*کسبِ معاش: محنت، خودداری اور رزقِ حلال*
از: محمد معصوم ارریاوی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو عبادت کے ساتھ ساتھ زندگی کے معاشی معاملات میں بھی پاکیزگی، محنت اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، لیکن رزق کی تلاش کے لیے جائز اسباب اختیار کرنا بھی شریعت کی تعلیمات میں شامل ہے۔ چنانچہ مسلمان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ حلال ذریعۂ معاش اختیار کرے، محنت کو عار نہ سمجھے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جائز کوشش کرے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
(الجمعة: 10)
یعنی نماز پوری ہوجانے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اس آیت میں عبادت اور معاشی جدوجہد کے درمیان ایک حسین توازن کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔
محنت کی عظمت
نبی کریم ﷺ نے محنت کرکے کمانے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ»
یعنی کسی شخص نے اس کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اس نے اپنے ہاتھ کی محنت سے حاصل کیا ہو، اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔
(صحیح البخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2072)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حلال محنت انسان کے وقار کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے خودداری، عزت اور پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ کوئی جائز پیشہ چھوٹا نہیں؛ اصل قدر اس بات کی ہے کہ ذریعۂ آمدنی حلال ہو، کام دیانت داری سے کیا جائے اور کسی کا حق نہ مارا جائے۔
رزق کی تلاش اور توکل
بعض لوگ توکل کا مفہوم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انسان اسباب اختیار کیے بغیر صرف رزق کا انتظار کرے، حالانکہ شریعت کا مزاج اس کے برخلاف ہے۔ مسلمان کا دل اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھتا ہے، لیکن ہاتھ جائز اسباب اختیار کرتے ہیں۔
تاجر تجارت کرے، کسان کھیتی کرے، مزدور محنت کرے، استاد تعلیم دے اور ماہر اپنے ہنر کے ذریعے معاشرے کو فائدہ پہنچائے؛ ہر جائز کوشش قابلِ قدر ہے۔ البتہ دنیا کمانے کی دوڑ میں انسان آخرت کو فراموش نہ کرے، کیونکہ رزق کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
حلال کمائی کی برکت
حلال رزق صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی میں برکت، دل میں اطمینان اور عبادت میں پاکیزگی کا سبب بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں حرام مال بظاہر کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ انسان کے لیے حقیقی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ کمائی کے معاملے میں حلال و حرام کی تمیز کرے، دھوکا، خیانت، جھوٹ، ناجائز منافع خوری اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے بچے۔ کم آمدنی مگر حلال ہو تو وہ اس مال سے بہتر ہے جس میں حرام کی آمیزش ہو۔
*نوجوانوں کے لیے پیغام*
آج کے نوجوانوں کے سامنے تعلیم کے ساتھ ہنر اور خود کفالت کی بھی ضرورت ہے۔ دینی تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم بھی اپنی صلاحیتوں کو مفید بنانے کی فکر کرے اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والا بھی اپنے معاشی معاملات کو اخلاق و دیانت کے تابع رکھے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں میں محنت، وقت کی قدر، ہنر سیکھنے، خودداری اور حلال کمائی کا شعور پیدا کرنا ہوگا۔ قومیں صرف خواہشوں سے ترقی نہیں کرتیں؛ علم، کردار، محنت اور مسلسل جدوجہد سے ترقی کرتی ہیں۔
آخر میں یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ رزق ہماری محنت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے، البتہ محنت اس فضل کے حصول کا ایک جائز ذریعہ ہے۔ اس لیے نہ اسباب پر غرور ہو اور نہ اسباب چھوڑ کر بیٹھ جانے کا نام توکل رکھا جائے؛ بلکہ ہاتھ میں محنت، دل میں توکل، زبان پر ذکر اور کمائی میں حلال کا اہتمام ہو۔
محنت بھی ہو، دیانت بھی ہو، تقویٰ بھی ہو
پھر خدا کی عطا سے کیا کچھ نہیں ملتا!
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کمانے، حرام سے بچنے، اپنے ہاتھ کی محنت پر بھروسا کرنے اور اپنی کمائی کو اپنے لیے، اپنے اہلِ خانہ اور معاشرے کے لیے نافع بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

15 ربیع الثانی 1948 ہجری مطابق 28 ستمبر 2026 بروز پیر