ہمارے ملک ہندوستان میں مختلف طرح کے مدارس ہیں ان کی الگ الگ خصوصیات ہیں وہ الگ الگ مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ سب امت کے مدارس ہیں اور ان میں بنیادی طور پر دین کی تعلیم ہوتی ہے ان مدارس کے درمیان دوریاں بھی پائی جاتی ہیں لیکن ہمیں ان دوریوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے ویسے بھی وہ دوریاں ہم نے پیدا نہیں کی ہیں وہ تو صدیوں سے چلتا آرہا ہے تو ہم ان کا حصہ کیوں بنیں؟
ہمارا حق بھی ہے اور ہمارا فرض بھی ہے کہ ہم تمام دینی مدارس کو اپنی درس گاہ تمام اہل علم کو اپنا معلم اور دینی مدارس کے تمام طلبہ کو اپنا ہم سبق سمجھیں اور ان کے ساتھ خیر خواہی اور اخوت کا رشتہ قائم رکھیں۔ اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو ایک مدرسے سے فراغت کے بعد ان دوسرے مدارس میں بھی داخلہ لیں جو کسی اور میدان میں امتیازی تعلیم کے لیے معروف ہوں۔
مدارس سے فراغت کے بعد تخصص کے لیے مختلف ادارے ہیں ان میں داخلہ بھی صرف تعلیمی استعداد بڑھانے کی رغبت کے تحت لیں اور کسی مکتب فکر سے تعلق اس راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو طلبہ مختلف مکاتب فکر کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کا علمی اور فکری افق وسیع تر ہو جاتا ہے ان کے دل میں کشادگی بھی زیادہ ہوتی ہے اور ملی شعور گہرا اور قوی تر ہوتا ہے۔
اور ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم بھی حاصل کریں یہ عصرِ حاضر کے لحاظ سے اس کی اشد ضرورت ہے۔