سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 
ناندیڑ مہاراشٹر 
8485884176

*یوگا اسلامی نقطہء نظر سے* 

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، صحت مند زندگی اللّٰہ کے طرف سے دی گئی عظیم نعمت ہوتی ہے ، کوشش یہ رہے کہ ہماری ہر حرکت سے اللّٰہ راضی ہوجائے ، ہماری متحرکات میں یوگا کا تصور شامل کیا جارہا ہے ، یوگا ایک قدیم جسمانی، ذہنی اور روحانی طریقۂ عمل ہے جس کا آغاز برصغیر کی قدیم تہذیبوں میں ہوا ہے ، لفظ "یوگا " سنسکرت زبان کے لفظ "یُج" سے نکلا ہے جس کے معنی جوڑنا، ملانا یا اتحاد پیدا کرنا ہیں ، تاریخی طور پر یوگا کو جسم، ذہن اور روح کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا رہا ہے ، جدید دور میں یوگا دنیا کے مختلف ممالک میں جسمانی ورزش، ذہنی سکون اور صحت کے ایک طریقے کے طور پر مقبول ہو چکا ہے ، اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی تربیت پر زور دیتا ہے ، اگر چہ اسلام میں "یوگا " کے نام سے کوئی مخصوص عبادتی نظام موجود نہیں ہے ، لیکن اسلام کی تعلیمات میں ایسی بہت سی اقدار موجود ہیں جو انسان کے سکون، توازن، غور و فکر اور صحت مند زندگی سے متعلق ہیں ،اسی لئے اسلام اور یوگا کے تعلق کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یوگا کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لیا جائے ،اسلام انسان کو جسم و روح کا مجموعہ قرار دیتا ہے ، جسم کی حفاظت اور صحت مند زندگی گزارنا بھی انسانی ذمہ داریوں میں شامل ہے ، نبی کریم ﷺ نے صحت کی قدر و اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا "دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں ، صحت اور فراغت "(صحیح بخاری)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے ، اسلام ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو جسم کو مضبوط، فعال اور تندرست رکھیں، بشرطیکہ وہ اسلامی عقائد اور احکام کے خلاف نہ ہوں ،
یوگا کے بعض جسمانی پہلو جیسے جسم کو متحرک رکھنا، لچک پیدا کرنا اور سانس کو منظم کرنا، صحت کے عمومی اصولوں کے تحت آسکتے ہیں ، 
آج کے دور میں یوگا کو ذہنی دباؤ کم کرنے اور سکون حاصل کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ،اسلام میں بھی ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کو بہت اہم مقام حاصل ہے ، 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "خبردار! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ، "(سورۃ الرعد : 28)
اسلام کے مطابق حقیقی سکون کا سر چشمہ اللہ کی یاد، عبادت، دعا اور اللہ پر اعتماد ہے ،نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر اور تفکر ایسے اعمال ہیں جو انسان کے دل کو سکون فراہم کرتے ہیں ، یہاں ایک اہم فرق یہ ہے کہ یوگا میں سکون حاصل کرنے کے طریقے مختلف فلسفیانہ بنیادوں سے جڑے ہو سکتے ہیں، جبکہ اسلام روحانی سکون کو توحید اور اللہ سے تعلق کے ساتھ وابستہ کرتا ہے ، قدیم یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں تھا بلکہ اس میں روحانی نظریات بھی شامل تھے ،بعض روایتی ,,یوگا نظاموں ،، میں کائنات، روح اور خدا کے بارے میں ایسے تصورات پائے جاتے ہیں جو اسلامی عقیدۂ توحید سے مختلف ہو سکتے ہیں ، 
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ " اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں "
اس لئے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی عمل کو اختیار کرتے وقت یہ دیکھے کہ آیا اس میں کوئی ایسا عقیدہ یا عمل شامل تو نہیں جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو ، اگر یوگا کو صرف جسمانی ورزش، یا سانس کی مشق کے طور پر کیا جائے اور اس کے ساتھ غیر اسلامی عقائد یا عبادتی تصورات شامل نہ ہوں تو بعض اہلِ علم اسے ایک جسمانی سرگرمی کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم اگر اس میں ایسے مذہبی نظریات یا رسومات شامل ہوں جو اسلامی عقائد کے خلاف ہوں تو مسلمان کو ان سے ضرور بچنا چاہئے ،اسلام میں نماز ایک عظیم عبادت ہے جس میں جسمانی حرکات، یکسوئی، عاجزی اور روحانی تعلق شامل ہے ، قیام، رکوع اور سجدہ انسان کو جسمانی اور روحانی دونوں تربیت فراہم کرتے ہیں ، 
یوگا میں بھی بعض جسمانی انداز اور سانس کی مشقیں یکسوئی اور جسمانی توازن پیدا کرنے کے لئے کی جاتی ہیں، لیکن نماز اور یوگا بنیادی طور پر مختلف ہیں ، نماز اللہ کی عبادت ہے ، معراج نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم کے سفر میں آسمان سے راست اللّٰہ سے دیا گیا تحفہ ہے ، وحی کی تعلیمات پر مبنی ہے ، نماز مخصوص اوقات اور طریقے کے ساتھ فرض ہے ، نماز بندے اور خالق کے تعلق کو مضبوط کرتی ہے ، جبکہ یوگا بنیادی طور پر ایک جسمانی یا فلسفیانہ نظام ہے ، اس کی مختلف شکلیں اور مقاصد پائے جاتے ہیں ،یوگا میں سانس پر توجہ دینے کی مشقیں عام ہیں اسلام میں بھی انسان کو غور و فکر اور شعور کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دی گئی ہے ، قرآن بار بار انسان کو کائنات میں غور کرنے، اپنی تخلیق پر سوچنے اور اللہ کی نشانیوں کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے ، ایک مسلمان کے لئے توجہ اور یکسوئی کا بہترین ذریعہ نماز، ذکر اور قرآن کی تلاوت ہے، جو انسان کو اندرونی نظم و ضبط سکھاتے ہیں ،اسلام زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے ، نہ جسم کو نظر انداز کرنا درست ہے اور نہ روحانی پہلو کو بھلا دینا ، 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔"(صحیح بخاری)
یہ تعلیم بتاتی ہے کہ اسلام جسمانی ضروریات کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتا ہے ، ورزش، مناسب غذا اور صحت مند عادات اختیار کرنا اسلامی مزاج کے مطابق ہے ،موجودہ زمانے میں یوگا کو دنیا بھر میں صحت، فٹنس اور ذہنی سکون کے لئے اپنایا جا رہا ہے ، یہ ہوسکتا ہے کہ نماز کے طور طریقوں اور اس کے جسمانی فائدوں کو دیکھ کر بھی یوگا کی حرکات پر توجہ کی گئی ،
اسکولوں، اداروں اور صحت کے مراکز میں بھی بعض اوقات یوگا کی جسمانی مشقیں استعمال کی جاتی ہیں ، مسلم معاشرے میں بھی اس موضوع پر گفتگو ہوتی رہی ہے کہ یوگا کو کس انداز میں اختیار کیا جائے ، بہت سے لوگ اسے ورزش کی حد تک قبول کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد اس کے روحانی پہلوؤں کی وجہ سے احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں ، اصل مسئلہ نیت، طریقۂ عمل اور عقیدے کا ہے ، اسلام اور یوگا میں مشترک پہلو یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
اس میں کچھ عمومی پہلو ایسے ہیں جن میں مماثلت دیکھی جا سکتی ہیں ، جیسے جسمانی توازن ہے ، دونوں میں جسم کی بہتری پر توجہ دی جا سکتی ہے ، اس کے علاوہ یکسوئی بھی ہے ، دونوں میں توجہ اور نظم و ضبط کی اہمیت بیان کی جاتی ہے ، 
اندرونی سکون کے معاملے میں 
دونوں میں ذہنی سکون کی کوشش پائی جا سکتی ہے، اگر چہ بنیادیں مختلف ہیں ، 
اس کے مثبت عادات یہ ہیں کہ 
باقاعدگی اور خود پر قابو رکھنے کا تصور دونوں میں موجود ہو سکتا ہے ، مکمل طور پر ہمیں اسلام میں یوگا کا تصور ایک متوازن انداز سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام نے یوگا کو بطور مذہبی یا عبادتی نظام پیش نہیں کیا، لیکن جسمانی صحت، ذہنی سکون اور نظم و ضبط جیسی قدریں اسلام کی تعلیمات میں موجود ہیں ، ایک مسلمان کے لئے بنیادی معیار یہ ہے کہ کوئی بھی عمل قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ہو اگر کوئی جسمانی ورزش انسان کی صحت کے لئے مفید ہو اور اس میں ایسے عقائد یا رسومات شامل نہ ہوں جو اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم ہوں تو اسے ایک عام ورزش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ، لیکن روحانی رہنمائی اور حقیقی قلبی سکون کے لئے اسلام ذکرِ الٰہی، عبادت، دعا اور اخلاقی تربیت کو بنیادی مقام دیتا ہے ، 
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام انسان کو مکمل توازن کی تعلیم دیتا ہے ، مضبوط جسم، پاکیزہ ذہن اور اللہ سے جڑا ہوا دل ، یہی توازن ایک صحت مند اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہے ، اللہ ہمارے دلوں کو ہمیشہ صحیح راستے پر رکھے ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے آمین