سعدیہ فاطمہ عبدالخالق ناندیڑ مہاراشٹر
8485884176
*موجودہ دور میں آزادی کے تقاضے*
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ آزادی سے سانس لیتا رہے ، آزادی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے ، ہر انسان فطری طور پر آزادی کا خواہش مند ہوتا ہے، کیونکہ آزادی ہی وہ قوت ہے جو انسان کو عزت، خودداری، ترقی اور باوقار زندگی عطا کرتی ہے ، تاہم آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان دوسروں کے حقوق پامال کرے یا قانون سے بالاتر ہو جائے، بلکہ حقیقی آزادی وہ ہے جو ذمہ داری، اخلاق، انصاف اور نظم و ضبط کے ساتھ وابستہ ہو ، ہندوستان نے 15 اگست 1947ء کو آزادی حاصل کی، لیکن آزادی حاصل کرنا جتنا اہم تھا، اس سے کہیں زیادہ اہم اس آزادی کی حفاظت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے ،موجودہ دور میں آزادی کے تقاضے پہلے سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو چکے ہیں ، گلوبلائزیشن، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، اقتصادی چیلنجز، مذہبی ہم آہنگی، ماحولیاتی مسائل اور اخلاقی بحران جیسے عوامل نے آزادی کے مفہوم کو مزید گہرا کر دیا ہے ، آج آزادی صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری، سماجی، معاشی، تعلیمی اور اخلاقی آزادی کا نام بھی ہے ،آزادی کا مطلب من مانی کرنا نہیں بلکہ اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہے ، ایک مہذب معاشرے میں آزادی ہمیشہ قانون، آئین اور اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر استعمال کی جاتی ہے ، اگر آزادی ذمہ داری سے خالی ہو تو وہ انتشار، نفرت اور بدامنی کو جنم دیتی ہے ،آئین اور قانون کی پاسداری کرنا ہر شہری کی اہم ذمہ داری ہے ، آزادی کا سب سے پہلا تقاضا آئین اور قانون کا احترام ہے ،ہندوستان کا آئین ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی بنیادی فرائض بھی عائد کرتا ہے ،ایک باشعور شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی پابندی کرے، قومی اداروں کا احترام کرے اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنائے ،
موجودہ دور میں آزادی کا ایک اہم تقاضا قومی اتحاد ہے ، ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کا گہوارہ ہے ، اس تنوع میں اتحاد برقرار رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے ، مذہبی منافرت، لسانی تعصب اور علاقائی اختلافات آزادی کی روح کے منافی ہیں ، ہمیں ایک دوسرے کے عقائد اور ثقافت کا احترام کرتے ہوئے محبت، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دینا چاہیئے ، ان باتوں کی سمجھ کے لئے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے ،تعلیم آزادی کی بنیاد ہے ، ایک تعلیم یافتہ قوم ہی اپنی آزادی کی حفاظت کر سکتی ہے ، موجودہ دور میں معیاری تعلیم، سائنسی سوچ، تحقیق، ٹیکنالوجی اور اخلاقی تربیت بےحد ضروری ہے ناخواندگی، جہالت اور غلط معلومات آزادی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے ،جمہوری نظام میں ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، لیکن اس آزادی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیئے ، سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبریں، نفرت انگیز تقاریر اور افواہیں معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہیں ، اس لئے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ تصدیق شدہ معلومات ہی دوسروں تک پہنچائے اور اپنی رائے میں شائستگی اختیار کرے ، ان سب کے علاوہ سیاسی آزادی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب قوم معاشی طور پر مضبوط ہو ،موجودہ دور میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا، صنعتوں کو فروغ دینا، زراعت کو جدید بنانا، ہنر مندی اور کاروباری صلاحیتوں کو بڑھانا آزادی کے اہم تقاضے ہیں ، معاشی استحکام ملک کی خودمختاری کو مضبوط کرتا ہے ، آزادی کی برقراری میں جو اہم موضوع ہے وہ ہے ،خواتین کا احترام اور مساوی حقوق رکھنا ،کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان خواتین کی عزت اور ان کی تعلیم و ترقی سے ہوتی ہے ، موجودہ دور میں آزادی کا تقاضا ہے کہ خواتین کو تعلیم، روزگار، صحت، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں ، معاشرے میں نئی نسل کے لئے نوجوانوں کی ذمہ داریاں بھی اہم ہوتی ہیں ، نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ، آزادی کے تحفظ میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے ،انہیں تعلیم، تحقیق، اختراع، کردار سازی، قومی خدمت اور مثبت سوچ کو اپنانا چاہیئے ، منشیات، انتہا پسندی، تشدد اور غیراخلاقی سرگرمیوں سے دور رہنا بھی آزادی کا اہم تقاضا ہے ، سب سے اہم پہلو اپنی سر زمین پر مذہبی ہم آہنگی کو مد نظر رکھیں ، ملک کی کامیابی اس کی مذہبی ہم آہنگی میں مضمر ہے ، موجودہ دور میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان احترام، برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا ضروری ہے ، نفرت اور تعصب قومی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے ، اس لئے تعصب اور نفرت سے دور رہیں ، آزادی کو قائم رکھنے میں ماحولیات کا تحفظ بے حد ضروری ہے ، آزادی صرف موجودہ انسانوں کے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی محفوظ ہونی چاہیئے ، درختوں کی کٹائی، آلودگی، پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل ہماری اجتماعی ذمہ داریاں ہیں ، ماحولیات کا تحفظ بھی موجودہ دور میں آزادی کا ایک اہم تقاضا ہے ،آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور جدید علوم میں ترقی قومی آزادی اور خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے اس لئے تحقیق، اختراع اور جدید تعلیم کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ،رشوت، کرپشن، اقربا پروری اور بے ایمانی آزادی کے ثمرات کو کمزور کر دیتی ہیں ، ایک دیانت دار اور شفاف نظام ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ،ہر شہری کو ایمانداری اور دیانت داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے ،اخلاقی اقدار کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے ، آزادی کے ساتھ اعلیٰ اخلاق بھی ضروری ہیں۔ سچائی، دیانت، انصاف، احترامِ انسانیت، خدمتِ خلق اور رواداری جیسے اوصاف ایک مضبوط قوم کی علامت ہیں ،اگر معاشرے سے اخلاقی اقدار ختم ہو جائیں تو آزادی کا حسن بھی ماند پڑ جاتا ہے ،آج دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے ، ہر ملک کو عالمی امن، انسانی حقوق، بین الاقوامی تعاون اور پائیدار ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیئے ایک ذمہ دار اور باوقار قوم ہی دنیا میں عزت حاصل کرتی ہے ،موجودہ دور میں آزادی صرف غلامی سے نجات کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے ، آزادی کا تحفظ قانون کی پاسداری، قومی اتحاد، تعلیم، معاشی خود کفالت، مذہبی رواداری، خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی مثبت کردار سازی، ماحولیات کے تحفظ اور اخلاقی اقدار کی ترویج سے ممکن ہے ، اگر ہر شہری اپنے فرائض کو دیانت داری سے انجام دے تو آزادی مضبوط ہوگی اور ملک ترقی و خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرے گا ، آزادی ایک امانت ہے، جس کی حفاظت ہر نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، ان شاءاللہ