سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹر 8485884176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*بیٹیوں کی پرورش سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سائے میں*
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، محسن انسانیت رحمت عالم سرکار دو جہان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر ہماری جان و مال قربان ، ساری انسانیت کے لئے رحمت اور باعث ہدایت بن کر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس دور میں تشریف لائے اس دور میں انسانیت سسک رہی تھی ، ساری دنیا میں ظلم اور ناانصافی کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی ، انسان کی کوئی حیثیت نہیں تھی ، عورتوں کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں تھی ، ان کو انسان سمجھا ہی نہیں جاتا تھا، دنیا جن حالات سے گزر رہی تھی وہ جہالت کا دور تھا ، قانون اور انسان کا وجود نہیں تھا ، عورتوں کے لئے کوئی حقوق نہیں تھے ، بلکہ لڑکی کی پیدائش کو عیب اور عار سمجھا جاتا تھا ، عرب میں لڑکی کی پیدائش کے بعد اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ، سماج میں کسی کے پاس شرمندگی کا احساس تک نہیں تھا ، ظلم و تاریکی کے اس ماحول میں رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ، حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بزم ہستی میں معجزہ سراپا اور مجسم کمال و خوبی بن کر جلوہ افروز ہوئے ، عہد طفولیت سے لے کر حیات دینوی کے آخری لمحوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا معجزہ تھی جو شعور و ادراک بشر سے ماورا ہے ، اس کا زبان و قلم سے احاطہ کرنا ناممکن ہے ، ارشاد ربانی یوں ہوا کہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا اور ان کے ذریعے سے سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو ، ( سورہ نحل : 36 ) ، اس کائنات کے پیدا کرنے والے کا انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام میں جو نبی سب سے آخر میں تشریف لائے ان کی دعوت اور ان کی زندگی کے حالات اس وقت اور تفصیل کا یہ حال کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ، زندگی گزارنے کا ڈھنگ ، شکل و صورت ، اٹھنا بیٹھنا ، بول چال ، رہن سہن ، معاملات ، انتہا یہ کہ کھانے ، پینے ، سونے، جاگنے ، ہنسنے ، بولنے تک کی ایک ایک ادا محفوظ رہ گئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزم استقامت کے ساتھ توحید و انصاف اور مساوات کے پیام کو عام کیا ، کفر اور شرک کے اندھیروں کو مٹایا ، لوگوں کو سوئے حرم بلایا تو اللہ رب العزت نے آپ کو وہ کامیابی عطاء کی جس کا کبھی کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کی دوران ہی سارا ملک عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے لگا ، جہاں بت پرستی ہوا کرتی تھی وہاں توحید کے نغمے گائے جانے لگے ، اپنے آخری حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو جو پیام دیا وہ انسانیت کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھنے کے قابل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر غلاموں ، اپنے ماتحتوں اور عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی اور اس پیام کو دوسرے تک پہنچانے کی ہدایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 23 سال کی دعوت تبلیغ میں جو انقلاب برپا کیا وہ آج تک کسی قوم نے انجام نہیں دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور دعوت عالمانہ نے ایک دنیا کو مسخر کر لیا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سارے انسانوں کی دنیا اور آخرت کی کامیابی اور ان کی کامیابی کی سرفرازی کے لئے حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت عالم انسانیت کی ہدایت کامیابی اور دینی وہ دنیاوی ترقی کے لئے رحمت ہی رحمت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پیکر میں صحابیات نے اپنے آپ کو ڈھال لیا سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نصب العین اور مقصد زیست بنا لیا تھا اور تادم اخیر ، اسی سے رہنمائی اور روشنائی حاصل کرتے رہیں ، اگر دور حاضر کے مسلمان بچیاں اور عورتیں بھی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا رشتہ مستحکم کر لے اور اسی کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزارے ، تو یقینا کایا پلٹ سکتی ہے ، بلکہ یہ ایک زمینی سچائی ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، خاص طور پہ فتنہ ارتداد کا ، جو مسلمانوں پر اپنے بال و پر پھیلا چکا ہے اور اب تک سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مسلم بچیوں کو ارتداد و بے دینی کی طرف دھکیلتے ہوئے انہیں اسلام سے دور و نفور کر چکا ہے ، اب ایسے فتنہ خیز اور ایمان سوز حالات میں تو اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا تعلق گہرا کیا جائے اپنے اقدار و روایات تہذیب و ثقافت اور تمام معاملات میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شامل کیا جائے ، آج کے ایسے پرفتن دور میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل اور ان کے دین و ایمان کی تحفظ کی بقاء ہے ، لہذا اغیار کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر اپنا دین و مذہب تبدیل کرنے والی بچیوں کو اور خواتین کو سیرت رسول سے قریب کر کے ان کی بہتر اصلاح و تربیت کی سخت ضرورت ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار ہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی بچیوں اور خواتین کو اپنی سیرت اور اخلاق کے سانچے میں ڈھالا اور بحیثیت معلم و مربی اپنا بنیادی اور مثالی کردار ادا فرمایا ، چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی لخت جگر ، نور نظر ، خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس طرح تعلیم و تربیت فرمائی کہ آپ نہایت متقی اور پارسا ، محدث ، متقیہ ، باپردہ و باحیا ، اور تمام خواتین میں قابل صد رشک بنیں ، علوم و فنون ، اخلاق و محبت اور اعمال وہ عبادات غرض کہ ہر معاملے میں اپنی مثال آپ تھیں ، آپ اس قدر عفت و پاک دامنی کا نمونہ تھیں کہ زندگی بھر کسی غیر محرم کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا ، علامہ حافظ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے الجامع الصغیر مع فیض القدیر میں آپ کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ، ندا کرے گا اے اہل مجمع اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط سے گزریں ، اس روایت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش تربیت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کس طرح کس قدر بابرکت اور باحیا بنیں ک قیامت کے دن بھی آپ کو انسانوں کے انبوہ کثیر میں یہ شرف و افتخار حاصل ہوگا کہ وہاں بھی آپ باپردہ ہوگی ، اس طرح حضرت ابوبکر صدیق رض کی لخت جگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کم عمری میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہونے کا شرف حاصل ہوا ، آپ بھی حیا و پاک دامنی ، شرافت و پاکیزگی ، اور وسعت علمی میں سراپا مثال تھیں ، کیونکہ آپ کی تعلیم و تربیت بھی بارگاہ نبوی میں ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادیاں بھی بہت باپردہ اور حیا والی تھیں ، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ بھی پیکر صداقت کا نمونہ تھی ، یہ تمام بنات اسلام آج کی تمام عورتوں کے لئے یقینا نمونے عمل ہیں ، اگر آج کی عورتیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تاریخ کی باکمال خواتین کی سیرت کو اپنا لیں اور جس طرح انہوں نے سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو جگمگایا تو اس وقت جو خواتین ارتداد وہ بے دینی ، بد عقیدگی و بے عملی اور خرافات و بے ہودگی میں گرفتار ہیں وہ جلد ہی ان سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی اور اس سے نہ صرف ان کی عزت و ناموس سلامت رہے گی بلکہ ان کا ایمان و عقیدہ بھی محفوظ ہو جائے گا ، وہ ہمیشہ کے لیے مشعل راہ بن جائیں گی ، یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ جب اولاد بالغ ہو جاتی ہیں تو والدین کی ذمہ داریاں بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہیں ، کیونکہ بلوغیت کی عمر کو پہنچنے کے بعد بچے یا بچیاں گناہ کرنے پر قادر ہو جاتے ہیں ، لہذا انہیں اعمال شر اور افعال بد سے دور رکھنا والدین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے ، جس سے ان کا سکون چھن جاتا ہے اور وہ طرح طرح کی پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، اگر بچپن سے ہی اولاد کی تربیت بہتر اور اسلامی ماحول میں کی جائیں تو بعد بلوغیت و حالات بھی پیش نہیں آتے ، جو فکر و تشویش کا باعث بنتے ہیں ، بلکہ ان کے اوپر اسلامی ماحول کے وہ اثرات وہ نقوش مرتب ہوتے ہیں جو مرتے دم تک باقی رہتے ہیں ، اسی لیے والدین اور سرپرست اپنے بچیوں کو دینی وہ اسلامی ماحول میں پروان چڑھائیں اور انہیں دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ وہ پیراستہ کریں ، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خود بھی اپنائیں اور بچیوں کو بھی اس کا درس دیں ، تاکہ ان کی زندگیوں میں سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تابندہ نقوش حلول کر جائیں ، اور پھر نہ ہی وہ اپنے دین و ایمان سے بغاوت کرے گی اور نہ ہی اپنی عزت و ناموس سے کوئی کھلواڑ کریں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواتین پر اس قدر احسانات ہیں کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو پستی و ذلت سے نکال کر عزت کا وہ مقام عطا فرمایا کہ کوئی مہذب سے مہذب معاشرہ اس کی مثال نہیں پیش کر سکتا ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آنے سے ,, تحفظ حقوق نسواں ،، ہو گیا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے حقوق عطاء فرمائے کہ آج بھی دنیا کی ترقی یافتہ قومیں کہلوانے والے لوگ اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ,, مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزوں کی محبت عطاء کی گئی ہیں ، خوشبو ، عورت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ,, نماز ،، میں ہے ، اس کے علاوہ مرد اور عورت کو برابر قانون شکنی ، قانونی تشخص عطاء فرمایا ، ,, تم بیٹیوں کو ناپسند نہ کیا کرو بے شک وہ والدین کے غم خوار اور لائق احترام ہوتی ہیں ،، ( مسند احمد بن حنبل ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ,, جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی ان کی اخلاقی تربیت کی ، پھر ان کی شادی کی ، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو اس کے لئے جنت ہے ( احمد حنبل مسند 9/97 ) رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اپنی شفقت ، بیٹی کے ساتھ حسن کی اعلیٰ مثال ہے ، آج کے دور کی بیٹیوں کی پرورش میں اعتدال ، نرمی ، ہمدردی ، مصلحت ، بہت ضروری ہے ورنہ مغربیت کے کھنچاؤ میں مکمل طور پر بہہ گئے ہیں ، اب بھی وقت ہے اس بہاؤ کا رُخ موڑنے کی رہبری بہت ضروری ہے ، اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنے اور اپنے اولاد کے لئے لازم و ملزوم قرار دے کر عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، آمین ۔