✍🏻*محمد منصار ارریاوی*
15 ستمبر 2026ء
_________________________________
ہر انسان اپنی روزمرہ کی مصروفیت اور تھکن کے بعد فارغ وقت کو پُرسکون بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی مشغلہ اپناتا ہے۔ کوئی سیر و مشاہدہ کی دنیا کا اسیر ہوتا ہے، کوئی کھیل کود کے میدان میں اپنا دل بہلاتا ہے، تو کوئی گوشہ نشینی کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن عقل و فہم کے پیمانے پر اگر دیکھا جائے، تو ان تمام مشاغل میں سب سے اعلیٰ، نافع اور بہترین مشغلہ "مطالعہ کتب" ہے۔ یہی وہ شاندار عمل ہے جس میں غوطہ زن ہو کر انسان کائنات کے اسرار و رموز اور زندگی کے حقائق کو چنتا ہے۔
زمان و مکاں کی وسعتیں اور آگاہی
مطالعہ کتب کی بدولت انسان کو محض اپنے ماحول کی ہی نہیں، بلکہ زمانے بھر کی آفاقی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ انسان اپنے کمرے میں بیٹھا بیٹھا دنیا کے کونے کونے کی سیر کرتا ہے اور تاریخ کے اقوال و افعال سے سبق حاصل کرتا ہے۔ یہی مطالعہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ قومیں کس طرح بنتی ہیں، ان کی عظمت کے راز کیا ہیں، اور زوال کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کتاب انسان کی بہترین اور سچی ساتھی ہے، جو تنہائی کے لمحوں میں غم گسار بن کر ابھرتی ہے۔ تاہم، اس فیض کو دائمی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مطالعہ کے لیے معیاری اور مفید کتب کا انتخاب کیا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے اعلیٰ، عظیم اور مقدس کتاب اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید زندگی کی راہوں کا اجالا اور روزِ محشر کا سہارا ہے۔ یہ دلوں کے زنگ کو دور کرتا، ظلمتوں کو کافور کرتا اور باطن کو ایمان و حکمت کے انمول موتیوں سے معمور کرتا ہے۔
قرآن مجید کے بعد، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک کتابوں نے انسانیت کو وہ روشنی بخشی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے یہ روشن حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ میرے آقا کا اسوہ حسنہ اور کردار ہی دین و دنیا میں کامیابی کی واحد ضمانت ہے۔
مطالعہ کتب کا مشغلہ انسان کو زمانے بھر سے باخبر رکھتا ہے۔ یہ آگاہی دیتا ہے کہ کل دنیا کا نقشہ کیا تھا اور آج کیا ہو رہا ہے۔ دماغ کو تازہ توانائی ملتی ہے، اور وہ راہیں کھلتی ہیں جو انسان کو غفلت کے اندھیروں سے نکال کر راہِ حق پر گامزن کرتی ہیں۔
دوسرے مشاغل کی حیثیت عارضی، وقتی اور ہنگامی ہوتی ہے، جو وقتی تفریح تو فراہم کر سکتے ہیں مگر انسان کی فکری تشنگی نہیں بجھا سکتے۔ اس کے برعکس، مطالعہ کتب ایک ایسا باوقار اور پائیدار مشغلہ ہے جو پیدائش سے لے کر زندگی کی آخری انتہا تک قدم بہ قدم انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کی توفیق نصیب فرمائے( آمین یا رب العالمین)