(14)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(بقلم محمودالباری) mahmoodulbari342@gmail.com
..............................
“دعا کا مقام، نبیوں کی عظمت اور اللہ کی مشیت کا صحیح فہم”
_________________
الحمد للہ رب العالمین، نحمدہ و نستعینه، و نستغفرہ و نعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا۔ من يهده الله فلا مضل له ومن یضلل فلا ہادی له۔ أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
اے ایمان والو!
آج ہم ایک ایسا موضوع زیرِ بحث لائیں گے جو اکثر لوگوں کی گفتگو میں بغیر تحقیق کے بیان ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات کم علمی یا سادہ ذہنی سمجھ بوجھ کی وجہ سے لوگ ایسی باتیں کر بیٹھتے ہیں جو عقیدہ اسلام کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک بات یہ ہے:
> “ماں کی دعا کا اثر تھا جس نے موسیٰ کو ‘موسی کلیم اللہ’ بنایا، اسماعیل کو ‘ذبیح اللہ’ بنادیا، عیسی کو ‘روح اللہ’ بنادیا، اور محمد کو ‘محمد الرسول اللہ’ بنادیا۔”
یہ بات دیکھنے میں خوبصورت لگتی ہے، لیکن اس کا مفہوم اور عقیدہ کی روشنی میں جائزہ لینے پر یہ بات درست نہیں۔ آج ہم اس کا مفصل جواب قرآن و حدیث سے بیان کریں گے تاکہ آپ اس کو سمجھ کر دوسروں کو بھی صحیح بات بتائیں۔
✅ دعا کا مقام کیا ہے؟
اسلام میں دعا کا بڑا مقام ہے۔ قرآن میں بار بار اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے کی تاکید فرمائی ہے:
> وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوهُ أستَجِبْ لَكُمْ – “تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہیں جواب دوں گا” (غافر: ٦٠)
> رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ – “اے میرے رب! مجھے صالح اولاد عطا فرما” (صافّات: ١٠٠)
یہ واضح کرتا ہے کہ دعا ایک عظیم وسیلہ ہے، لیکن اس کا اثر اللہ کے اختیار میں ہے۔
✅ نبیوں کی شان اللہ کی طرف سے ہے، نہ کہ کسی انسان کی دعا سے
ہم سب جانتے ہیں کہ:
موسیٰ علیہ السلام کو “کلیم اللہ” کہا گیا، کیونکہ اللہ نے اس سے بات کی، اس کے ساتھ کلام کا شرف عطا کیا۔
اسماعیل علیہ السلام کو “ذبیح اللہ” کہا گیا، کیونکہ اللہ نے اس کی قربانی کو عظیم کر دیا۔
عیسیٰ علیہ السلام کو “روح اللہ” کہا گیا، کیونکہ اللہ نے اس کو اپنی روح سے پیدا کیا اور معجزات سے نوازا۔
محمد ﷺ کو “محمد الرسول اللہ” اس لیے کہا گیا کیونکہ اللہ نے اس پر وحي نازل کی اور اسے اپنا رسول مقرر فرمایا۔
یہ سب اللہ کا انعام، قدرت، اور انتخاب ہے، کسی ماں کی دعا کا اثر نہیں۔
❌ ایسا کہنا کہ “ماں کی دعا کا اثر تھا جس سے یہ لقب ملے”، درست نہیں۔
؛؛ دعا ایک وسیلہ ہو سکتی ہے، لیکن اس کی تاثیر اللہ کے فضل اور حکم پر ہے، نہ کہ خود دعا کی طاقت پر۔
“ماں کی دعاؤں کا بہت بڑا مقام ہے، لیکن نبیوں کو جو اعلیٰ مرتبے، لقب اور کرامات ملیں وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت کا نتیجہ ہیں۔ دعا اس کا وسیلہ ہے، لیکن ان کا اثر صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب اللہ چاہے۔ اس لیے کہنا کہ صرف دعا نے ان کو نبی بنایا یا ان کے لقب عطا کیے، عقیدہ کے خلاف ہے، کیونکہ ہر چیز اللہ کی ذات سے ہے، اس کے فضل اور حکم سے ہے، نہ کہ انسانی اثر سے۔"
✅ قرآن کا واضح حکم
> إِنَّمَا تَشَاءُ بِإِرَادَةِ اللَّهِ – “انسان کی خواہش صرف اللہ کی مرضی سے پوری ہوتی ہے” (النساء: ٣٥)
> وَمَا تَشَاء إِلَّا اللَّهُ – “جو چاہے اللہ ہی چاہے” (آل عمران: ٤٠)
یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ کوئی بھی چیز اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتی، چاہے وہ دعا ہی کیوں نہ ہو۔
✅ دعا کا اثر کیسے ہوتا ہے؟
دعا کا اثر اللہ کی رحمت سے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کی طاقت سے۔ ماں باپ کی دعائیں ایک وسیلہ ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا اثر صرف اس صورت میں ہوگا جب اللہ چاہے۔ اسی لیے کبھی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور کبھی مؤخر کر دی جاتی ہیں۔
اگر کوئی کہے کہ “ماں کی دعا کا اثر تھا جس سے نبیوں کو ان کے عظیم مرتبے ملے”، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ:
1. اللہ کی قدرت محدود ہو گئی،
2. نبیوں کا مقام انسانی دعا کا نتیجہ ہے،
3. یہ عقیدہ اسلام کے اس اصول کے خلاف ہے کہ ہر شرف اللہ کی طرف سے ہے۔
✅ صحیح بیان کیا ہونا چاہیے؟
ہم اس طرح کہہ سکتے ہیں:
✔ “ماں کی دعائیں اللہ کے فضل سے قبول ہو سکتی ہیں اور اللہ ان کی دعاؤں کو وسیلہ بنا کر اپنے نبیوں کو خاص شرف عطا کر سکتا ہے۔ لیکن ہر چیز اللہ کی مشیت اور اس کی قدرت کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف انسانی دعاؤں کا اثر”
؛ عقل کم ہونے کی وجہ سے یا دین کی تعلیم کم ہونے کی وجہ سے بعض لوگ ایسی باتیں کر بیٹھتے ہیں جو سننے میں اچھی لگتی ہیں لیکن عقیدہ کو خراب کر دیتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ:
بات کرنے سے پہلے علم حاصل کریں،
قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کریں،
لوگوں کو صحیح بات سکھائیں،
اور اپنی زبان کو سنواریں تاکہ غلط عقائد نہ پھیلیں۔
آئیے ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ:
1. نبیوں کی شان کو اللہ کی طرف سے دیا گیا شرف سمجھیں،
2. دعا کا مقام جانیں لیکن اس کا اثر اللہ کی مشیت سے مربوط کریں،
3. اپنے عقیدے کو قرآن و حدیث کے مطابق مضبوط بنائیں،
4. کم علمی کی بنیاد پر پھیلنے والی باتوں کا مؤدبانہ اور وضاحتی رد کریں،
5. دعا کریں کہ اللہ ہمیں سچ سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور دوسروں کو سمجھانے کی توفیق دے۔
اللہم اجعلنا من الذين یستمعون القول فیتبعون أحسنه، اللہم صل وسلم وبارک على سيدنا محمد وعلى آلہ وأصحابہ أجمعین۔واجعلنا من عبادك الصالحين، وارزقنا علماً نافعاً، وعملاً متقبلاً۔