سنو سنو!!
سعید و اسعد اور سعادت مندی
(ناصرالدین مظاہری)
کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے، اپنے اندر ایک پوری دنیا آباد رکھتے ہیں۔ ’’سعید‘‘ بھی ایسا ہی نام ہے۔ عربی میں سَعْد خوش بختی، نیک بختی اور خوش حالی کے معنی دیتا ہے، سعادت خوش بختی کا نام ہے، سعید خوش بخت اور نیک بخت کو کہتے ہیں، اور مسعود وہ ہے جسے سعادت نصیب ہوئی ہو۔ گویا یہ سب الفاظ ایک ہی خاندان کے افراد ہیں؛ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی میں سعادت کی صفت ہے، کسی میں اس کا حصول، کسی میں اس کی زیادتی اور کسی میں اس کا نتیجہ۔
قرآن کریم نے انسانوں کے انجام کو بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر فرمایا:
فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ
’’ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت۔‘‘
(ہود: 105)
اور آگے ارشاد ہے:
وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا
’’اور جو لوگ سعادت مند ہوئے، وہ جنت میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
(ہود: 108)
قرآن کا یہ انداز ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سعادت محض چہرے کی مسکراہٹ، گھر کی آسائش، جیب کی فراوانی یا زندگی کی سہولت کا نام نہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ خوش حال دکھائی دیتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ وہ سعید بھی ہوں؛ اور بہت سے لوگ بظاہر سادہ زندگی گزارتے ہیں، مگر ان کے وجود سے دوسروں کی زندگی میں جو آسانی، راحت اور خیر پیدا ہوتی ہے، وہ انہیں حقیقی معنوں میں سعید بنا دیتی ہے۔
سعید ہونا دراصل خود بھی خیر پانا اور دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بننا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے:
خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ
’’لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔‘‘
یہ جملہ سعادت کا ایک عملی نقشہ پیش کرتا ہے۔ آدمی اپنے لیے تو بہت کچھ کرتا ہے؛ گھر بناتا ہے، کاروبار کرتا ہے، اولاد سنوارتا ہے، مستقبل محفوظ کرتا ہے، آرام کے اسباب جمع کرتا ہے؛ لیکن جب اس کی ذات کا دائرہ خود سے نکل کر دوسروں تک پہنچتا ہے تو اس کی زندگی کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔
کسی کے پاس مال ہے تو وہ سعید بن سکتا ہے، کسی کے پاس وقت ہے تو وہ سعید بن سکتا ہے، کسی کے پاس علم ہے تو وہ سعید بن سکتا ہے، کسی کے پاس تعلقات ہیں تو وہ سعید بن سکتا ہے، کسی کے پاس صرف ایک مسکراہٹ اور دو تسلی کے الفاظ ہیں تو وہ بھی سعید بن سکتا ہے۔
ہر شخص کے پاس کسی نہ کسی شکل میں ’’خیر‘‘ کا ایک حصہ موجود ہے۔
ضروری نہیں کہ آپ کسی غریب کے لیے لاکھوں روپے خرچ کریں؛ کبھی اس کی ضرورت صرف اتنی ہوتی ہے کہ آپ اس کی بات سن لیں۔ ضروری نہیں کہ کسی مریض کا پورا علاج آپ کرائیں؛ کبھی اسے صرف دوا کی دکان تک پہنچانے والے ایک آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ کسی مسافر کا پورا سفر آپ اٹھائیں؛ کبھی صحیح پلیٹ فارم بتا دینا بھی اس کے لیے بڑی مدد بن جاتا ہے۔
سعادت کے راستے پر چلنے کے لیے بڑے وسائل نہیں، بڑا دل چاہیے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہم بڑے بڑے نیکی کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں اور ہماری آنکھوں کے سامنے چھوٹی چھوٹی نیکیاں روزانہ آتی اور گزر جاتی ہیں۔ گھر میں بوڑھے والدین ہیں، ان کے ساتھ چند لمحے بیٹھنا بھی سعادت ہے۔ کسی طالب علم کی فیس رک گئی ہے، اس کی مدد کرنا سعادت ہے۔ کسی مسافر کو راستہ معلوم نہیں، اسے راستہ دکھا دینا سعادت ہے۔ کسی پریشان شخص کو یہ کہہ دینا کہ ’’گھبرائیے نہیں، میں آپ کے ساتھ ہوں‘‘ بھی سعادت ہے۔
کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا، دراصل اپنے لیے سعادت کا ایک دروازہ کھولنا ہے۔
اور اس سعادت کی ایک اور خوب صورتی ہے: اسے شور کی ضرورت نہیں۔
جو ہاتھ کسی کی مدد کرکے تصویر بنوانا چاہے، اس نے شاید مدد تو کردی، مگر خدمت کی روح کہیں راستے میں رہ گئی۔ خیر کا سب سے خوب صورت پھول وہ ہے جو خوشبو تو دے مگر اپنے مالی کا نام نہ پوچھے۔
سعید انسان دوسروں کے لیے سایہ بنتا ہے، دیوار نہیں؛ راستہ بنتا ہے، رکاوٹ نہیں؛ سہارا بنتا ہے، بوجھ نہیں۔
اسی لیے ’’سعید‘‘ ہونا صرف ایک نام نہیں، ایک مزاج ہے۔
نام سعید ہو اور طبیعت سخت ہو تو نام اپنی جگہ رہ جاتا ہے؛ لیکن نام کچھ بھی ہو اور انسان دوسروں کے لیے آسانی، خیر، محبت اور نفع کا ذریعہ بن جائے تو اس نے ’’سعید‘‘ کا مفہوم اپنے کردار میں پیدا کرلیا۔
سعداء وہ نہیں جو صرف خود مسکراتے ہیں؛ سعداء وہ بھی ہیں جن کی وجہ سے کسی دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔
اس لیے سعادت کا انتظار مت کیجیے کہ پہلے حالات بدلیں، وسائل بڑھیں، جیب بھرے، عہدہ ملے، پھر خیر کا کام شروع کریں گے۔
آج ہی کسی کے لیے آسانی بن جائیے۔
ممکن ہے آپ کسی کے لیے ایک معمولی سا کام کریں اور وہی کام آپ کے نامۂ اعمال میں سعادت کا ایک بڑا عنوان بن جائے۔