نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*توبہ میں تاخیر: ایک بڑا دھوکا*
انسان خطا کا پتلا ہے۔ ہر انسان سے کبھی نہ کبھی غلطی ہوتی ہے، کوئی گناہ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک بہت بڑا دروازہ کھلا رکھا ہے، اور وہ ہے توبہ کا دروازہ۔ انسان چاہے کتنی ہی غلطی کر بیٹھے، جب تک زندگی باقی ہے وہ اپنے رب کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، "اے ایمان والو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔" اللہ تعالیٰ نے توبہ کا حکم صرف بڑے گناہ گاروں کو نہیں دیا بلکہ اے ایمان والو کہہ کر ہم سب کو توبہ کی دعوت دی۔
ہم اکثر توبہ کے بارے میں ایک غلط تصور رکھتے ہیں کہ جب زندگی کے آخری حصے میں پہنچیں گے، تب توبہ کرلیں گے۔ ابھی تو عمر پڑی ہے، ابھی تو جوانی ہے، ابھی زندگی سے لطف اٹھا لیتے ہیں، بعد میں نماز کی پابندی کریں گے، بعد میں قرآن پڑھیں گے، بعد میں گناہ چھوڑ دیں گے، بعد میں حجاب کا اہتمام کریں گے، بعد میں اپنے معاملات درست کریں گے۔ لیکن انسان یہ بھول جاتا ہے کہ "بعد میں" کا اختیار اس کے پاس نہیں۔ *ہم اگلے دن کا منصوبہ تو بنا سکتے ہیں، لیکن اگلے دن تک زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔*
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ۔ یعنی ایسی توبہ جو موت سامنے آنے کے بعد کی جائے، وہ وہ توبہ نہیں جسے انسان اپنی زندگی میں اختیار کرسکتا تھا۔
ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری زندگی میں کتنے دن باقی ہیں۔ ہم دوسروں کے جنازے دیکھتے ہیں، موت کی خبریں سنتے ہیں، اپنے جاننے والوں کو دنیا سے جاتے دیکھتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ابھی بہت وقت ہے۔ یہی انسان کی غفلت ہے۔ موت بوڑھے اور جوان میں فرق نہیں کرتی، صحت مند اور بیمار میں فرق نہیں کرتی۔ اس لیے عقل مند وہ ہے جو موت کے آنے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ اس سے پہلے اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جسے بیابان میں اپنی گم شدہ سواری دوبارہ مل جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے پلٹ آنے کو پسند فرماتے ہیں۔ اس سے ہمیں اللہ کی رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
لیکن شیطان ہمیں توبہ سے روکنے کے لیے دو بڑے دھوکے دیتا ہے۔ کبھی وہ کہتا ہے: "تم نے تو بہت گناہ کیے ہیں، اب اللہ تمہیں معاف نہیں کرے گا۔" اور کبھی کہتا ہے: "ابھی جوانی ہے، بعد میں توبہ کرلینا۔" دونوں دھوکے خطرناک ہیں۔ پہلا دھوکا انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرتا ہے اور دوسرا توبہ کو مؤخر کرواتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، "کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔"
یہ آیت ہمیں امید دیتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہ کرتا رہے اور توبہ کو ہمیشہ مؤخر کرتا رہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ گناہ کتنا ہی بڑا ہو، فوراً اللہ کی طرف پلٹ آؤ۔
توبہ کا مطلب صرف زبان سے "استغفر اللہ" کہہ دینا نہیں۔ سچی توبہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر شرمندہ ہو، گناہ کو چھوڑ دے، دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے، اور اگر کسی بندے کا حق مارا ہے تو اس کا حق واپس کرے یا شرعی طریقے سے اس کی تلافی کرے۔ یعنی توبہ انسان کی زندگی میں تبدیلی لاتی ہے۔
کبھی ہم گناہ کرتے ہیں اور فوراً کہتے ہیں: "استغفر اللہ"، پھر دوبارہ وہی گناہ، پھر استغفار، پھر وہی گناہ سچی توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان گناہ کے راستے کو چھوڑنے کی کوشش بھی کرے۔ اگر گناہ کا سبب کوئی خاص ماحول ہے تو اس سے بچنا ہوگا، اگر بری صحبت ہے تو صحبت بدلنی ہوگی، اگر موبائل پر کوئی چیز گناہ کی طرف لے جا رہی ہے تو اس سے دور ہونا ہوگا، اگر زبان کسی گناہ میں مبتلا ہے تو خاموشی کی مشق کرنی ہوگی۔
*عزیز طالبات* ! بعض گناہ ابتدا میں انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت بن جاتے ہیں اور انسان انہیں چھوڑنے کے لیے جدوجہد کرنے لگتا ہے۔
اسی لیے اگر نماز میں کوتاہی ہے تو آج سے نماز درست کریں۔ اگر قرآن سے دوری ہے تو آج سے قرآن کھولیں۔ اگر زبان سے غیبت ہوتی ہے تو آج سے زبان روکیں۔ نیکی کے لیے کسی خاص تاریخ کا انتظار نہ کریں۔
ہم اکثر کہتے ہیں: "رمضان آئے گا تو توبہ کریں گے"، "فلاں موقع آئے گا تو نماز شروع کریں گے۔" لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف واپسی کے لیے کسی خاص دن کی ضرورت نہیں۔ *جس لمحے انسان کو احساس ہوجائے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، وہی لمحہ توبہ کے لیے بہترین ہے۔*
اور اگر کسی شخص نے ماضی میں بہت کوتاہیاں کی ہیں تو اسے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ انسان اپنے ماضی کو واپس نہیں لاسکتا، لیکن اپنا مستقبل بدل سکتا ہے۔ ایک سچی توبہ انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچائے، گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے دے۔
اللهم تُب علينا توبة نصوحًا، واغفِر لنا ذُنوبَنا، وأصلِح قلوبَنا وأعمالَنا۔
آمین یا رب العالمین۔