حضرت مولانا مفتی محمد اسجد صاحب بہٹوی 
استاذ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور 


رضاعت: شریعتِ اسلامیہ کا ایک نہایت اہم باب

اسلام ایک کامل اور فطری دین ہے جس نے انسانی معاشرے کی پاکیزگی، خاندانی نظام کے استحکام اور نسلِ انسانی کی حفاظت کے لیے ایسے جامع احکام عطا فرمائے ہیں جن کی مثال دنیا کے کسی قانون میں نہیں ملتی۔ انہی احکام میں ایک نہایت اہم اور دقیق مسئلہ رضاعت کا ہے، جسے شریعتِ مطہرہ نے نسب ہی کی طرح بعض رشتوں میں حرمتِ نکاح کا سبب قرار دیا ہے۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں رضاعت کے احکام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کے نکاح، خاندان اور معاشرتی تعلقات ہر قسم کے اختلاط اور شرعی قباحت سے محفوظ رہیں۔ چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ نے ایک جامع اور فیصلہ کن اصول ارشاد فرمایا:
«"يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ"
’’رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔‘‘
(صحیح البخاری، صفحہ 360 رقم الحدیث: 2571)

یہ مختصر مگر عظیم الشان حدیث رضاعت کے پورے باب کی بنیاد ہے۔ اس کے تحت فقہائے امت نے تفصیلی احکام مرتب فرمائے ہیں اور واضح کیا ہے کہ جب کوئی بچہ مدتِ رضاعت کے اندر کسی عورت کا دودھ پیتا ہے تو اس عورت اور اس کے خاندان کے ساتھ ایسے شرعی تعلقات قائم ہو جاتے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد رشتے ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔

رضاعت حرمت کا سبب کیوں بنتی ہے؟

فقہائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کی جسمانی نشوونما اور پرورش میں ماں کے دودھ کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ دودھ بچے کے جسم کا حصہ بنتا ہے، اس کے گوشت پوست کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کی جسمانی ساخت کی تکمیل کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے شریعت نے دودھ پلانے والی عورت کو ایک اعتبار سے حقیقی ماں کے قائم مقام قرار دیا ہے۔

 رضاعت کے ذریعے ایک ایسا تعلق پیدا ہوتا ہے جو جسمانی نمو اور جزئیت کے معنی کو ثابت کرتا ہے، اور یہی تعلق حرمتِ نکاح کا سبب بنتا ہے۔ گویا جس طرح انسان اپنے اصل اور اپنے جزء سے نکاح نہیں کر سکتا، اسی طرح رضاعت کے ذریعے قائم ہونے والے بعض رشتوں سے بھی نکاح ہمیشہ کے لیے ناجائز قرار پاتا ہے۔


رضاعت سے حرام ہونے والے رشتے

حدیثِ نبوی ﷺ کے مذکورہ اصول کے مطابق وہ تمام رشتے جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں، رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ ان میں اہم رشتے درج ذیل ہیں:

1۔ رضاعی ماں
دودھ پلانے والی عورت رضاعی ماں کہلاتی ہے۔ اسی طرح اس کی ماں، نانی، دادی اور اوپر تک تمام اصول بھی رضاعی مائیں شمار ہوں گی۔

2۔ رضاعی بیٹی 
رضاعی بیٹی، اس کی بیٹی، پوتی، نواسی اور نیچے تک تمام فروع نکاح کے لیے حرام ہوں گی۔

3۔ رضاعی بہن
جس عورت کا دودھ دو یا زیادہ بچوں نے پیا ہو وہ آپس میں رضاعی بہن بھائی شمار ہوں گے، خواہ نسبی اعتبار سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو۔

4۔ رضاعی بھتیجی اور بھانجی نیچے تک 
جس طرح نسبی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح رضاعی بھتیجی اور رضاعی بھانجی بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔

5۔ رضاعی پھوپھی اور خالہ
رضاعی باپ یا رضاعی ماں کی بہنیں رضاعی خالہ اور رضاعی پھوپھی کے حکم میں ہیں، لہٰذا ان سے بھی نکاح ناجائز ہے۔

6۔ رضاعت سے ثابت ہونے والے مصاہرتی احکام
اگر دودھ پینے والا بچہ لڑکا ہو تو اس کی بیوی رضاعی باپ کے لیے بہو کے حکم میں ہوگی، اور اگر دودھ پینے والی بچی ہو تو اس کا شوہر رضاعی ماں کے لیے داماد کے حکم میں شمار ہوگا۔ اس بنا پر ان کے درمیان بھی حرمت کے احکام جاری ہوں گے۔

7۔ رضاعی خاندان کے اصول و فروع
دودھ پینے والے بچے کی اولاد اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کے متعلق بھی وہی احکام نافذ ہوں گے جو نسبی رشتوں میں مقرر کیے گئے ہیں۔

عصرِ حاضر میں احتیاط کی ضرورت
آج کے دور میں، جب خاندانی روابط کمزور ہو رہے ہیں اور بہت سے لوگ رضاعت کے شرعی احکام سے ناواقف ہیں، اس مسئلے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بسا اوقات محض لاعلمی کی وجہ سے ایسے نکاح ہو جاتے ہیں جو شرعاً درست نہیں ہوتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دودھ پلانے کے واقعات کو محفوظ رکھا جائے، خاندانوں میں ان کا اندراج کیا جائے اور نکاح سے پہلے رضاعی تعلقات کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے۔

اسلام نے رضاعت کے احکام محض قانونی ضابطے کے طور پر نہیں دیے بلکہ خاندانی تقدس، معاشرتی پاکیزگی اور انسانی نسل کی حفاظت کے لیے یہ عظیم نظام عطا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے اس باب کو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور امت کو اس بارے میں مکمل رہنمائی فراہم کی۔

مکمل تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الرضاع، ج 1، ص 409، طبع زکریاجدیدـ
- رد المحتار (شامی)، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 4، ص 383، طبع زکریا۔

مصاہرت: رشتۂ نکاح سے حرام ہونے والی عورتیں

شریعتِ اسلامیہ نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لیے ایسے واضح، جامع اور حکیمانہ احکام عطا فرمائے ہیں کہ زندگی کا کوئی اہم مرحلہ ایسا نہیں جس کے لیے قرآن و سنت اور فقہائے امت کی رہنمائی موجود نہ ہو۔ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے خاندانی معاملات، معاشرتی تعلقات، نکاح و ازدواج اور حتیٰ کہ قبر تک کے احکام تک دینِ اسلام نے ہر مقام پر رہنمائی کا چراغ روشن کیا ہے۔

احکامِ شریعت میں کوئی ابہام یا تاریکی نہیں؛ البتہ بعض مسائل اپنی باریکی اور جزئیات کی وجہ سے گہری فقہی بصیرت کے محتاج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ائمۂ مجتہدین اور فقہائے امت نے قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں ان مسائل کو اس تفصیل اور جامعیت کے ساتھ مرتب فرمایا کہ طالبِ علم جب فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے اسلام کے کامل نظامِ حیات کی وسعت، حکمت اور نزاکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہی اہم ابواب میں حرمتِ مصاہرت کا باب بھی ہے۔

مصاہرت کیا ہے؟

مصاہرت سے مراد وہ رشتہ ہے جو نکاح یا ازدواجی تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس طرح نسب اور رضاعت بعض عورتوں کو ہمیشہ کے لیے نکاح کے دائرے سے خارج کر دیتے ہیں، اسی طرح بعض رشتے مصاہرت کی وجہ سے بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔

حرمتِ مصاہرت کا مقصد محض نکاح کے چند ممنوع رشتوں کی فہرست بیان کرنا نہیں، بلکہ شریعت کے اس عظیم اصول کی حفاظت کرنا ہے جس کے ذریعے خاندان کے اندر رشتوں کی حرمت، تقدس اور حدود قائم رہتی ہیں۔

اسلام نے یہ نہیں چاہا کہ باپ، بیٹے، سسر، داماد اور دیگر قریبی رشتوں کے درمیان ازدواجی تعلقات کی کوئی گنجائش باقی رہے؛ بلکہ ان رشتوں کی حرمت کو قطعی اور دائمی بنا کر خاندان کے نظام کو پاکیزگی اور وقار عطا فرمایا۔

حرمتِ مصاہرت کی فقہی بنیاد

فقہائے احناف نے حرمتِ مصاہرت کے اسباب کی بحث بڑی دقتِ نظر سے فرمائی ہے۔ اس باب کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شریعت نے انسانی جسم، نسب اور ازدواجی تعلقات کے باہمی اثرات کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔

جس طرح رضاعت میں دودھ بچے کے جسم کا حصہ بن کر اس کی نشوونما کا ذریعہ بنتا ہے اور اسی نسبت سے رضاعی رشتے قائم ہوتے ہیں، اسی طرح ازدواجی تعلق میں بھی ایک ایسی قربت پیدا ہوتی ہے جس کے آثار خاندان کے دوسرے رشتوں تک پہنچتے ہیں۔

فقہائے احناف نے اسی حکمت کی بنیاد پر وطی اور اس کے قائم مقام یا اس سے متعلق بعض دواعی کو حرمتِ مصاہرت کے احکام سے مربوط کیا ہے۔ البتہ اس مقام پر ایک نہایت اہم فقہی فرق ملحوظ رہنا چاہیے کہ ہر صورت میں صرف عقدِ نکاح، اور ہر صورت میں وطی، یکساں حکم نہیں رکھتے۔

چنانچہ بعض حرمتیں محض صحیح نکاح کے عقد سے ثابت ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض کے لیے وطی یا اس کے شرعی اعتبار سے مؤثر مقدمات کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔

اسی فقہی تفصیل کو سمجھے بغیر حرمتِ مصاہرت کے احکام کو بیان کرنا درست نہیں۔


مصاہرت کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے حرام ہونے والی عورتیں

فقہائے احناف نے بنیادی طور پر چار قسم کے رشتوں کو اس باب میں بیان فرمایا ہے:

1۔ منکوحہ عورت کی ماں، دادی اور نانی

اگر کسی مرد نے کسی عورت سے صحیح نکاح کر لیا تو اس عورت کی ماں، دادی، نانی اور اوپر تک تمام اصول اس مرد کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئے۔

اس حرمت کے لیے اس عورت سے وطی کرنا شرط نہیں۔

یعنی عقدِ نکاح منعقد ہوتے ہی بیوی کی ماں اس مرد کے لیے حرمتِ ابدی کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:
«وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ
’’اور تمہاری بیویوں کی مائیں بھی (تم پر حرام ہیں)۔‘‘
(النساء: 23)»
و امھات الزوجات و جداتھن بعقد صحیح و ان علون و ان لم یدخل بالزوجات(شامی کتاب النکاح فصل فی المحرمات ط ـ زکریا ج3 ص 99) ھندیہ الباب الثانی فی بیان المحرمات ط ـ زکریا ج 1 ص 339 )

لہٰذا اگر کسی شخص کا کسی عورت سے نکاح ہو گیا، خواہ رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، خواہ خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، اس عورت کی ماں سے نکاح بہرحال جائز نہیں ہوگا۔

یہ شریعت کے اس عظیم نظامِ عفت کا حصہ ہے جس میں نکاح کے ساتھ ہی بعض خاندانی رشتوں کی حرمت قائم کر دی جاتی ہے۔


2۔ منکوحہ عورت کی بیٹی، پوتی اور نواسی

دوسری طرف بیوی کی بیٹی، پوتی، نواسی اور نیچے تک تمام فروع ہیں۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم فقہی شرط ہے:

بیوی کی بیٹی اس وقت حرامِ مؤبد ہوتی ہے جب اس کی ماں کے ساتھ نکاح کے بعد دخول یا معتبر خلوتِ صحیحہ کا تحقق ہو۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
«وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ
’’اور تمہاری وہ پروردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔‘‘
(النساء: 23)»
یہاں مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ کے الفاظ اس حکم کی اہم بنیاد ہیں۔
 بنات الزوجۃ و بنات اولادھن وان سفلن بشرط الدخول بالام۔ (ھندیہ الباب الثالث فی بیان المحرمات ج 1 ص339 ط۔زکریا)


لہٰذا اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا لیکن دخول سے پہلے ہی اس عورت کو طلاق دے دی، تو اس عورت کی بیٹی سے نکاح حرمتِ مؤبد کے اعتبار سے ممنوع نہیں ہوگا، بشرطیکہ کوئی دوسرا مانع نہ ہو۔

یہ فقہی تفصیل اس باب کی باریکی کو واضح کرتی ہے کہ محض ایک جیسے نظر آنے والے رشتوں میں بھی شریعت نے مختلف اسباب اور شرائط کے اعتبار سے الگ الگ احکام مقرر فرمائے ہیں۔


3۔ باپ، دادا اور نانا کی منکوحہ عورتیں

تیسری قسم آباء و اجداد کی منکوحہ عورتیں ہیں۔

کسی شخص کے لیے اس کے باپ، دادا، پردادا، نانا وغیرہ کی منکوحہ عورتوں سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، خواہ وہ عورت اس وقت ان کے نکاح میں ہو یا بعد میں طلاق یا وفات کی وجہ سے اس نکاح سے آزاد ہو چکی ہو۔

قرآنِ کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ فرمایا گیا:
«وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ
’’اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔‘‘ (النساء: 22)»
و تحرم موطوأۃ آبائہ واجدادہ وان علون(شامی ط۔زکریا ج4 ص 99)

اس حکم میں باپ کے ساتھ دادا اور اوپر کے اجداد بھی شامل ہیں۔

چنانچہ اگر کسی عورت سے کسی شخص کے والد نے نکاح کیا، تو وہ عورت اس شخص کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، چاہے بعد میں اس کے والد نے اسے طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہو گیا ہو۔


4۔ بیٹے، پوتے اور نواسے کی منکوحہ عورتیں

چوتھی قسم اولاد کی منکوحہ عورتیں ہیں۔
کسی شخص کے لیے اس کے بیٹے، پوتے، نواسے اور نیچے تک اولاد کی منکوحہ عورتیں ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ
’’اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں بھی (تم پر حرام ہیں) جو تمہاری صلب سے ہیں۔‘‘ (النساء: 23)»
و موطوأۃ ابنائہ وابناء اولادہ وان سفلوا (شامی ط۔زکریا ج4 ص100)

لہٰذا اگر کسی عورت سے کسی شخص کے بیٹے نے صحیح نکاح کر لیا تو وہ عورت اس شخص کے لیے بہو ہے اور اس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔

خواہ بعد میں بیٹے کا اس عورت سے نکاح باقی رہے یا طلاق یا وفات کی وجہ سے ختم ہو جائے، حرمت باقی رہتی ہے۔


حرمتِ مصاہرت کا جامع خلاصہ

اس پورے باب کو ایک آسان اصول میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:

نکاح کی وجہ سے عورت کے اصول و فروع میں سے بعض، اور مرد کے اصول و فروع کی منکوحہ عورتوں میں سے بعض، ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہیں۔

یعنی:
- بیوی کی ماں، دادی، نانی اور اوپر تک → نکاح ہوتے ہی حرام۔
- بیوی کی بیٹی، پوتی، نواسی اور نیچے تک → دخول یا معتبر خلوتِ صحیحہ کے بعد حرام۔
- باپ، دادا، نانا اور اوپر کے اجداد کی منکوحہ عورتیں → ہمیشہ کے لیے حرام۔
- بیٹے، پوتے، نواسے اور نیچے کی اولاد کی منکوحہ عورتیں → ہمیشہ کے لیے حرام۔

یہ حرمت حرمتِ مؤبد ہے؛ یعنی محض طلاق، جدائی یا نکاح کے ختم ہو جانے سے یہ عورتیں دوبارہ حلال نہیں ہو جاتیں۔

شریعت کی حکمت اور خاندان کا تقدس

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حرمتِ مصاہرت کا یہ نظام انسانی معاشرے کی عفت و پاکیزگی کی کتنی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

باپ اور بیٹے کے رشتے کو باپ اور بیٹے ہی کا رشتہ رہنے دیا گیا؛ سسر اور داماد کے رشتے کو ایک الگ تقدس عطا کیا گیا؛ بہو کو خاندان میں ایسا مقام دیا گیا کہ وہ محض ایک اجنبی عورت نہیں رہی بلکہ بیٹے کی بیوی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے سسر کے نکاح سے خارج ہو گئی۔

اسی طرح ساس، بہو، داماد اور دیگر رشتوں کے درمیان شریعت نے ایسی حدود قائم فرمائیں جن سے خاندانی نظام محفوظ رہتا ہے اور انسانی معاشرہ بے راہ روی اور اختلاطِ محارم سے محفوظ رہتا ہے۔

یہی اسلام کی جامعیت ہے کہ اس نے صرف عبادات ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ رشتوں کی حرمت، نگاہ کی پاکیزگی، نکاح کی حدود اور خاندان کے تقدس تک ہر چیز کے لیے واضح احکام عطا فرمائے۔

واقعی فقہِ اسلامی کا مطالعہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ شریعت کا کوئی حکم بے مقصد نہیں؛ ہر حکم کے پیچھے حکمت، مصلحت اور انسانی فطرت کی رعایت کارفرما ہے۔