نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم. اما بعد!
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*زبان کی حفاظت: ایک بڑی ذمہ داری*
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، آنکھیں دیکھنے کے لیے، کان سننے کے لیے، ہاتھ کام کرنے کے لیے، پاؤں چلنے کے لیے اور زبان بولنے کے لیے۔ بظاہر زبان جسم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، لیکن اس کے ذریعے انسان بڑے بڑے نیک کام بھی کر سکتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب بھی۔ ایک لفظ کسی کے ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے سکتا ہے اور ایک لفظ کسی کے دل کو برسوں کے لیے زخمی کر سکتا ہے۔ ایک جملہ دو انسانوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے اور ایک جملہ دو خاندانوں میں نفرت پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے زبان کی حفاظت پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنے ،گھر، مال،عزت کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہماری زبان سے کیا نکل رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ حالانکہ انسان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ بے حساب نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ، "انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران موجود ہوتا ہے جو اسے لکھنے کے لیے تیار ہے۔" یعنی ہم جو کچھ بولتے ہیں وہ ختم نہیں ہوجاتا، وہ ہمارے اعمال نامے کا حصہ بن جاتا ہے۔
ذرا اپنے دن کا جائزہ لیجیے۔ ہم ایک دن میں کتنے الفاظ بولتے ہیں؟ ان میں کتنے الفاظ اللہ کی رضا کے لیے ہوتے ہیں؟ کتنے الفاظ ضرورت کے ہوتے ہیں؟ اور کتنے ایسے ہوتے ہیں جنہیں اگر ہم بولتے ہی نہ تو کوئی نقصان نہ ہوتا؟ کبھی ہم کسی کے لباس، شکل و صورت، گھریلو کام پر تبصرہ کر دیتے ہیں، کسی کی نقل اتار کر دوسروں کو ہنساتے ہیں، ۔ زبان کی یہی بے احتیاطی انسان کو ایسے گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے جنہیں وہ خود بھی معمولی سمجھ رہا ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔" غور کیجیے، نبی کریم ﷺ نے زبان کے بارے میں ہمیں دو ہی راستے بتائے: اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ گناہ صرف وہ ہے جو کوئی بڑا کام کرکے کیا جائے، لیکن زبان کے گناہ بہت آسانی سے ہوجاتے ہیں۔ اسی زبان سے ہم قرآن پڑھتے ہیں، ذکر کرتے ہیں، درود پڑھتے ہیں، کسی کو اچھی نصیحت کرتے ہیں، کسی پریشان شخص کو تسلی دیتے ہیں اور کسی کے دل میں امید پیدا کرتے ہیں۔ یہی زبان جھوٹ بول سکتی ہے، غیبت کرسکتی ہے، چغلی کرسکتی ہے، دل آزاری کرسکتی ہے اور کسی کے درمیان فساد بھی پیدا کرسکتی ہے۔
قرآن مجید نے غیبت سے خاص طور پر منع فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا، "اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔" پھر غیبت کی قباحت سمجھانے کے لیے فرمایا: أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ، "کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تمہیں یہ بات یقیناً ناگوار ہوگی۔" قرآن نے غیبت کی برائی کو اس انتہائی ناپسندیدہ مثال کے ذریعے سمجھایا تاکہ انسان کے دل میں اس گناہ کی قباحت بیٹھ جائے۔
اسی طرح جھوٹ زبان کا ایک خطرناک گناہ ہے۔ کبھی انسان مذاق میں جھوٹ بولتا ہے، کبھی اپنی بات کو بڑا بنانے کے لیے، کبھی اپنی غلطی چھپانے کے لیے، کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے۔ لیکن مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ سچائی کو اختیار کرے، چاہے سچ بولنا اس کے لیے آسان نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے سچائی کو نیکی اور نیکی کو جنت کی طرف لے جانے والا راستہ بتایا، جبکہ جھوٹ کو برائی کی طرف لے جانے والا راستہ قرار دیا۔
چغلی بھی زبان کا ایسا گناہ ہے جو لوگوں کے درمیان فساد پیدا کرتا ہے۔ ایک شخص نے کسی کے بارے میں کوئی بات کہی، ہم نے دوسرے تک پہنچا دی، دوسرے نے تیسرے تک پہنچا دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھوٹی سی بات بڑے اختلاف میں تبدیل ہوگئی۔
اسی طرح کسی کا مذاق اڑانا بھی معمولی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ، "اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔" ہمیں معلوم نہیں کہ جس شخص کو ہم کم سمجھ کر ہنس رہے ہیں، اللہ کے نزدیک وہ ہم سے زیادہ محبوب ہو۔ کسی کے لہجے، لباس، رنگ، قد، شکل، غربت، خاندان یا کسی کمزوری کو مذاق بنانا مسلمان کے اخلاق نہیں۔
کبھی زبان کا گناہ غصے میں سامنے آتا ہے۔ انسان غصے میں ایسا جملہ بول دیتا ہے جو بعد میں چاہے بھی تو واپس نہیں لے سکتا۔ اس لیے غصے کے وقت خاموش رہنا بڑی دانائی ہے۔ بعض اوقات خاموشی انسان کی عزت بھی بچا لیتی ہے اور اس کا دین بھی۔
ہمیں اپنی زبان کو صرف حرام باتوں سے نہیں بلکہ فضول باتوں سے بھی بچانا چاہیے۔ ہر بات میں دخل دینا، ہر معاملے پر تبصرہ کرنا، ہر شخص کے بارے میں رائے دینا اور ہر خبر آگے پہنچانا بھی انسان کو آہستہ آہستہ زبان کی بے احتیاطی کا عادی بنا دیتا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو بولنے سے پہلے سوچے: کیا یہ بات سچ ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ کیا اس سے کسی کو نقصان تو نہیں ہوگا؟ اور کیا اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی ہوں گے؟
عزیز طالبات! زبان کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بالکل خاموش ہوجائے۔ اسلام ہمیں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ کسی کو سلام کرنا، والدین سے نرمی سے بات کرنا، استاد کا ادب کرنا، چھوٹوں سے محبت سے گفتگو کرنا، کسی غم زدہ انسان کو تسلی دینا، کسی کی حوصلہ افزائی کرنا، علم کی بات بتانا، قرآن پڑھنا، ذکر کرنا اور درود شریف پڑھنا یہ سب زبان کے بہترین استعمال ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ کبھی اللہ کی رضا والی ایک بات کہہ دیتا ہے اور اسے معمولی سمجھتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بلند فرما دیتے ہیں، اور کبھی بندہ ایسی بات کہہ دیتا ہے جسے معمولی سمجھتا ہے لیکن وہ اللہ کی ناراضی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس لیے زبان کے بارے میں "یہ تو بس ایک لفظ تھا" کہہ کر خود کو مطمئن نہیں کرنا چاہیے۔
ہمیں آج سے اپنی زبان کے ساتھ ایک نیا معاملہ کرنا چاہیے۔ بولنے سے پہلے رکنا ہے، سوچنا ہے اور پھر بولنا ہے۔ اگر بات خیر کی ہے تو کہیے، اگر کسی کی اصلاح مطلوب ہے تو حکمت سے کہیے، اگر کسی کو تسلی دینی ہے تو محبت سے کہیے، اور اگر بات میں خیر نہیں تو خاموش ہوجائیے۔ خاموشی ہر وقت کمزوری نہیں ہوتی؛ بعض اوقات خاموش رہنا ہی عقل، تقویٰ اور ایمان کی علامت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی زبان عطا فرمائے جو قرآن پڑھنے میں مصروف رہے، ذکر میں مصروف رہے،
اللہ تعالیٰ ہمارے ان الفاظ کو بھی معاف فرمائے جو ہم نے نادانی میں کہے، اور ہمیں ایسی گفتگو کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ راضی ہو۔
آمین یا رب العالمین۔