سنو سنو!!

"بھگوان کا روپ"

(ناصرالدین مظاہری)

میرے چچا زاد بھائی مولانا محمد مشیر قاسمی کی اہلیہ یعنی ہماری بھابھی کے پتے میں پتھری تھی۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپریشن ہی اس کا علاج ہے۔

چنانچہ ہم لوگ لکھیم پور کھیری کے معروف اسپتال انوپم نرسنگ ہوم پہنچے۔ مریضہ کو داخل کرایا گیا، آپریشن ہوا اور بحمداللہ کامیاب رہا۔ لیکن آپریشن کے بعد بھی چند روز اسپتال میں رکنا تھا۔

اسپتال میں مریضہ کی دیکھ بھال کے علاوہ ہمارے پاس خاص کوئی مصروفیت نہ تھی۔میں نے مولانا مشیر صاحب سے کہا:

"جب تک یہاں ہیں، کیوں نہ ایک کام کریں؟"

انہوں نے پوچھا:
"کیا؟"
میں نے کہا:

"اسپتال میں جو مریض ہیں، صبح و شام ان کی خیریت معلوم کیا کریں۔ فرصت بھی ہے، موقع بھی ہے اور دین اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے کہ انسان، انسان کے کام آئے۔"

بات دل کو لگی اور ہم دونوں نے اسے اپنا معمول بنا لیا۔

صبح ہوتی تو وارڈ کا چکر لگاتے، شام ہوتی تو پھر مریضوں کے پاس پہنچ جاتے۔ کون مسلمان ہے، کون ہندو، اس سوال کو ہم نے کبھی درمیان میں نہیں آنے دیا۔ ہمارے لیے سب سے پہلے وہ مریض تھے، اور مریض ہونا ہی ان کے ساتھ ہمدردی کے لیے کافی تھا۔

کسی کو ڈاکٹر سے کوئی بات کہلوانی ہوتی تو ہم پہنچا دیتے۔ کسی کو بازار سے کوئی سامان منگوانا ہوتا تو لا دیتے۔ کسی کو دوا، پانی یا کھانے کی ضرورت ہوتی تو اپنی استطاعت کے مطابق پوری کرنے کی کوشش کرتے۔ کسی کے تیماردار کو کوئی پریشانی ہوتی تو جہاں تک ممکن ہوتا، ہاتھ بٹا دیتے۔ کسی پر کچھ پڑھ کر دم کردیتے ،
یوں چار پانچ دن گزر گئے۔

مسلمان مریض تو ہماری اس خدمت کو شاید دین اور اپنائیت کے دائرے میں سمجھ لیتے تھے، مگر غیر مسلم مریضوں اور خصوصاً عورتوں کے لیے یہ تجربہ کچھ نیا تھا۔
وہ ہمیں دیکھتیں تو ان کے چہروں پر تشکر اتر آتا۔ بعض عورتیں اپنے دوپٹے کا گوشہ اٹھا کر ہمارے لیے دعا کرتیں۔ کوئی کہتی:

"تم دونوں تو بھگوان کا روپ ہو!"

کوئی ہاتھ اٹھا کر کہتی:

"بھگوان تمہاری رکشا کرے!"

ہم انہیں سمجھاتے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں، اسے کوئی احسان نہ سمجھیں۔ انسان اگر دوسرے انسان کے دکھ میں شریک ہوجائے تو یہ احسان نہیں، انسانیت ہے۔

مگر شاید خدمت کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، اور اس زبان کے لیے کسی مترجم کی ضرورت نہیں ہوتی۔

نہ ہم نے کوئی تقریر کی، نہ کوئی وعظ دیا، نہ کسی کو اپنا ہم مذہب بنانے کی کوشش کی؛ بس چند دن ان کے درد کو اپنا درد سمجھ کر ان کے پاس کھڑے رہے۔

اور شاید یہی خاموش خدمت سب سے زیادہ بولتی ہے۔

جس دن اسپتال سے ہماری واپسی ہوئی، رخصت ہوتے وقت منظر عجیب تھا۔ جن مریضوں کے ساتھ چند دن پہلے ہمارا کوئی تعارف تک نہ تھا، ان کی آنکھوں میں ممنونیت کے آنسو تیر رہے تھے۔ کچھ عورتیں ہاتھ اٹھا کر دعائیں دے رہی تھیں، کچھ خاموش کھڑی تھیں اور کچھ کی آنکھیں جیسے یہ کہہ رہی تھیں کہ چند دن کی یہ اجنبی رفاقت دل پر اپنا نام لکھ گئی ہے۔

ہم اسپتال سے باہر نکل آئے، مگر ان آنکھوں کی نمی دیر تک ہمارے ساتھ چلتی رہی۔

تب مجھے محسوس ہوا کہ خدمتِ خلق صرف کسی کی ضرورت پوری کرنے کا نام نہیں، کبھی کبھی یہ انسان کے دل و دماغ تک پہنچنے کا راستہ بھی بن جاتی ہے۔

اور دین کی خوب صورتی یہ ہے کہ وہ ہمیں صرف اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں سکھاتا؛ وہ ہمیں انسان کے ساتھ حسنِ سلوک سکھاتا ہے۔

کبھی کبھی ایک دوا سے زیادہ مؤثر ایک دعا ہوتی ہے، ایک تقریر سے زیادہ مؤثر ایک چھوٹی سی مدد، اور ایک لمبی گفتگو سے زیادہ اثر انگیز کسی مصیبت زدہ انسان کے پاس چند لمحے خاموش کھڑے ہوجانا ہوتا ہے۔

ہم نے اسپتال میں چند دن گزارے تھے، مگر شاید ان چند دنوں میں ہمیں انسانیت کا ایک ایسا سبق مل گیا تھا جو کتاب کے کئی ابواب پر بھاری تھا۔

(پندرہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)