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی ایک خاص علمی خدمت کی طرف اشارہ ضروری ہوجاتا ہے۔

علامہ محمد بن رسول البرزنجيؒ کی یہ کتاب جب حضرت شیخ محمد زکریا کاندھلویؒ کے مطالعے اور تحقیق کی میز پر پہنچی تو انہوں نے اسے محض ایک قدیم کتاب سمجھ کر گزر جانے کے بجائے اس کے ساتھ علمی امانت کا معاملہ کیا۔ کتاب کی روایات، حوالہ جات اور مختلف مقامات پر موجود علمی مباحث پر نظر ڈالی، ضروری مقامات کی نشان دہی کی اور اپنی تعلیقات کے ذریعے اس قدیم علمی ذخیرے کو عصر حاضر کے قاری کے لیے مزید قابل استفادہ بنا دیا۔

یہاں حضرت شیخؒ کی علمی شخصیت کا ایک نہایت خوب صورت پہلو سامنے آتا ہے: ان کے نزدیک کسی کتاب کی خدمت صرف اسے دوبارہ چھپوا دینا نہیں تھی؛ کتاب کی علمی حیثیت کو واضح کرنا، اس کے مآخذ تک پہنچنا، مشکل مقامات کو کھولنا اور قاری کو اصل ماخذ کی طرف متوجہ کرنا بھی خدمتِ حدیث کا حصہ تھا۔
’’الإشاعة لأشراط الساعة‘‘ اسی ذوقِ تحقیق کی ایک جھلک اپنے اندر رکھتی ہے۔

دنیا کی بہت سی کتابیں ہمیں گزرے ہوئے لوگوں سے ملاتی ہیں؛ کچھ کتابیں موجودہ زندگی کی الجھنیں سلجھاتی ہیں؛ لیکن کچھ کتابیں ایسی ہیں جو اچانک انسان کی نگاہ کو دنیا کے آخری کنارے تک لے جاتی ہیں۔ ’’الإشاعة لأشراط الساعة‘‘ بھی ایسی ہی کتاب ہے۔ اس کے اوراق پلٹتے ہوئے انسان صرف قیامت کی علامات نہیں پڑھتا، بلکہ اس حقیقت کو بھی محسوس کرتا ہے کہ جس دنیا کو ہم مستقل سمجھ کر آباد کیے بیٹھے ہیں، اس کی ایک مقررہ انتہا ہے۔

یہ کتاب علامہ محمد بن رسول البرزنجي الحسيني الشافعيؒ کی تصنیف ہے۔ مؤلف نے احادیث، آثار اور مرویات کے وسیع ذخیرے سے قیامت کی نشانیوں کو جمع کیا اور انہیں ایک ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی۔ کتاب میں علاماتِ قیامت کی مختلف قسمیں، ان کا ظہور، فتن و ملاحم اور آخری زمانے کے متعدد واقعات زیر بحث آتے ہیں۔

یہ کتاب صرف اس لیے اہم نہیں کہ اس میں قیامت کی بہت سی نشانیاں جمع کردی گئی ہیں؛ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس نے بکھرے ہوئے مواد کو ایک موضوع کے تحت یکجا کردیا۔ قاری ایک ہی کتاب میں ان روایات اور آثار کی ایک بڑی تعداد دیکھ لیتا ہے جو مختلف کتب حدیث و تاریخ میں منتشر تھے۔

حضرت شیخ محمد زکریا کاندھلویؒ کی تعلیقات اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ یوں ایک طرف علامہ برزنجيؒ کی قدیم علمی کاوش ہے اور دوسری طرف ایک متاخر محدث کی تحقیقی نگاہ؛ دونوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے، مگر موضوع ایک ہے: یعنی اس دنیا کے اختتام اور آخرت کے آغاز کی نشانیاں۔ یہاں پہنچ کر یہ کتاب ترین قدیم کتاب سے بڑھ کر علمی روایت کے تسلسل کی ایک خوب صورت ترین مثال بن جاتی ہے۔ اس کے اوراق میں ایک طرف محدثین کی روایت کی خوشبو ہے اور دوسری طرف آخرت کی یاد کی وہ سنجیدہ کیفیت جو انسان کو اپنے حال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

جن لوگوں نے حضرت مولانا بدرعالم کی ترجمان السنۃ پڑھی ہے وہ علامہ برزنجيؒ کی یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ قیامت کی علامات اور اس کا نقش و نقشہ پڑھتے پڑھتے جسم پر جھرجھری طاری ہوجاتی ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ باہر دروازے پر قیامت دستک دے رہی ہے۔ قیامت کی علامات اور قرب قیامت فتنوں پر کتابیں تو آپ نے بہت پڑھی ہوں گی مگر میرے مشورہ سے آپ یہ کتاب بھی پڑھ لیجیے ممکن ہے میرا یہ مشورہ آپ کے لئے یادگار ثابت ہو۔
سنا ہے اس کا اردو میں ترجمہ بھی کہیں سے شائع ہوگیا ہے ۔

ناصرالدین مظاہری

(چودہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)