ایک صاحب کوفہ میں ایک شخص کے پاس کچھ امانت رکھ کر حج کو گئے اور واپسی پر انہوں نے اپنی امانت واپس طلب کی تو اس شخص نے انکار کر دیا ، وہ سیدھا امام صاحب کے پاس حیران و پریشان گیا اور اپنا حال، اپ نے اس شخص سے فرمایا ابھی اس واقعے کو کسی سے بیان مت کرنا اور اس شخص کو اپنے پاس بلوایا اور اسے تنہائی میں فرمایا کہ ان دنوں چند اشخاص میرے پاس اس مشورے کے لیے آئے ہیں کہ کون شخص قاضی بننے کے لیے لیاقت رکھتا ہے اگر تو پسند کرتا ہے تو میں تیرے لیے سفارش کر، اس نے بظاہر کچھ انکار کیا ، لیکن عہدہ کی ہوس سے اخر راضی ہو گیا ، امام صاحب نے اس کو رخصت کر دیا اور امانت رکھانے والے کو بلا کر کہا تو اب جا کر اپنی امانت طلب کر لے مل جائے گی
جب اس نے جا کر دوبارہ امانت طلب کی تو اس نے اس خیال سے کہ میری بددیانتی کا شہرہ ہو جائے گا اور عہدہ قضا سے محروم ہو جاؤں گا ، اس نے امانت واپس کر دی بعد میں امام صاحب کے پاس عہدہ قضا کا طالب ہوا ، تو اپ نے فرمایا کہ یہ عہدہ تیرے مرتبہ سے کم ہے، اس سے بڑے عہدہ کے لیے میں خیال رکھوں گا
(اخبار ابی حنیفہ واصحابہ للصمیری صفحہ 40)