اسلام نے خاندان کو انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دے کر اس کے ہر فرد کے حقوق و فرائض متعین فرمائے ہیں؛ چنانچہ والدین کے لیے اولاد کے حقوق ہیں اور اولاد کے لیے والدین کے حقوق، اور ایک صالح خاندان اسی وقت وجود میں آتا ہے جب دونوں فریق اپنے اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی پہچانیں؛ قرآنِ کریم نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دے کر ان کے عظیم مقام کو واضح فرمایا:وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ۝ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت و احترام کی بات کرو، اور ان کے سامنے رحمت و محبت سے عاجزی کا بازو جھکا دو اور دعا کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا اس آیت میں والدین کے حقوق کا ایسا جامع نقشہ پیش کیا گیا ہے جس میں ادب، نرم گفتاری، خدمت، عاجزی، شفقت اور دعا سب شامل ہیں؛ یہاں تک کہ معمولی سی بے زاری کے اظہار یعنی ''اُف'' سے بھی منع کیا گیا ہے، لہٰذا والدین کو گالی دینا، جھڑکنا، بلند آواز سے جواب دینا، ان کے بڑھاپے کو بوجھ سمجھنا یا ان کی خدمت سے جی چرانا اسلامی مزاج کے خلاف ہے؛ اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ یعنی والدین کے حق کو توحید کے بعد نمایاں مقام عطا کیا گیا ہے؛ اسی طرح فرمایا وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی۔ البتہ والدین کی اطاعت مطلق نہیں بلکہ شریعت کے تابع ہے؛ قرآن فرماتا ہے وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا اگر وہ دونوں تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرو، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ یعنی گناہ اور معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، لیکن معصیت سے انکار کرتے ہوئے بھی والدین کے ادب، حسنِ معاشرت اور خیر خواہی کو ترک نہیں کیا جاسکتا؛ والدین کے خصوصی مقام کی وجہ ان کی بے شمار قربانیاں ہیں، خصوصاً ماں کی، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرکے اسے حمل میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہے؛ کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اسی مضمون کو سورۃ الاحقاف میں یوں بیان فرمایا وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے مشقت کے ساتھ اٹھائے رکھا اور مشقت ہی سے اسے جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے رسول اللہ ﷺ نے والدین کے حق کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا؛ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کون سا ہے؟ فرمایا وقت پر نماز پڑھنا؛ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک؛ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت محض معاشرتی اخلاق نہیں بلکہ عظیم عبادت ہے؛ اور ماں کے حق کی عظمت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے کہ ایک شخص نے پوچھا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبُوكَ، یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: تمہاری ماں؛ پوچھا پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں؛ پوچھا پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں؛ پوچھا پھر کون؟ فرمایا: تمہارا باپ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کے حمل، ولادت، رضاعت اور پرورش کی مسلسل مشقتوں کی وجہ سے اس کا حق خصوصی تاکید رکھتا ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی خدمت کو جنت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر خاک آلود ہو، پھر خاک آلود ہو؛ عرض کیا گیا: کون، یا رسول اللہ؟ فرمایا: جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا، پھر بھی جنت میں داخل نہ ہوسکا۔ پس والدین کا بڑھاپا اولاد کے لیے بوجھ نہیں بلکہ جنت کمانے کا عظیم موقع ہے؛ والدین کے حقوق میں ان کی زندگی میں خدمت کے ساتھ ان کے انتقال کے بعد ان کے لیے دعا، استغفار اور ان کے دوستوں و رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی شامل ہے؛ دوسری طرف اسلام نے والدین کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ اولاد کے ساتھ ظلم، ناانصافی یا بے اعتدالی کریں، بلکہ **اولاد بھی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے** اور اس کے حقوق ادا کرنا والدین کی شرعی ذمہ داری ہے؛ قرآنِ کریم فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ اس آیت کا تقاضا ہے کہ والدین اپنی اولاد کی صرف جسمانی پرورش نہ کریں بلکہ ان کے ایمان، عقیدہ، عبادت، اخلاق اور کردار کی بھی حفاظت کریں؛ اولاد کو قرآن پڑھانا، نماز سکھانا، حلال و حرام سے آگاہ کرنا، اچھے اخلاق پیدا کرنا اور بری صحبت و برے ماحول سے بچانا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ لہٰذا باپ اور ماں دونوں اپنی اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ہیں؛ اولاد کا ایک بنیادی حق حلال رزق، نفقہ، لباس اور مناسب پرورش ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ اور بچے کے باپ پر دستور کے مطابق ان کا کھانا اور لباس لازم ہے۔ اسی آیت میں فرمایا۔ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ نہ ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کے باہمی اختلافات میں بچے کو انتقام، دباؤ یا نقصان کا ذریعہ بنانا درست نہیں؛ اسی طرح قرآن نے رضاعت کے حق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ، اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، جو رضاعت کی مدت مکمل کرنا چاہے۔ اولاد کا حق صرف زندہ رہنے اور کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ عزت، محبت، شفقت، تربیت اور عدل بھی اس کے حقوق ہیں؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔ لہٰذا بیٹے کو بیٹی پر، ایک بچے کو دوسرے پر، محض پسند یا ناپسند کی بنیاد پر غیر منصفانہ ترجیح دینا والدین کے لیے درست نہیں؛ اسی طرح اولاد کی دینی تربیت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں نماز کے معاملے میں تادیب کرو اور ان کے بستروں کو الگ کرو۔ یہ حدیث اولاد کی تربیت میں تدریج، نگرانی، عبادت کی عادت اور حیا و پاکیزگی کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کی عملی تعلیم بھی دی؛ آپ ﷺ نے فرمایا لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے۔ چنانچہ والدین کو چاہیے کہ اولاد کی تربیت میں محبت اور شفقت کو بنیاد بنائیں، کیونکہ صرف سختی سے جسم کو قابو کیا جاسکتا ہے، دل کو نہیں؛ اولاد کو وقت دینا، ان کی بات سننا، ان کی غلطیوں کی اصلاح کرنا، ان کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور انہیں اعتماد و محبت دینا بھی تربیت کا حصہ ہے؛ قرآنِ کریم اولاد کے معاملے میں ایک عظیم اصول بیان کرتا ہے وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اسی طرح فرمایا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ اور مفلسی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ اولاد رزق کا بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی عطا اور امانت ہے؛ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ لہٰذا اولاد سے محبت ضروری ہے، مگر ایسی محبت جو انہیں اللہ سے دور کردے، حرام کمائی پر مجبور کرے، فرض عبادات سے غافل کرے یا ناجائز خواہشات پوری کرنے کے لیے والدین کو گناہ میں مبتلا کرے، وہ محبت نہیں بلکہ آزمائش میں ناکامی ہے؛ اسی طرح والدین کو چاہیے کہ اولاد کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی اہتمام کریں، کیونکہ صرف ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا تاجر بنانا کافی نہیں، بلکہ صالح، دیانت دار، بااخلاق اور اللہ سے ڈرنے والا انسان بنانا اصل کامیابی ہے؛ والدین کے حقوق کا خلاصہ یہ ہے کہ اولاد ان کے ساتھ ادب و احترام کرے، نرم گفتگو کرے، جائز امور میں اطاعت کرے، ان کی خدمت کرے، خصوصاً بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے، ان کے لیے دعا کرے اور ان کی دل آزاری سے بچے؛ جبکہ اولاد کے حقوق کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین ان کے لیے حلال رزق، مناسب پرورش، محبت و شفقت، دینی و اخلاقی تربیت، تعلیم، عدل، حفاظت اور مستقبل کی درست رہنمائی کا اہتمام کریں؛ یوں اسلام خاندان میں صرف حقوق کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ذمہ داری کا شعور پیدا کرتا ہے؛ جو اولاد والدین کے حقوق ادا نہیں کرتی وہ اپنی سعادت سے محروم ہوتی ہے، اور جو والدین اولاد کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ اپنی امانت میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں؛ اس لیے گھر کے ہر فرد کو یہ سوال اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ میں اپنے حق کے ساتھ دوسرے کا حق کتنا ادا کر رہا ہوں؟ اگر والدین اپنی اولاد کو اللہ کی امانت سمجھ کر محبت، عدل اور دین کے ساتھ تربیت کریں اور اولاد اپنے والدین کو اللہ کی نعمت سمجھ کر ادب، خدمت اور وفاداری اختیار کرے تو گھر سکون کا گہوارہ، نسلیں دین و اخلاق کی امین اور معاشرہ امن و خیر کا مرکز بن سکتا ہے؛ یہی قرآن و سنت کا جامع خاندانی نظام ہے کہ والدین کی عزت بھی ہو، اولاد کی تربیت بھی ہو؛ والدین کی خدمت بھی ہو، اولاد کی کفالت بھی ہو؛ بڑوں کے ساتھ ادب بھی ہو، چھوٹوں کے ساتھ شفقت بھی ہو؛ حقوق کی ادائیگی بھی ہو اور فرائض کی جواب دہی کا احساس بھی ہو۔