*معیار تعلیم*

تمام تعریفیں اللّٰہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ،
اے نبی کہہ دیجئے کیا علم والے اور بے علم دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔
قرآن کریم کی یہ آیت بڑا بلیغ مفہوم رکھتی ہے ۔۔۔۔
اللہ تعالی نے آسمان سے زمین پر اقراء لفظ سے تعلیم کی شروعات کی ہے اور 1450 سال پہلے جو کتاب بھیجی گئی ہے جسے کتاب التقدیر بھی کہا گیا ہے اس کو پڑھ کر سمجھنے کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے اس میں کائنات کے اس تسلسل کو بھی بہت باریک بینی سے بتایا گیا ہے جسے ہر دور حاضر کے عصری پیمانے سے جوڑا گیا ہے ہمارے رول ماڈل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا کے ہر ایمان والے پر ذمہ داری دی گئی ہے کہ اسے سیکھتے رہیں اور عمل کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں ، اس ذمہ داری سے جڑنے والے لوگ بہت خوش قسمت ہیں اسی کو تعلیم کا نام دیا گیا ہے جیسا جیسا وقت گزرتا جا رہا ہے یہ تعلیم دور حاضر کے تقاضوں پر منحصر ہوتی جا رہی ہیں جس نے ذہن و دل سے محنت کر کے اسے قبول کر لیا اس نے جیت لیا الحمدللہ ،وہی علم کامیاب ہے جس میں آخرت کی تیاری ہو ، اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت شامل ہو اور قوم کی بھلائی ہو ، نئی نسل کی ترقی ہو ، جس سے معیار بلند ہوتا رہے ، معیار تعلیم میں دو صفات ہونی چاہیئے ،
ایک ادب اور دوسرا خدمت ،
ادب کی خدمت میں خالق کے معرفت و خشت سے لے کر تمام انسانوں ، اساتذہ ، والدین ، عزیز و اقارب بلکہ تمام مخلوقات کا اور ان کے حقوق کی ادائیگی مقصد ہو ،
خدمت سے مراد تمام مہارتیں ، سائنس ، ٹیکنالوجی ، فنون و علوم ، فلاح و انسانیت اور تسخیر کائنات کی طرف رجوع ہے ، ان سب کے لئے نصاب بھی ایسا مرتب ہو اور اسی کے مطابق امتحانات کے طریقے بھی طے ہوں، باقی مختلف ماہرین تعلیم نے معیار طے کئے ہیں ، معیاری تعلیم میں بعض انٹرنیشنل اسکول ہیں وہاں معیاری تعلیم ان کے اپنے طے کردہ معیار کے عین مطابق ہے مگر یہ معیار بذات خود اخلاق و انسانیت سے عاری ہیں، پہلا قدم معیار تعلیم طے کرنا ہونا چاہئے یعنی پورے عمل تعلیم اور نظام تعلیم کی انتہائی غائیت کیا ہو ، اسی سوال کا جواب میعار تعلیم ، تعلیم کا مقصد ، تعلیم کا پیمانہ طے کرے گا کہ تعلیمی معیار ہے یا نہیں ہے، معیار تعلیم کی تعریف ایک اضافی شے ہوگی ، جس کی اضافت مقصد تعلیم ہوگا اسی طرح مغربی نظریات کے حاملین کا مقصدِ تعلیم اور ہے اور اسلام کا اور۔۔۔۔۔ نظریات کا یہی ٹکراؤ کنفیوژن پیدا کرتا ہے ، اسلامی نقطہء نظر بالکل واضح ہے تعلیم کا مقصد ادب اور خدمت ہے، معیار تعلیم سے انسان میں اخلاق اور ادب نظر آئے گا ، معیاری تعلیم وہ تعلیم ہوتی ہے جس میں تعلیم کے تمام مقاصد کا حصول ہوتا ہے معیاری تعلیم حاصل کرنے کے بعد فرد میں مختلف مہارتیں آتی ہیں جس سے قوم اور سماج کو فائدہ ہوتا ہے اگر فائدہ نہ بھی ہو تو کم از کم نقصان نہیں ہوتا ، معیار تعلیم سے طلباء وطالبات کے کردار و عمل میں مناسب اور متوقع تبدیلی پیدا ہوتی ہے ، تعلیم وہ مسلسل عمل ہے جو صرف اسکول کی چار دیواری تک کہ محدود نہیں رہتا بلکہ اسکول اور اسکول سے باہر بھی جاری رہتا ہے اسکول کے اندر دی جانے والی تعلیم کو ہم رسمی تعلیم کہتے ہیں اور اسکول سے باہر دی جانے والی تعلیم کو ہم غیر رسمی تعلیم کہتے ہیں تعلیم کا مقصد انسانی کردار سازی اور عرفان خداوندی ہے تعلیم ایک آدمی کو انسان اور وحشی کو مہذب بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے جس تعلیم سے انسان انسان نہ بن سکے وہ فضول ہے ،
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے جس قوم کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے وہی قوم دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرتی ہے تعلیمی معیار سے مراد یہ ہے کہ تعلیم کس حد تک معیاری موثر اور عملی زندگی کے لئے مفید ہے سب سے پہلے اچھے تعلیمی معیار کے لئے نصاب کا معیاری ہونا ضروری ہے نصاب ایسا ہونا چاہئے جو طلبہ کی ذہنی اخلاقی اور عملی تربیت کرے ، صرف کتابی علم کافی نہیں بلکہ طلبہ کو تحقیقی ،تخلیق صلاحیت اور تنقیدی سوچ کی طرف راغب کیا جانا چاہئے ، دوسری اہم چیز اساتذہ کا کردار ہے ایک قابل تربیت یافتہ اور مخلص استاد ہی طلبہ کو صحیح علم اور رہنمائی فراہم کر سکتا ہے اگر اساتذہ خود اپنے مضمون پر عبور رکھتے ہوں اور جدید تدریسی طریقوں سے واقف ہو تو تعلیمی معیار خود بخود بہتر ہوتا ہے اسی لئے اساتذہ کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے ، تعلیمی اداروں کا ماحول بھی بہت اہمیت رکھتا ہے صاف ستھرا منظم اور سہولیات سی آراستہ ماحول طلبہ کو سیکھنے میں مدد دیتا ہے ، جدید ٹیکنالوجی جیسے کمپیوٹر انٹرنیٹ اور اسمارٹ کلاس رومز بھی تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، اس کے علاوہ طلبہ کی محنت اور دلچسپی بھی تعلیمی معیار کو متاثر کرتی ہے اگر طلبہ محنتی اور سنجیدہ ہوں تو وہ کم وسائل میں بھی بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں ،
معیار تعلیم پر عصری تعلیم (علوم )ایک فن ہے اور فن مہارت چاہتا ہے جس میں جس قدر مہارت ہوگی وہ اتنا ہی قابل ہوگا آج ہمارے پاس صرف اور صرف نصاب مکمل کرنے کی فیکٹریاں بنی ہوئی ہیں جو نصاب مکمل ہونے پر سند (والدین کے خرچ کی رسید) ہاتھ میں تھما دیتے ہیں ، جب طلباء وطالبات اپنی عملی زندگی میں کامیابی کے ساتھ ہر رشتے کو بخوبی نبھانا سیکھ جائیں ساتھ ہی ادب کو اہمیت دینے والے ہوں تو سمجھ لو کہ اسے معیاری تعلیم مل گئی ، جب تک ایک ایک طالب علم انسان بن کر انسانیت سے لبریز ہو جائے اور اپنی عملی زندگی میں کامیاب ہو تو سمجھو معیاری تعلیم مل گئی عموما تعلیمی سرگرمی انفرادی عمل نہیں ہے بلکہ اجتماعی تہذیبی اور معاشرتی عمل ہے اور اس حیثیت سے ایک طالب علم تعلیمی اداروں اساتذہ اور والدین سے ذمہ دارانہ رویہ اور مخلصانہ کوششوں کا طالب ہے شاعر مشرق نے کہا ہے کہ ,, اس دور میں تعلیم امراض ملت کی دوا ،، ۔۔۔۔۔
تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے نصاب ، اساتذہ ، ادارے ، طلباء وطالبات اور حکومت ، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ، جب یہ تمام عناصر مضبوط ہوں گے تو ایک مضبوط ترقی یافتہ اور باشعور معاشرہ وجود میں آئے گا ان شاءاللہ