صالح معاشرے میں استاد کا کلیدی کردار
11 ستمبر، 2026
*صالح معاشرے میں استاد کا کلیدی کردار*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اسلام نے ہمیشہ علم کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کیا ہے ، اللّٰہ تعالیٰ نے دوسری مخلوقات کے مقابلے میں انسان کو جن امتیازی صلاحیتوں سے نوازا ہے ان میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ اس کے اندر علم حاصل کرنے کی صلاحیت ہے ، علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود اپنی صفتِ علم کا ذکر کئی مواقع پر فرمایا ہے ، حضرت آدم علیہ السلام کو اس دنیا کی خلافت عطاء کی گئی ہے وہ اس لئے کہ ان کے اندر معلومات کو اخذ کرنے کی صلاحیت تھیں ، چنانچہ حق تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کے ساتھ ان کا امتحان لیا گیا اور بارگاہ الٰہی میں ہونے والے اس امتحان میں پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کامیابی سے ہمکنار ہوئے ، حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ کی جانب سے کن کن چیزوں کا علم عطاء فرمایا گیا تھا ، قرآن مجید میں اس سلسلے میں جامع بات کہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام ناموں کے علم سے نوازا گیا تھا وعلمہ و آ دمہ الاسماء وکلھا ( بقرہ :31) اسم کے معنی تو بس نام کے ہیں جو کسی شئے کی نشاندہی کرتی ہے ، لیکن بعض مفکرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد صرف نام نہیں ہے بلکہ کائنات کی وہ تمام چیزیں ہیں جن کے نام رکھے جا سکتے ہیں گویا علم کا جو مخفی خزانہ ہے جہالت کے پردے سے نکل نکل کر باہر آرہا ہے جو قیامت تک آتا رہے گا جن کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے انسان مختلف ناموں سے موسوم کرتا ہے ان ساری چیزوں کا علم حضرت آدم علیہ السلام کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے ، جن کا ہر دور کی ضرورت کے اعتبار سے ظہور ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا ، اسی لئے جب اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی تو فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں یہ فضیلت اور اہمیت صرف علم کی وجہہ سے تھی ، ان کو علم دیا گیا وہ تو فرشتوں کے پاس بھی نہیں تھا ، یہ کتاب الٰہی کے ذریعے ہمیں بتایا گیا ہے ، دنیا کی کسی مذہبی کتاب کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے کہ اس کا آغاز پڑھنے لکھنے سے اور علم و قلم کے حوالے سے ہوا ہو ، یہ دین اسلام ہی ہے کہ جس کے سر پر اقراء کا تاج رکھ کر یہ مژدہ سنایا گیا ہے کہ اب جو امت برپا کی جانے والی ہے وہ علم و قلم کے ہتھیار سے لیس ہوگی ، اور تعلیم و تعلم اس کا طغرائے امتیاز ہوگا ، یہی وجہہ ہے کہ پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر مبعوث فرمایا گیا ، اس طرح شان علم کو دوبالا کیا گیا ، رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقاصد بعثت میں سے اہم ترین مقصد ، تعلیم و تربیت کو قرار دیا گیا ہے ، رب کائنات کے بعد سب سے بہترین معلم ہمارے رول ماڈل آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے ، جن کی تعلیمات رہتی دنیا تک جاری وساری رہے گی ، جس طرح اسلام نے انسانوں کے بلند مقام و مرتبہ سے آگاہ کیا ہے ، اسی طرح اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاء کیا ہے اللّٰہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے خود رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انما بعثت معلما (مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیا تک عزت و توقیر کے اعلیٰ منصب پر فائز کر دیا ہے اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلیٰ و ارفع ہے استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطاء کیا ہے ، استاد کو ایک صالح معاشرے کی تعمیر کلیدی کردار کی انجام دہی کی وجہہ سے ہی معمار قوم کا خطاب عطاء کیا گیا ہے ، یہی معمار قوم کے لئے لفظ استاد آیا ہے ، ساڑھے چودہ سو سال سے یہ سلسلہ جاری ہے اور ہر دور میں اپنے اپنے انداز میں تعلیم کا طریقہ اپنا لیا گیا ہے ، تدریس یہ ایک عزت و احترام کا پیشہ بھی قائم ہے ، استاد ہی زندگی کے نشیب و فراز کا رہبر ہے ، استاد یہ ہر مذہب نے اپنایا ہوا کردار ہے ، ویسے تو استاد ایک فارسی لفظ ہے جس کے معنی لکھانے والا ، کامل فن مشتاق وغیرہ کے ہوتے ہیں ، انسان نے یہ محسوس کیا کہ علم کے حصول اور اس کی اشاعت میں ہی انسان کی اچھی شخصیت ، درندگی سے نجات ، اجتماعی زندگی اچھے سماج کی تعمیر ، تہذیب و شائستگی اور توہمات و جہالت کی جکڑ بندیوں سے آزادی جیسے عناصر مضمر ہیں تو ایسے محسوسات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حصول علم کی جانب متوجہ ہوا ، حصول علم کے بعد جو طبقہ علم کی اشاعت میں مصروف ہوا وہ استاد کہلایا جسے ہمارے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب نے ایک طرف پنڈت ، ادھیاپک ، گرو ، اپادھیہ ، اپدیشک ، شاستری ،اور شکشک کے نام سے یاد کیا تو دوسری طرف معلم ، مدرس ، استاد ، علامہ ، شیخ ، پیر ، آموز گاہ ، مربی ، واعظ ، خطیب ، ٹیچر اور ماسٹرز کے نام سے موسوم کیا ( استاد ایک عظیم شخصیت : 15 ) ۔۔۔۔ دور حاضر میں جبکہ دنیا گلوبلائزیشن کی طرف رواں دواں ہیں یہ بات مسلمہ ہے کہ وہی فرد یا قوم عالمگیریت کا مقابلہ کر سکتی ہے اور چیالینجس کو قبول کر سکتی ہے جو سائینسی علوم میں مہارت رکھتی ہو ، یا پھر وہ دولت مند ہو بد قسمتی سے مسلمان ان دونوں چیزوں میں پچھڑے ہوئے ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں ، پہلی وجہہ تو ان کے معاشی حالات ہیں اور دوسری وجہ تعلیم کے معاملے میں ان کی عدم دلچسپی ہے ، بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان و عقیدہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ دولت ، حکومت ، شہرت ، بلندی ، حسن و خوبصورتی اور عزت و شہرت ، جس کو چاہے اور جتنا چاہے عطاء کرتا ہے ، لیکن کہیں بھی یہ بات نہیں آئی کہ اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ کسی کو علم بھی یوں ہی عطا کرتا ہے ، علم وہ واحد شئے ہے جسے حاصل کرنا پڑتا ہے ، بلکہ حاصل کرتے رہنا پڑتا ہے ، ہم اکثر اوقات یہ سنتے ہیں کہ کوئی راتوں رات دولت مند بن گیا ، راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا ، راتوں رات سیاسی میدان میں بہت اونچائی پر چلے گیا ، لیکن کبھی ایسا نہیں سنا ہے کہ کوئی راتوں رات عالم فاضل بن گیا ، انجینئر بن گیا ، ڈاکٹر بن گیا ، سائینٹسٹ بن گیا ، کیوں کہ یہ سب بننے کے لئے محنت اور جستجو کرنی پڑتی ہے اور اس میدان میں جو جتنا محنت کرے گا وہ اتنا ہی آگے بڑھے گا ، اور ترقی حاصل کرتا رہے گا ، ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ تعلیم مسلمانوں کا گمشدہ سرمایہ اور مومن کی میراث ہے ، جہاں اسے پاؤ حاصل کرلو ، تعلیم سے ہی دنیا اور آخرت سنورنے والی ہے ، طلباء کی کردار سازی میں اور شخصیت کے ارتقاء میں معلم کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے ، ایک اچھا استاد اپنے شاگردوں کی کردار سازی کے لئے ہمہ وقت فکر مند رہتا ہے ، اپنے طلباء کے دل میں کدورتوں ، آلودگیوں اور تمام آلائشوں کو دور کرتے ہوئے اس کو ایمان ، خوف ، اتباع ، سنت و آخرت کی جواب دہی کے احساس سے معمور کرتا ہے ، آج کل کے دور میں اساتذہ اپنے پیشے کو صرف ذریعہ معاش نہ بناتے ہوئے اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں ، کسی نے تعلیم حاصل کرکے بھی جہالت کو شعار رکھا ہے ، اساتذہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے اپنے شاگردوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ اپنے پیشوں میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان بھی باقی رہیں ، اساتذہ تعلیمی ادارہ جات اور نصاب تعلیم کو بلند مقصد حیات اور فکر سازی کے رحجان سے آراستہ کریں ،
آخر میں اللّٰہ پاک سے دعاء ہے کہ اللّٰہ پاک ہمیں اپنے اساتذہ کرام کے حقوق کو یاد رکھنے اور ان کو پورا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ،آمین
تدریس کے شعبے سے جڑے ہوئے سبھی احباب کو یوم اساتذہ مبارک ہو ۔۔۔۔