مضمون(53) 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

بابری مسجد کا سانحہ — تاریخ کا زخمی صفحہ اور ملت کی بیداری

****************

بابری مسجد کا سانحہ محض ایک تاریخی حادثہ نہیں، یہ ایسے زخم کی یاد ہے جو ہندوستان کے اجتماعی ضمیر، اس کے دستور، اس کے سیکولر دعووں اور اس کی تہذیبی ہم آہنگی پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا ہے۔ 6 دسمبر ء1992 کا دن اس قوم کے لیے وہ لمحۂ فکریہ ہے جس نے یہ ثابت کر دیا کہ جب تعصب اور سیاسی مفادات انسانی قدروں پر غالب آ جائیں تو صدیوں پر مشتمل مشترکہ وراثت بھی لمحوں میں مسمار کر دی جاتی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک دردناک یاد ہے بلکہ ہر انصاف پسند انسان کے لیے آئینہ ہے کہ تاریخ کے ایسے سانحات کو صرف یاد رکھنا کافی نہیں، بلکہ ان سے سبق لینا اور مستقبل کو محفوظ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔

6 دسمبر ء1992 کا دن ہندوستان کے سیکولر کردار پر ایک ایسا دھبہ ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ایودھیا میں واقع 421 سالہ تاریخی بابری مسجد—جو مغل بادشاہ بابر کے عہد میں میر باقی اصفہانی نے بنوائی تھی—کو دن دہاڑے انتہا پسند ہجوم نے مسمار کردیا۔ یہ صرف پتھروں کی عمارت کا انہدام نہیں تھا، بلکہ یہ رواداری، بھائی چارہ اور جمہوری قدروں کے قتل کا واقعہ تھا۔

تاریخی پس منظر اور تنازع کی جڑیں

ء1949 تک بابری مسجد میں اذان گونجتی رہی، نماز ادا ہوتی رہی۔ مگر 22 دسمبر ء1949 کی تاریک رات میں مسجد کی محراب میں مورتیاں رکھ کر نئے تنازع کی بنیاد رکھی گئی۔ انگریز دور میں ء1859 میں اسے مسلمان اور ہندو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، مگر مسجد کی عمارت ہمیشہ مسجد رہی۔

انتہا پسند سیاسی و مذہبی عناصر کی منظم مہم ء1984 سے تیز ہوئی۔ اڈوانی کی رتھ یاترا اور بعض تنظیموں کی مہم نے پورے ملک کو نفرت کی آگ میں دھکیل دیا۔ ء1991 میں بی جے پی حکومت آتے ہی یہ آگ اور بھڑکائی گئی اور بالآخر 6 دسمبر ء1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا گیا، جس کے بعد ملک گیر فسادات میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔

سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے میں یہ حقائق تسلیم کیے گئے ہیں کہ :

مسجد ء1528 میں تعمیر ہوئی۔

ء1949 تک نماز ادا ہوتی رہی۔

مورتیاں رکھنا غیر قانونی تھا۔

مسجد کو گرایا جانا غیر قانونی تھا۔

کوئی تاریخی ثبوت نہیں کہ مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی تھی۔

باوجود اس کے فیصلہ ’’آستھا‘‘ کی بنیاد پر مندر کے حق میں آیا، جس سے مسلمان اور انصاف پسند شہریوں کے دلوں میں سوالات نے جنم لیا۔ 28 سال بعد تمام ملزمین کا بری ہونا انصاف کے اعتماد کو مزید کمزور کر گیا. 

جبکہ مسلمانوں نے آزادی کی جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا، مگر آج ملک میں نفرت کا لاوا. ابل رہا ہے۔جیسے ہجومی تشدد (موبلیچنگ) 

مساجد و مدارس پر بلڈوزر

میڈیا کی زہر افشانی

اقلیتی حقوق پر حملے

Places of Worship Act ء1991 کی پامالی

یہ سب ایسے چیلنج ہیں جنہوں نے ملک کے اجتماعی شعور کو مجروح کیا ہے۔

مسجد صرف عمارت نہیں، ایک زندہ روح رکھتی ہے۔ اس کی جگہ، اس کا محراب، اس کا گنبد—سب ابدالآباد تک مسجد ہی رہتے ہیں۔ اسے کہیں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

رام مندر کا افتتاح مذہبی نہیں، سیاسی مظاہرہ ہے 

بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح 22 جنوریء 2024 کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ہاتھوں ہونا صرف مذہبی واقعہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اسٹیج ہے۔ کئی ہندو رہنماؤں نے بھی اسے سیاسی حربہ قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ملک کے سیکولر ڈھانچے اور دستور کی روح کے لئے سوال بن کر کھڑا ہے۔

یہ سانحہ مسلمانوں کو صرف غم نہیں دیتا بلکہ ایک بڑا سبق بھی دیتا ہے:

1. مساجد کو آباد رکھو۔

2. ان کے اصل اسلامی کردار کو زندہ کرو۔

3. مسجد نبوی کے نظام کو بطور نمونہ اپناؤ۔

4. اتحاد، استقامت اور اسلامی اقدار کی حفاظت کرو

5. اللہ پر کامل توکل کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرو۔

قرآن کہتا ہے:

"مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔" (التوبہ: 18)

اور یہ کہ اللہ کی یاد سے روکنے والے ظالم ہیں۔ (البقرہ: 114)

بابری مسجد کی شہادت تاریخ کا وہ زخم ہے جو صرف مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہر انصاف پسند انسان کے دل میں تازہ ہے۔ لیکن یہ واقعہ مسلمانوں کو مایوسی نہیں بلکہ بیداری، تعمیرِ اجتماعی قوت، اور مساجد کی ازسرِنو حرمت و مرکزیت بحال کرنے کا درس دیتا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اتحاد، حکمت، جرأت اور مسجد نبوی کے نور سے دنیا بھر کی مساجد کو روشن رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔

بقلم محمودالباری 

mahmoodulbari342@gmail.com