نریلہ اور اطراف کے علاقوں میں مساجد کا دورہ

نئی دہلی، 13 ستمبر 2026ء، بروز اتوار:
جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جانب سے نریلہ اور اس کے اطراف کے مختلف علاقوں میں مساجد، مکاتب اور دینی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا گیا۔ اس موقع پر مساجد کے ائمہ و ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئیں اور مسجد سے عوام کے تعلق، مکاتب کی صورتِ حال، درسِ قرآن، درسِ حدیث اور اصلاحِ معاشرہ کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دورے کا آغاز پاکٹ 11، نریلہ کی نور الٰہی مسجد سے ہوا۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ امام صاحب اس وقت موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ظہر تک انتظار کرنا پڑا۔ امام صاحب نے عمومی گفتگو کے لیے جمعہ کے دن کا تجویز کیا، جس پر ہم نے کوشش کرنے کا ارادہ کیا ۔خیر بعد نماز ظہر کے ان سے کافی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یہ مسجد بڑی عالی شان اور وسیع ہے۔ امام صاحب نے بتایا کہ الحمدللہ کئی سالوں سے یہاں مدرسہ بھی چل رہا ہے، جس میں تقریباً فی الحال 47 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ فی الحال مدرسے میں حفظ و ناظرہ کی تعلیم ہوتی ہے، جبکہ آئندہ عربی چہارم تک کی تعلیم شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
مسجد میں فی الحال مروجہ مکتب قائم ہے، جس میں تقریباً 350 طلبہ و طالبات مختلف اوقات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسجد آتے ہیں۔ مسجد میں درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، لیکن بعض رکاوٹوں کی بنا پر فی الحال موقوف ہے۔ تاہم ان شاء اللہ آئندہ اسے دوبارہ جاری کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے گی۔ البتہ درسِ حدیث پر تقریباً دو وقت عمل ہوتا ہے۔
ماشاء اللہ یہ بہت ہی زرخیز محلہ ہے اور یہاں مثالی مسجد کے تمام کام انجام پانے کی گنجائش موجود ہے۔ مولانا اطہر امام صاحب بہت ہی قابل، متفکر اور فعال شخصیت ہیں۔ اس موقع پر کافی دیر تک باہمی تبادلۂ خیال ہوا۔ بعد ازاں کھانے وغیرہ سے فراغت کے بعد 
مسجد بلال، بی بلاک، میٹرو وہار کا جائزہ لیا گیا ۔
یہاں مولانا شاہد جمال ندوی صاحب امام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہاں کا علاقہ زیادہ تر مزدور طبقے پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے منظم مکتب کا نظام قائم کرنا قدرے مشکل ہے۔ تاہم اس سلسلے میں انہیں مناسب ترکیب اور طریقۂ کار بتایا گیا اور جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور کوشش کی یقین دہانی کرائی گئی۔
فی الحال مسجد میں درسِ قرآن کا سلسلہ موجود نہیں ہے، تاہم ان شاء اللہ بہت جلد اسے شروع کر دیا جائے گا۔ دو وقت درسِ حدیث پر عمل ہوتا ہے۔ امام صاحب سے درخواست کی گئی کہ کم از کم ماہ میں ایک مرتبہ اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے پروگرام منعقد کیا جائے۔ امام صاحب نے اس کا ارادہ ظاہر کیا اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
شاہی جامع مسجد کرینی، نریلہ
اس کے بعد شاہی جامع مسجد کرینی، نریلہ کا رخ کیا گیا۔ امام صاحب سے ملاقات کے بعد مسجد کے ماحول اور لوگوں کے مسجد سے تعلق کے بارے میں گفتگو ہوئی۔
امام قاری عمران صاحب نے بتایا کہ مسجد کے اندر مکتب نہیں چلتا، بلکہ مسجد کے قریب ہی ایک مکان ہے جہاں محلے کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ جگہ تعلیم کا انتظام ہے۔ فی الحال یہ مروجہ مکتب ہے، تاہم اسے منظم مکتب بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
فی الحال مسجد میں درسِ قرآن کا نظام موجود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں امام صاحب سے درسِ قرآن شروع کرنے کی درخواست کی گئی، جسے انہوں نے بخوشی قبول فرمایا۔ دو وقت درسِ حدیث پر عمل ہوتا ہے۔
اسی طرح اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے کم از کم ماہانہ ایک پروگرام منعقد کرنے کی رائے دی گئی، جسے امام صاحب نے ایک اچھا اور مفید قدم قرار دیا۔
نور مسجد، کرینی نئی بستی، نریلہ
اس کے بعد نور مسجد، کرینی نئی بستی، نریلہ جانا ہوا۔ اس مسجد کے امام حافظ شکیل صاحب ہیں۔ امام صاحب سے سلام و کلام کے بعد مسجد اور دینی سرگرمیوں کے احوال دریافت کیے گئے۔
امام صاحب نے بتایا کہ یہاں تقریباً دو سال سے منظم مکتب چل رہا ہے، جس میں تقریباً 150 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ مزید یہ کہ گزشتہ دو سال سے یہ مکتب دینی تعلیمی بورڈ، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی سے بھی منسلک ہے۔
امام صاحب کی جانب سے دینی تعلیمی بورڈ، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے سامنے ایک اہم درخواست پیش کی گئی کہ اگر ہر ضلع میں دینی تعلیمی بورڈ، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے منظم مکاتب کے لیے کتابیں، ٹپائیاں، ڈریس وغیرہ ہر ضلعی جمعیۃ کے حوالے کر دیے جائیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ منظم مکتب قائم کرنے اور ضروری سامان حاصل کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سامان حاصل کرنے کے لیے نئی دہلی جانا پڑتا ہے اور صرف ایک دو کتابوں کے لیے بھی وہاں سے سامان لانا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح ایک دوسری درخواست یہ کی گئی کہ گاہے بگاہے جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ماتحت چلنے والے مکاتب کی نگرانی بھی ہوتی رہے تو ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے بہت بڑا فائدہ ہوگا اور مکاتب کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
درسِ قرآن کے سلسلے میں بتایا گیا کہ ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا ہے، تاہم ان شاء اللہ تعالیٰ کسی عالمِ دین کے ذریعے اس کا آغاز کر دیا جائے گا۔ درسِ حدیث پر ایک وقت عمل ہوتا ہے۔

جامع مسجد، بوڑھ گڑھ

اس کے بعد بوڑھ گڑھ کی جامع مسجد میں جانا ہوا۔ یہاں امام حافظ کامل صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ یہاں منظم مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 100 سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔
حافظ کامل صاحب نے بتایا کہ فی الحال مسجد میں درسِ قرآن کا سلسلہ موجود نہیں ہے، لیکن بہت جلد ان شاء اللہ تعالیٰ اسے شروع کیا جائے گا۔ دو وقت درسِ حدیث پر عمل ہوتا ہے۔

الحمدللہ، آج کے دورے کے دوران ان تمام مساجد کے حالات کا جائزہ لے کر یہ رپورٹ مرتب کی گئی۔

از قلم: محمد انصار الحق قاسمی
معاون، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی
مولانا معوذ قاسمی
معاون، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی