قسط نمبر ۲
*دہلی کی وہ علمی ملاقات جو دل میں اتر گئی*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
جمعرات کے دن عصر سے قبل جب میں نیو دہلی ریلوے اسٹیشن پر اترا اور وہاں سے مرکز شوریٰ رام لیلا میدان کی طرف روانہ ہوا تو حضرت مفتی طلحہ قاسمی ارریاوی صاحب پہلے ہی میرے انتظار میں موجود تھے۔ مسجد فیض الٰہی پہنچتے ہی حضرت سے مصافحہ ہوا خیریت دریافت کی گئی اور نہایت محبت و اپنائیت کے ساتھ ملاقات کا آغاز ہوا اسی دوران عصر کا وقت ہوگیا اور ہم نے باجماعت نماز عصر ادا کی۔
نماز کے بعد کچھ دیر علمی و دوستانہ گفتگو ہوئی پھر میں تاریخی جامع مسجد دہلی کی زیارت و تفریح کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں مغرب کی نماز ادا کی مسجد کی روح پرور فضا سے بھرپور استفادہ کیا اور بعد ازاں دوبارہ مسجد فیض الٰہی واپس آگیا جہاں عشاء کی نماز حضرت مفتی صاحب کی اقتدا میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
نماز عشاء کے بعد ہم نے ساتھ بیٹھ کر عشائیہ کیا پھر کیلے کا جوس نوش کیا اور رام لیلا میدان میں چہل قدمی کرتے ہوئے دیر رات تک علمی فکری اور اصلاحی گفتگو جاری رہی۔ حالاتِ حاضرہ دینی و سماجی مسائل دعوت و اصلاح کے تقاضوں اور بالخصوص اپنے ضلع ارریہ اور اس کے تعلیمی و دینی ماحول پر طویل تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ نشست نہایت ہی مفید اور ایک یادگار رہی۔
حضرت مفتی طلحہ قاسمی صاحب کا تعلق ضلع ارریہ کے گاؤں پرندھا سے ہے۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند میں ششم عربی سے داخلہ لیا پھر دورۂ حدیث شریف تکمیلِ ادب اور افتاء کی تعلیم وہیں مکمل کی۔ فراغت کے بعد تین سال تک دارالعلوم اصغریہ دیوبند میں عربی چہارم تک کی کتابیں پڑھانے کی سعادت حاصل کی اور تقریباً ایک سال قبل آپ کا تقرر مسجد فیض الٰہی (مرکز شوریٰ) رام لیلا میدان نئی دہلی میں امام و خطیب کی حیثیت سے ہوا جہاں آپ نہایت حسن و اخلاص کے ساتھ دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جمعہ کی صبح ہم نے مختصر سیر و تفریح کے بعد ناشتہ کیا پھر غسل اور نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔
بعد ازاں حضرت مفتی صاحب کا نہایت شاندار مدلل اور پُرتاثیر خطاب سننے کا موقع ملا نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد ہم نے ساتھ بیٹھ کر ظہرانہ کیا۔ اسی موقع پر حضرت نے اپنی محبت کی یادگار کے طور پر ایک قیمتی کتاب بھی تحفے میں عنایت فرمائی جو میرے لئے پسندیدہ ہے جس پر میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
اس کے بعد ہم حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضر ہوئے فاتحہ پڑھی چند آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کی اور دعا کا اہتمام کیا۔ پھر مصافحہ اور دعاؤں کے ساتھ ہماری رفاقت کا یہ خوبصورت سفر اختتام کو پہنچا۔ میں شاہین باغ کی جانب روانہ ہوا اور حضرت اپنے مقام پر واپس تشریف لے گئے۔
سچ کہوں تو یہ ملاقات میرے لیے صرف سفر ہی نہیں بلکہ زندگی کی ایک قیمتی یاد بن گئی۔ حضرت مفتی صاحب علم و عمل صلاحیت و صالحیت اور اخلاص و انکساری کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی صحبت میں ایک عجیب قلبی سکون اپنائیت اور اخوت کا احساس ہوا۔
اللہ رب العزت حضرت مفتی صاحب کی عمر میں برکت عطا فرمائے انہیں صحت و عافیت کے ساتھ دین اسلام کی مزید عظیم خدمات انجام دینے کی توفیق دے اور ان کے علم و عمل کو امت کے لیے نافع بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔