*روشنی کا سفر* 

✍🏻 *گل رضاراہی ارریاوی* 

   روشنی کسے پسند نہیں؟ کون ہے جو روشنی سے دور بھاگتا ہو؟آج کے دور میں جب کہ دنیا مختلف قمقموں سے جگمگاتی ہوئی نظر آتی ہے،جہاں بجلی کے غائب ہونے سے انسان حیران و پریشان ہو جاتاہے ،خوف و ہراس مبتلا ہو جاتا ہے ، بے اطمینانی محسوس کرتاہے ،چہرے پھیکے پڑجاتے ہیں ، کارکنان شہنشاہ کو بعض مرتبہ گالیاں سننی پڑتی ہے،اس پر بحثیں کی جاتی ہیں فلاں علاقے میں بجلی نہیں پہونچی ،یا بجلی نہیں آرہی ہے ایسے دور میں روشنی کتنی محبوب چیز ہے؟ یہ ہم اور آپ بخوبی جانتے ہیں -

  ہمارے ابتدائی دور میں روشنی کا چلن عام نہیں تھا ، چراغ جلاۓ جاتے تھے ،لالٹین کے ذریعے سے ہم روشنی کا کام کرتے تھے ،ابتدائی تعلیم میری اسی روشنی سے حاصل کی ،گرمی لگتی تھی تو آنگن میں سوتے تھے یا پھر گھر میں ہی ہاتھ والے پنکھے ہلاتے ہلاتےسو جاتے تھے ،دن کی گرمی کو درخت نیچے بیٹھ کر برداشت کرلیتے تھے گویا کہ اندھیرے اور گرمی سے زیادہ کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی تھی کیوں کہ اندھیرے میں رہنے اور گرمی سہنے کی عادت تھی پھر زمانے نے ترقی کی ،بجلی کا دور آیا ،رفتہ رفتہ اس کی عادت ہوگئی بلکہ لت لگ گئی اب یہ ایسی عادت ہوگئی کہ اب اس کے بغیر جینا مشکل ہوگیا ، اس کا مجھے اور میرے ساتھیوں کو گزشتہ دنوں احساس ہوگیا تھا ، بات در اصل یہ ہے کہ ہم روشنی کے عادی ہوگیے ،اس کے بغیر ہمارا کوئی کام نہیں چلتا ہے ،لیکن آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اصل روشنی کیا ہے ؟اصل سکون کس چیز میں ہے؟ اگر نہیں تو میں آپ کو بتاتا ہوں -
آئیے !
انسان جسم اور روح سے مرکب ہے ان میں سے کسی ایک کا عدم دنیاوی وجود کے عدم کا ثبوت ہے ،جسم کو زمینی غذا سے قوت ملتی ہے ، ہم کھاتے پیتے ہیں تو ہمارا جسم پلتاہے بڑھتا ہےاور ہم خود کو طاقت ور محسوس کرتے ہیں -

  جسم کی قوت روح کے قوت کو مستلزم نہیں اور نہ روح کی قوت جسم کی قوت کو مستلزم ہے ،ممکن ہے ایک آدمی جسمانی اعتبار سے نخیف وناتواں ہو، پر روحانی اعتبار سے بہت قوی ہو ،ایسا ہوسکتا ہے ایک آدمی جسمانی اعتبار سے فربہ ہو مگر روحانی اعتبار سے ضعیف ولاغر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک آدمی جسمانی و روحانی دونوں اعتبار قوی ہو ،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی جسمانی و روحانی دونوں اعتبار کمزور ہو ، آپ کہہ سکتے ہیں دونوں میں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے -

   اب ہمیں یہ دیکھنا ہے ہم کس گروہ میں ہیں؟ اگر ہم پہلی قسم میں ہیں تو یعنی روحانی اعتبار سے پر قوت ہے تو یہ اس کے لیے خوبی کی بات ہے-

   کوئی اگر دونوں اعتبار سے قوی ہو تو نور علی نور 
اور کوئی دونوں اعتبار سے ضعیف ہو تو یہ بہت دکھ کی بات ہے ،اگر کوئی روحانی اعتبار کمزور ہو جسمانی اعتبار سے قوی ہو تو اسے روحانی قوت حاصل کرنے میں زیادہ پریشانی نہیں تھوڑی محنت سے تو روحانی قوت حاصل ہوسکتی ہے ؛لیکن جو جسمانی و روحانی دونوں اعتبار سے ضعیف ہو تو اس کے لیے بھی کچھ مشکل نہیں ، اگر عزم مصمم کرلے تو تھوڑی محنت و کوشش سے یہ قوت حاصل ہوسکتی ہے-

اب سوال یہ ہے کہ ہم روحانی قوت کیوں حاصل کریں ؟ اس کا کیا فائدہ ہے ؟ 

تو سنیے !
   ماقبل میں ہم نے روشنی کا ذکر کیا تھا اور اس کی محبوبیت کا بھی ذکر کیا تھا کہ اگر روشنی نہ ہو تو ہم کس طرح پریشان ہو جاتے ہیں؟ روشنی حاصل کرنے کے ذرائع تلاش کرتے ہیں ،سکون و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں گویا روشنی میں انسان سکون محسوس کرتاہے ،فطرت بھی روشنی کی طرف کشید ہوتی ہے ،اس کو اگر جاننا ہوتو زمانۂ قدیم کے مسافروں کا مطالعہ کیجیے کیسے روشنی دیکھتے ہی اس کی طرف بھاگتے ہیں
اور سمجھتے ہیں کہ اگلی منزل کےلیے کچھ نہ کچھ رہنمائی مل جاۓ گی-
موسی علیہ السلام کا واقعہ جس کو قرآن نے سورۂ طہ میں ذکر کیا ہے جب انہوں نے آگ کو دیکھا تو اپنی بیوی سے کہا کہ تم رکو میں آگ دیکھ رہاہوں ہوسکتاہے کہ میں اس کا انگارہ میں تمہارے پاس لاؤں یا آگ کے پاس راستہ کی اطلاع پاؤں

( سوره طہ آیت 10) 

الغرض !روشنی میں ایک کشش جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور دل بھی اس کی طرف مائل ہوتا ہے؛لیکن آپ نے کبھی سوچا ہے حقیقی روشنی کیا ہے؟اصل سکون کس روشنی میں ہے ؟
    آپ اگر غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ دنیا کی خاک چھاننے کے بعد بھی وہ سکون نہیں جو ایک انسان کو چاہیے، کیوں کہ رب تعالیٰ اصل سکون نور ایمانی اور نور الٰہی میں رکھی ہے،جو سکون اس روشنی میں ہے وہ کسی اور روشنی میں نہیں،ایک انسان ظاہری چمک دمک میں ہو مگر نور ایمانی اور نور الٰہی سے محروم ہوتو اس کو کبھی سکون نہیں ملتا کیوں کہ وہ فطرت سے دور ہے، ظلمت کی گھٹا اس پہ چھائی ہوکہ وہ باطن کی روشنی سے محروم ہے-

    اصل سکون اس کو اپنے رب کے بارگاہ میں ملے گا،ذہنی سکون ،جسمانی سکون اور فطری سکون ایک انسان کو اسی میں ملے گی جب اسے ایمانی نور حاصل ہوگا رحمت الٰہی خصوصی طور پر اس کی طرف متوجہ ہوگی ،یہ دولت اس وقت حاصل ہوگی ، جب وہ ایک خدا کی طرف آکر جیبن نیاز خم کرے گا گناہوں کی زندگی سے نکل کر طاعت زندگی کی اختیار کرے گا ،آہ و زاری سے اپنے رب کو مناۓ گا ، باطن ظلمت پر نادم و پشیماں ہوگا ،ذکر الہیٰ سے دلوں کو مطمئن کرے فا،یاد الٰہی میں سرمست ہوگا تو منزل ملے گی ، روحانی سکون عطاء ہوگا ،اخلاص کی دولت نصیب ہوگی ،زندگی میں انقلاب آۓ گا ،زندگی بدل جاۓ گی ،جینے کا طریقہ بدل جاۓ گا، چہرے سے ظلمت ختم ہوگی ،نور سے چہرہ منور ہوگا جیساکہ اللہ والوں کا چہرہ ہوتاہے ،بندہ کتنا چھپ کر عبادت کرے اللہ تعالیٰ قلبی سکون چہرہ کا نور دے کراس کو ظاہر کرتا ہے -
    مومن بلکہ مخلوق خدا کو چاہیے کہ وہ اپنے حقیقی رب کی طرف، اپنے اصل خالق کی طرف دوڑ لگائے، اپنی زندگی کو بدلنے کی فکر کرے ،روشنی کا اصل سفر یہی ہے جو اس کے علاوہ میں نور تلاش کرے ،اس کے علاوہ سکون وراحت تلاش کرے گا اسے کبھی بھی سکون نہیں ملے گا ،کیوں کہ وہ قلبی سکون وراحت کا درست سبب اختیار نہیں کررہاہے ،مال ودولت میں جو سکون ڈھونڈتے ہیں وہ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں ،کیوں کہ مال ودولت ضرورت پوری کرتی ہے سکون نہیں دیتی کیوں سکون کا سفر روشنی میں ہے اور روشنی کا سفر رب تعالیٰ کی طاعت وبندگی ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو مطیع و فرمانبردار بندہ بناۓ آمین