آج کل اکثر کمیٹی والوں کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے کہ ہمیں عمر والا چاہیے، ہمیں تجربہ کار چاہیے۔ ذرا کوئی ان سے پوچھے کہ حضرت! تجربہ آتا کہاں سے ہے؟ کیا مدرسے سے فراغت کی سند لیتے ہی ایک عالم کے ہاتھ میں دس سال کا ایکسپیرینس بھی تھما دیا جاتا ہے؟ ایک بچارہ اپنی جوانی کتابوں کے درمیان گزار دیتا ہے، فقہ پڑھتا ہے، حدیث پڑھتا ہے، تفسیر پڑھتا ہے، راتیں جاگتا ہے، امتحانات دیتا ہے پھر جب فراغت کے بعد میدانِ عمل میں آتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے آپ نئے ہیں، آپ کے پاس ایکسپیرینس نہیں! جناب! ایکسپیرینس نہیں ہے تو ایکسپیرینس دیں گے کون؟ اگر ہر مسجد کو پہلے ہی سے پندرہ بیس سال کا تجربہ رکھنے والا شخص چاہئے تو نو فارغین آخر جائیں کہاں؟ انہیں موقع کون دے گا؟ اور عجیب بات یہ ہے کہ کمیٹی کو تجربہ کار امام چاہئے لیکن جب تجربہ کار امام کی تنخواہ بتائی جاتی ہے تو کمیٹی کا بجٹ اچانک غریب ہو جاتا ہے! امام ایسا چاہئے جو پانچ وقت نماز پڑھائے، جمعہ پڑھائے، تراویح پڑھائے، جنازے پڑھائے، نکاح پڑھائے، بچوں کو قرآن پڑھائے، مسائل بتائے، گھر گھر کے جھگڑوں میں ثالثی کرے، بیماروں کی عیادت کرے، لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہو، رمضان میں راتوں کو جاگے، عید کی نماز پڑھائے، میت کے ساتھ قبرستان جائے، تعزیت کرے، مسجد کی نگرانی کرے، لاؤڈ اسپیکر کا خیال رکھے، صفائی کا مسئلہ دیکھے، بجلی پانی کا حساب دیکھے اور اگر ممکن ہو تو کمیٹی کی ہر فرمائش بھی پوری کرے لیکن تنخواہ کی باری آئے تو فرمایا جاتا ہے حضرت! مسجد کی حالت آپ کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسجد کی حالت کمیٹی کی ذمہ داری ہے یا صرف امام کی تنخواہ کے وقت یاد آنے والی مجبوری؟ اگر مسجد کے اخراجات بڑھ گئے ہیں تو کیا امام کی ضروریات مہنگائی سے محفوظ ہیں؟ آٹا، دال، سبزی، کپڑا، کرایہ، بجلی، بچوں کی تعلیم، علاج، سفر کیا یہ سب امام کے لئے مفت ہو گئے ہیں؟
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ امام کی تقرری دیتے وقت کہا جاتا ہے بس امامت اور بچوں کو قرآن پڑھانا ہے لیکن کچھ ہی دن بعد ذمہ داریوں کی فہرست بڑھتی جاتی ہے۔ کبھی صفائی دیکھو، کبھی چندہ دیکھو، کبھی مسجد کا پنکھا خراب ہے تو دیکھو، کبھی بجلی کا بل جمع کرو، کبھی کسی کے گھر فاتحہ، کبھی کسی کے یہاں نکاح، کبھی جنازہ، کبھی کمیٹی کی میٹنگ، کبھی مہمانوں کو بٹھانا آخر یہ تقرری ہے یا آل راؤنڈر پیکیج؟ اور پھر اگر امام کسی کام سے معذرت کر دے تو فوراً کہا جاتا ہے حضرت تعاون نہیں کرتے! تعاون ضرور ہونا چاہئے لیکن تعاون اور مستقل اضافی ذمہ داری میں فرق بھی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرس کا مسئلہ بھی اس سے کم نہیں۔ مدرس سے کہا جاتا ہے کہ بچوں کا رزلٹ بہترین ہونا چاہئے، بچے سبق بھی یاد کریں، اخلاق بھی درست ہوں، نماز کے پابند بھی ہوں، والدین بھی خوش ہوں، حاضری بھی مکمل ہو، کلاس بھی سنبھالو، کمزور بچے پر خصوصی توجہ بھی دو مگر مدرس کے لئے وسائل اور معاونت؟ اکثر جگہ صفر! پھر سالانہ نتیجہ خراب ہو تو سب سے پہلے انگلی مدرس پر اٹھتی ہے۔ کبھی کسی نے یہ پوچھا کہ ایک استاد کے پاس کتنے طلبہ تھے؟ ہر طالب علم کی گھریلو حالت کیا تھی؟ والدین گھر میں کیا ماحول دے رہے تھے؟ استاد کو تدریس کے علاوہ کتنے کام دیے گئے تھے؟ ایک اور ظلم یہ کہ مدرس کو سالہا سال ایک ہی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے، مہنگائی بڑھتی رہتی ہے، ذمہ داریاں بڑھتی رہتی ہیں مگر تنخواہ وہیں کھڑی رہتی ہے جیسے مہنگائی صرف کمیٹی کے گھر نہیں بلکہ مدرس کے دروازے پر آ کر رک جاتی ہو! اور اگر مدرس تنخواہ بڑھانے کی بات کرے تو فوراً کہا جاتا ہے حضرت! نیت خدمت کی ہونی چاہئے، پیسوں کی نہیں۔ بالکل! نیت خدمت کی ہونی چاہئے لیکن دکاندار سے سودا لیتے وقت قیمت پوری دینی ہے، بجلی کا بل پورا دینا ہے، مکان کا کرایہ پورا دینا ہے لیکن عالم دین کی تنخواہ آئے تو اچانک خدمت کا فلسفہ شروع ہو جاتا ہے۔ خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ خادم کے بنیادی حقوق ہی ختم کر دیے جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر رہائش کا مسئلہ دیکھئے۔ بعض جگہ امام کو ایسا کمرہ دیا جاتا ہے جسے رہائش کہنا بھی رہائش کی توہین ہو اور کہا جاتا ہے حضرت! مفت رہائش ہے اور کیا چاہئے؟ بھائی! مفت رہائش کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو رہنے کے قابل جگہ بھی نہ دی جائے۔ پھر پانی، بجلی، علاج، سفر، کتابیں، لباس، بچوں کے اخراجات ان سب کا کیا؟ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے جاب سیکیورٹی۔ امام نے برسوں خدمت کی، مسجد کے لوگوں سے تعلق بنایا، بچوں کو پڑھایا، جنازوں میں شریک ہوا، خوشی غمی میں ساتھ دیا پھر ایک دن کمیٹی میں چند لوگوں کی رائے بدل گئی اور فرمایا گیا اب ہمیں نیا امام چاہئے۔ نہ مناسب نوٹس، نہ واضح وجہ، نہ مشاورت، نہ عزت بس سامان اٹھاؤ اور چلے جاؤ! سوال یہ ہے کہ اگر امام کو ہٹانے کا اختیار ہے تو کیا اسے کم از کم عزت کے ساتھ ہٹانے کا طریقہ بھی نہیں ہونا چاہئے؟ اور اگر کمیٹی کو امام سے وفاداری چاہئے تو امام کو بھی ادارے سے بنیادی تحفظ ملنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر تقرری کے وقت کہا جاتا ہے کہ ہم خاندان کی طرح ہیں لیکن اختلاف ہو جائے تو فوراً آپ ملازم ہیں، آپ کو ہماری بات ماننی ہوگی۔ اگر ملازم ہیں تو حقوق بھی ملازم والے دیجئے، اگر خاندان ہیں تو رویہ بھی خاندان والا رکھئے۔ ضرورت کے وقت خاندان اور حساب کے وقت ملازم یہ دوہرا معیار آخر کب تک؟ اور ذرا اس نو فارغ نوجوان کو دیکھئے جو آج کسی مسجد کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اس کے پاس سند ہے، علم ہے، جذبہ ہے، خدمت کا شوق ہے لیکن کمیٹی کہتی ہے کہ عمر کم ہے۔ دوسری جگہ جاتا ہے تجربہ نہیں ہے۔ تیسری جگہ آواز اتنی اچھی نہیں۔ چوتھی جگہ آپ کو ابھی عوام سے ڈیل کرنا نہیں آتا۔ بھائی! عوام سے ڈیلنگ بھی کوئی پیدائشی صلاحیت نہیں ہے بلکہ میدان میں آ کر سیکھی جاتی ہے۔ منبر پر اعتماد بھی وقت کے ساتھ آتا ہے، تدریس کا تجربہ بھی کلاس میں کھڑے ہو کر آتا ہے، امامت کی پختگی بھی مسلسل امامت سے آتی ہے۔ اگر ہر نوجوان کو دروازے سے واپس کر دیں گے تو اگلی نسل کے تجربہ کار علماء پیدا کیسے ہوں گے؟ ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ آدمی اہل ہے یا نہیں لیکن صرف عمر کو اہلیت اور صرف تجربے کو قابلیت کا مترادف بنا دینا بھی درست نہیں۔ کبھی کسی نوجوان کو سینئر عالم کے ساتھ لگا کر دیکھئے، اسے ٹریننگ دیجیے، پروبیشن رکھئے، ذمہ داری مرحلہ وار دیجئے اگر قابل نکلے تو آگے بڑھائیں، اگر کمزوری ہو تو اصلاح کیجئے۔ آخر کمیٹی صرف ریڈی میڈ عالم ہی کیوں چاہتی ہے؟ کیا ادارے کا کام صرف تیار شدہ انسان خریدنا ہے یا انسانوں کو تیار کرنا بھی ہے؟ اور آخر میں ایک سوال ہر کمیٹی، ہر مسجد انتظامیہ اور ہر ذمہ دار شخص سے ہے کہ اگر آپ کو بہترین امام چاہئے، بہترین مدرس چاہئے، بہترین خطیب چاہئے، تجربہ کار چاہئے، بااخلاق چاہئے، وقت کا پابند چاہئے، عوام کا غم خوار چاہئے، بچوں کا مربی چاہئے تو پھر اسے عزت بھی دیجئے، مناسب تنخواہ بھی دیجئے، وقت پر تنخواہ بھی دیجئے، آرام کا حق بھی دیجئے، چھٹی بھی دیجئے، رہائش مناسب دیجئے، ترقی کا راستہ بھی دیجئے اور سب سے بڑھ کر اسے انسان سمجھئے کیونکہ یاد رکھئے! مسجد کا امام اور مدرس ادارے کا سب سے سستا ملازم نہیں ہے بلکہ امت کی دینی تربیت کا ذمہ دار انسان ہے۔ اس سے خدمت لیجئے وہ منع نہیں کرے گا مگر اس کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ اس سے وفاداری چاہئے مگر اس کے حقوق نہ کھائیں، اس سے تجربہ مانگیں مگر نئے لوگوں کو تجربہ حاصل کرنے کا موقع بھی دیجئے ورنہ ہم ہر سال یہی شکایت کرتے رہیں گے کہ اچھے علماء نہیں ملتے جبکہ حقیقت یہ ہوگی کہ اچھے علماء موجود تھے تب ہم نے انہیں موقع ہی نہیں دیا