بازار کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں دکانیں گاڑی گھوڑا بھیڑ بھڑکا آتا ہے مگر بازار ایک ایسا وسیع لفظ ہے جہاں انسان اپنی شناخت جذبے اور حتیٰ کہ اپنے ضمیر تک کی منڈی سجا کر بیٹھتا ہے
 یہ وہ مقام ہے جہاں روزمرہ کی ضرورتوں سے لے کر انسانی جذبات اور عزتِ نفس تک کی خرید و فروخت کا مکروہ کھیل پوری بے باکی کے ساتھ جاری رہتا ہے
اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ دنیا بھی ایک بہت بڑا بازار ہے جہاں ہر شخص کسی نہ کسی شے کا خریدار یا فروخت کنندہ ہے یہاں تعلقات کی بنیادیں بھی مادی مفادات پر استوار ہوتی ہیں اور محبت و اخلاص کے دعوے بھی اکثر اس منڈی کے نرخ پر تولے جاتے ہیں جہاں ایک طرف لوگ اپنی محنت اور ہنر کا تبادلہ کرتے ہیں وہیں دوسری طرف کچھ ایسے زاویے بھی ہیں جہاں مجبوریوں اور مفلسی کا فائدہ اٹھا کر انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے
اس بازار کی رونقیں جتنی دلکش اور پرفریب ہیں، اس کے اندرونی پردے اتنے ہی تاریک اور کربناک ہیں یہاں ہر سستا سودا مہنگا پڑتا ہے اور جب انسان اپنی ذاتی تسکین یا مادی مفاد کے لیے ضمیر کا سودا کرتا ہے تو وہ خود کو اس بازار کی بھیڑ میں ہمیشہ کے لیے گم کر بیٹھتا ہے ظاہری چکاچوند اور رنگینیوں کے پیچھے چھپے ہوئے اس مکروہ سچ کو سمجھنے کے لیے صرف آنکھوں کی نہیں بلکہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انسان اس بھیڑ میں کھو جانے سے بچ سکے اور اپنی حقیقی شناخت برقرار رکھ سکے

کاظم شیرازی