*سرکاری دوغلی پالیسیاں اور سماجی آہنگی کا جنازہ*
(حالاتِ حاضرہ پر لاجواب تقریر)
*از مولانا فضیل اختر قاسمی بھیروی*
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین اما بعد!
*محترم سامعینِ کرام اور حکم صاحبان!*
آج میں جس عنوان پر گفتگو کرنے کی جسارت کرنے جا رہا ہوں، وہ صرف کوئی سیاسی یا سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ اس ملک کے اجتماعی ضمیر کا نوحہ ہے، اس معاشرے کی شکستہ سانسوں کی دھڑکن ہے، اور عوام کے سینوں پر برسوں سے رکھا ہوا وہ بوجھ ہے جس نے سماجی آہنگی کے تابوت کو کندھا دینے پر مجبور کر دیا ہے جس کا عنوان ہے: "سرکاری دوغلی پالیسیاں اور سماجی آہنگی کا جنازہ"
*معزز شرکائے بزم!*
ریاست کی بنیاد عدل پر ہوتی ہے، اصول پر ہوتی ہے، شفافیت پر ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے بالکل واضح انداز میں اعلان فرمادیا ہے:
﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡإِحۡسَانِ﴾ "بےشک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
مگر افسوس صد افسوس! جب فیصلہ سازی کا ترازو ٹوٹ جائے، جب اصول کی جگہ مفاد لے لے، جب انصاف کی کرسی پر ترجیحات بیٹھ جائیں، اور جب پالیسیوں کے چہرے پر مسکراہٹ ہو مگر ان کا دل دھوکے اور تضاد سے بھرا ہو تو پھر قومیں پُرامن نہیں رہتیں، معاشرے سلامت نہیں رہتے، دلوں میں آتش فشاں بیدار ہو جاتے ہیں۔
*معزز سامعینِ کرام!*
آج ہماری ریاستی پالیسیوں کا سب سے بڑا مرض دوغلہ پن ہے۔ ایک قانون طاقتور کے لیے نرم، کمزور کے لیے بجلی کا کوڑا؛ ایک پالیسی خواص کے لیے مخمل کا غلاف، عوام کے لیے دار و رسن؛ ایک معیار دوستوں کے لیے رعایت، قوم کے لیے وعید۔ یہی وہ عیارانہ اور مکارانہ رویہ ہے جس نے سماجی وحدت کی ریڑھ کی ہڈی چور چور کر دی۔ یہ دوغلا پن صرف قوانین میں نہیں… یہ معیشت میں ہے، تعلیم میں ہے، عدلیہ میں ہے، ترقیاتی منصوبوں میں ہے، بھرتیوں اور مراعات میں ہے، اور یہاں تک کہ زبان اور لہجے میں بھی ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے:
"إنما أهلك من كان قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد"۔ "تم سے پہلے قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتیں اور کمزور کو پکڑ لیتی تھیں۔"
آج یہی جرم ہم کررہے ہیں۔ فساد کی جڑیں وہیں ہیں، مگر پانی کمزور کی کچی دیوار پر بہایا جاتا ہے۔ اور یہ دوغلی پالیسی قوم کے شعور کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اعتبار کے ستون منہدم ہوتے ہیں۔ معاشرے کی رگوں میں بدگمانی دوڑتی ہے۔ اور بالآخر سماجی آہنگی کا جنازہ اٹھ جاتا ہے۔ ریاست جب انصاف کے بجائے چالاکی دکھائے، اصول کے بجائے عیاری کرے، اور قانون کے بجائے طاقت کے سامنے سجدہ کرے، تو پھر قومیں دشمن کی گولیوں سے نہیں مرتیں اپنے ہی نظام کی دو رخی سے مر جاتی ہیں۔
*محترم حاضرین بزم!*
اب میں اُن دوغلی پالیسیوں پالیسیوں کے وہ خفیہ تدبّرات، وہ دریدہ نقاب حکمتِ عملی، اور وہ مکاری سے بھری ہوئی ساخت آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں جنہوں نے اس قوم کی رگوں میں بےاعتمادی، محرومی اور احتجاج کی آگ سرایت کر دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی دوغلا پن کوئی عارضی بیماری نہیں بلکہ برسوں کے عدمِ عدل، بےاصولی اور استحصالی ذہنیت کا وہ زہر ہے جو اب کھل کر پورے معاشرے میں گردش کر رہا ہے۔ یہی وہ زہر ہے جس نے ہمارے عدالتی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے کہ ایک ہی عدالت میں ایک ہی جرم پر دو فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ ایک طاقتور کے قدموں میں بچھ جانے والا، اور دوسرا کمزور کے گرد پھندا تنگ کر دینے والا۔ قرآن اعلان کرتا ہے: ﴿وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ﴾ یعنی جب زبان کھولو تو عدل کرو، لیکن یہاں زبان عدل کی نہیں، مصلحت کی غلام بن کر رہ گئی ہے۔ پھر یہی دوغلا پن ہماری معیشت کو دو طبقوں کی جنگ گاہ بنا دیتا ہے کہ جہاں دولت مند کو خسارے میں بھی سہولیات ملتی ہیں اور غریب کو منافع میں بھی سزائیں ملتی ہیں۔ معاشی پالیسیاں خیرات کی طرح نہیں، قرضِ دار کی طرح غریب پر ٹوٹتی ہیں، جب کہ اشرافیہ کے محلوں کی دیواریں حکومتی سہارا بن کر اُنہیں ہر طوفان سے محفوظ رکھتی ہیں۔ یہی ناانصافی عوام کے دل میں یہ یقین اتار دیتی ہے کہ اس ملک میں عزت پیسے سے ملتی ہے کردار سے نہیں، اور حقوق جان پہچان سے ملتے ہیں محنت سے نہیں۔
اسی دوغلے نظام کی ایک نئی شکل تعلیمی تفاوت ہے جس نے قوم کے بچوں کو تین مختلف خانوں میں تقسیم کر کے ذہنی نابرابری کو ادارہ جاتی شکل دے دی ہے۔ ایک نصاب اشرافیہ کے لیے جو انہیں اقتدار کی راہداریوں میں لے جائے، دوسرا متوسط طبقے کے لیے جو انہیں ملازمت کے دروازے پر کھڑا رکھے، اور تیسرا غریب کے بچوں کے لیے جو انہیں عمر بھر معمولی مزدور بنائے رکھے۔ یہی وہ خاموش سازش ہے جس نے ذہنوں کی دنیا میں طبقاتی خلیج پیدا کی، اور سماجی آہنگی کی قبر مزید گہری کر دی۔ اس کے بعد انتظامی اداروں کی دو رُخی کو دیکھ لیجیے جہاں اصول نہیں، چہرے پہچانے جاتے ہیں؛ قابلیت نہیں، سفارش چلتی ہے؛ میرٹ نہیں، تعلقات کا راج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کا نوجوان محنت کر کے نہیں تھکتا، مگر امید کھو کر ضرور ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے لگنے لگتا ہے کہ اس ملک میں ٹھوکریں اس کا مقدر، اور کامیابی چند مخصوص طبقات کی موروثی ملکیت ہے۔ یہی دوغلی پالیسی معاشرتی نفسیات کو بھی مسموم کر دیتی ہے۔ جب عوام مسلسل دیکھتے ہیں کہ انصاف نہیں ملتا، موقع برابر نہیں ملتا، آواز کی کوئی وقعت نہیں رہتی، تو ان کے دل میں بغاوت کے شرارے بھڑک اٹھتے ہیں۔ لوگ قانون کو اپنا محافظ نہیں، اپنے خلاف ہتھیار سمجھنے لگتے ہیں۔ دلوں سے خوفِ قانون جاتا رہتا ہے، اور سماج انتشار کے دہانے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب سماجی آہنگی مر جاتی ہے۔ اور جب سماجی آہنگی مر جائے تو پھر قومیں ٹینکوں اور گولیوں سے نہیں ٹوٹتیں۔ بداعتمادی کے کانٹوں سے بکھر جاتی ہیں۔
*محترم سامعینِ کرام!-
اگر دوغلی پالیسیاں ایک نظام کی خرابی ہوتیں تو شاید کچھ دیر میں ٹھیک بھی ہو جاتیں، مگر جب ریاست خود دو رخی کو اصول بنا لے، ناانصافی کو معمول قرار دے دے، اور امتیازی سلوک کو حکمتِ عملی کا درجہ دے دے، تو پھر اس کی تباہی صرف فائلوں، بجٹوں یا دفتری میزوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورا معاشرہ اس کے طوفانی اثرات کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ آج ہم اسی طوفان کے عین وسط میں کھڑے ہیں۔ اس دوہرے نظام نے سب سے پہلے سماجی اخلاقیات کو کھوکھلا کیا۔ لوگوں کے شعور میں یہ بات پیوست ہو گئی کہ سچائی کامیابی کی راہ نہیں، بلکہ تعلق، سفارش، چمک اور چالاکی کامیابی کے زینہ ہیں۔ جب قوم کے ذہن میں یہ زہر اتر جائے تو پھر کردار کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ دلوں میں حرمت کا احساس مر جاتا ہے، اجتماعی اعتبار ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، اور لوگ قانون کی بالادستی کو نہیں بلکہ قانون کی بےبسی کو دیکھ کر ہنسنے لگتے ہیں۔ اخلاقی بگاڑ کی یہی کیفیت پھر ریاستی کمزوری کو جنم دیتی ہے، کیونکہ ریاست کا وقار قانون سے ہوتا ہے، اور قانون کا وزن اُس وقت اٹھ جاتا ہے جب اس کا نافذ کرنے والا خود دوغلا ثابت ہو جائے۔ یوں عوام کے دل میں حکومت کے لیے اعتماد باقی نہیں رہتا، اور حکومت عوام سے خوفزدہ رہتی ہے یہی عدمِ اعتماد کا وہ دوراہا ہے جہاں قومیں یا تو انقلاب کی لپیٹ میں آتی ہیں یا اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔
یہ دوغلا پن معاشرے کے ہر طبقے میں ایک خطرناک نفسیاتی تقسیم بھی پیدا کرتا ہے۔ کچھ لوگ اس نظام سے مایوس ہو کر کنارہ کش ہو جاتے ہیں، کچھ احتجاج کو اپنا ذریعہ بناتے ہیں، کچھ منافقت کو اوڑھ کر نظام کا حصہ بن جاتے ہیں، اور کچھ انتقام کی آگ میں جل کر قانون توڑنے کو حلال سمجھ لیتے ہیں۔ یوں قوم ایک جسم نہیں رہتی، ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔ جو ٹکڑے جتنا کمزور ہو، اتنا ہی کچلا جاتا ہے؛ اور جو جتنا طاقتور ہو، اتنا ہی بےخوف ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن نے اجتماعی ہلاکت کا نقطہ قرار دیا ہے: ﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفۡشَلُوا وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡ﴾
یعنی "آپس میں جھگڑو گے تو کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔"
*ملتِ اسلامیہ کے دھڑکتے دلوں!*
قوم کی ہوا اُس وقت اکھڑتی ہے جب قوم کا ضمیر زخمی ہو، دولت چند ہاتھوں میں قید ہو، انصاف چند چہروں کا غلام ہو، اور پالیسی چند مخصوص طبقات کے گرد گھومے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی قوم کو توپوں اور بموں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا دوغلی حکمرانی نے پہنچایا۔ روم اس لیے نہیں گرا کہ دشمن طاقتور تھا، وہ اس لیے گرا کہ اس کی حکومت اندر سے دو رخاپن اور بدعنوانی میں گل سڑ چکی تھی۔ بنو عباس اسی لیے کمزور نہ ہوئے کہ حملہ آور زیادہ تھے، بلکہ اس لیے کہ نظامِ ریاست دو عملی کا شکار ہو چکا تھا۔ ہر وہ قوم جس کے ایوانوں میں دوغلہ پن داخل ہو جائے، اس کے بازاروں میں انتشار، اس کے گھروں میں فساد اور اس کے مستقبل میں تاریکی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ لیکن میں اس گفتگو کو مایوسی پر ختم کرنے نہیں آیا۔ قومیں تباہ ہوتی ہیں مگر مَٹتی نہیں، اگر ان کے اندر سچ سننے، سچ کہنے، اور سچ کا راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ باقی ہو۔ اس تباہی کا علاج ہے، اور بہت واضح علاج ہے۔ اس قوم کو بحالی کے لیے سب سے پہلے حکمرانوں کے چہروں سے زیادہ ان کے کردار پر نظر رکھنا ہوگا۔ عدل کو قانون کی شرط نہیں، مزاجِ ریاست بنانا ہوگا۔ پالیسی کو طاقت پر نہیں، اصول پر استوار کرنا ہوگا۔ عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس ملک میں حق کی قدر دولت سے زیادہ ہے، اور عزت سفارش سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔ جب تک ہم طاقتور کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے سختی کا یہ ظلم بند نہیں کرتے، تب تک کسی منصوبے، کسی تقریر، کسی نعرے سے سماجی آہنگی بحال نہیں ہو سکتی۔ قوم اس وقت اٹھتی ہے جب وہ سیکھتی ہے کہ سب برابر ہیں قانون کے سامنے، حق کے سامنے، ریاست کے سامنے اور اللہ کے سامنے۔
اور اگر حکمرانوں کے کان بہرے ہو جائیں، اور ایوانوں کی دیواریں سچائی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹا دیں، تو یاد رکھیں کہ اللہ کے نظام میں دیر تو ہے، اندھیر نہیں۔ وہ قومیں جو اپنی اجتماعی غیرت بچا لیتی ہیں، اللہ انہیں کبھی بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ وہ ان کے لیے ایسے دروازے کھولتا ہے جو سیاست کے نقشوں پر موجود نہیں ہوتے۔ وہ ایسے راستے دکھاتا ہے جو طاقتوروں کی آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ قوم دوغلے پن کی جڑ کاٹنے کا فیصلہ کرے اپنے کردار سے، اپنی آواز سے، اپنے احتجاج سے، اور اپنی دیانت سے۔ اب اخیر میں اعلان کرتا ہوں: جس قوم کی پالیسی دوغلی ہو جائے اس کی وحدت مر جاتی ہے، مگر جس قوم کا عزم سچا ہو جائے اس کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم دوغلی پالیسیوں کے غلام رہیں یا اپنی نسلوں کو انصاف کی روشنی میں زندہ دیکھیں۔ باری تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اس دوغلی پالیسی کا غلام بننے سے بچائے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیقِ ارزانی نصیب فرمائے آمین
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
*از مولانا فضیل اختر قاسمی بھیروی*
متعلم شعبۂ تخصص فی الفقہ و الافتاء والقضاء دارالعلوم حیدرآباد تلنگانہ
25 نومبر 2025ء بروز سوموار
وقت قبل الفجر 5:07